کرشماتی لیڈر ایردوان کی فتوحات کی وجوہات

13

ڈاکٹر فرقان حمید
24 جون کے صدارتی اور پارلیمنٹ کے بیک وقت انتخابات میں صدر ایردوان اور ان کی جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی کی مسلسل کامیابیوں پر نہ صرف ترکی بلکہ دنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پاکستان کے صدر مملکت ممنون حسین، نگراں وزیراعظم ناصر الملک اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے صدر ایردوان اور وزیراعظم بن علی یلدرم کو مبارکباد کے پیغامات روانہ کیے۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ترکی زبان میں پیغام روانہ کرتے ہوئے صدر ایردوان سے اپنے خصوصی مراسم کو بھی اجاگر کیا۔ پاکستان کے عوام اور بڑی تعداد میں میڈیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے براہ راست طور پر اور راقم کے توسط سے بھی صدر ایردوان اور ان کی جماعت کو مبارکباد پیش کی۔ پاکستانی صحافیوں نے اس بار بھی ترکی کے انتخابات کی کوریج اور انتخابات کے نتائج کے ایک ہفتہ قبل سو فیصد حد تک درست پیش کرنے پر راقم کو بھی مبارکباد پیش کی۔ ان تمام صحافی حضرات کا فرداً فرداً میرے لیے شکریہ ادا کرنا ممکن نہ تھا اپنے اس کالم کا سہارا لیتے ہوئے ان سب حضرات کو شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔
24 جون 2018ء کے صدارتی اور پارلیمنٹ کے بیک وقت انتخابات میں برسر اقتدار جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی (آق پارٹی ) کی مسلسل تیرہویں فتح بلکہ صدارتی اور پارلیمنٹ دونوں کے انتخابات کو ایک دوسرے سے الگ گرتے ہوئے دیکھا جائے تو یہ آق پارٹی کی مسلسل چودہویں کامیابی ہے۔ آق پارٹی اس سے قبل پانچ عام پارلیمانی انتخابات (2007،2002، 2011، 7 جون 2015 اور یکم نومبر 2015) تین بلدیاتی انتخابات ( 2004، 2009، 2014 ) اور ایک بار صدارتی انتخابات( 2014ء) جیتنے کے علاوہ تین بار ریفرنڈم میں مسلسل کامیابی حاصل کرچکی ہے۔ اس سے قبل ترکی میں یا دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک میں کسی بھی سیاسی جماعت اور سیاسی لیڈر کو اس طرح تسلسل کے ساتھ کامیابی نصیب نہیں ہوئی ہے جس طرح ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان اور ان کی جماعت آق پارٹی کو نصیب ہوئی ہے۔ صدر ایردوان اور ان کی جماعت آق پارٹی 2023ء تک اپنے اس اقتدار کو جاری رکھتے ہوئے دنیا کے جمہوری ممالک میں طویل ترین اقتدار رکھنے کا ایسا ریکارڈ قائم کریں گے جس کو توڑنا آسان نہ ہوگا۔ ترکی کی 68 سالہ جمہوری عہد کی اس تاریخ ساز شخصیت کی کامیابی کی وجوہات پر اپنے اس کالم میں ایک ایک کرکے روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا تاکہ دنیا کے جمہوری ممالک اور خاص طور پر پاکستان بھی صدر ایردوان کی ان کامیابیوں سے سبق حاصل کرسکیں اور اپنے عوام کی بھی طویل عرصہ خدمات کرسکیں۔ صدر ایردوان کی ترکی کی سیاست میں اب تک کی کامیابی میں سب سے اہم عنصر ، ان کا بلا شبہ دائیں بازو کا روایت پسند یا کنزرویٹو سیاستدان ہونا ہے کیونکہ ترکی میں بائیں بازو کی کسی بھی جماعت کے لیے انتخابات میں پہلی پوزیشن حاصل کرنا کئی ایک دہائیوں سے ممکن نہیں ہے اور آئندہ بھی کئی ایک دہائیوں تک ممکن دکھائی نہیں دیتا ہے۔ موجودہ حالات میں ترکی کی سیاست میں ایسا کوئی سیاسی رہنما دکھائی نہیں دیتا ہے جسے صدر ایردوان کا مستقبل میں متبادل قرار دیا جاسکتا ہو۔ کرشماتی لیڈر ایردوان کو ترکی کی سیاسی تاریخ میں اپنے کام اور امور کو ایک منظم پروگرام اور شیڈول کے تحت ہی بسر کرنےکی وجہ سے دیگر سیاستدانوں پر برتری حاصل ہے۔ صدر ایردوان اپنے صدارتی فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایک دن میں دو ، دو تین ، تین جلسوں ، افتتاحی تقریبات اور دیگر سیاسی تقریبات میں ہمیشہ خود شرکت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جو ان کی کامیابی کہ وسیلہ بھی سمجھاجاتا ہے۔ صدر ایردوان اپنے فنِ خطابت کی بدولت لوگوں کو اپنے سحر میں مبتلا کرنے کے فن سے خوب آشنا ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگ جوق در جوق ان کی جانب کھینچے چلے آتے ہیں اور پھر ان کی پارٹی کا حصہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ ان کا نمازِ جمعہ کے لیے کسی بھی محلے کی مسجد میں چلے جانا اور وہاں جمع لوگوں میں گھل مل جانا اور لوگوں کا اُن کو اپنے گھر چائے پر مدعو کرنا اور ایردوان کا بغیر کسی تردد کے ان کی دعوت قبول کرتے ہوئے ان کے گھر چلے جانا، ان کے ایک عوامی لیڈر ہونے کی عکاسی کرنے کے ساتھ ساتھ صدر ایردوان میں تکبر کا ذرہ بھر بھی کوئی شائبہ موجودہ نہ ہونے کا بھی پتہ دیتا ہے جس کی وجہ سے لوگ ان کی جانب مقناطیس کی طرح کھینچے چلے آتے ہیں۔ ان کے برعکس ان کے سب سے بڑے حریف اور ری پبلیکن پیپلز پارٹی (محرم اِنجے کی بھرپور کوششوں کے باوجود اناطولیہ کے عوام آج تک اس جماعت کے مذہب دشمن جماعت ہونے پریقین کرتے چلے آرہے ہیں ) کے صدارتی امیدوار محرم اِنجے کی مختلف پوسٹرز پر نمازِ جمعہ پڑھتے ہوئے لگائی گئی تصاویر پر کسی نے بھی یقین نہ کیا اور ان کو کئی بار اپنے ان جلسوں میں پندرہ سال ہی کی عمر میں بڑی باقاعدگی سے نمازِ جمعہ کی ادائیگی کرنے سے آگاہ کرنے کے باوجود کسی نے بھی ان کی اِن باتوں پر یقین نہ کیا بلکہ اپنی ہی پارٹی کے اندر سے اس قسم کا بیان دینے پر سرزنش کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن عوام کو اس کا باور کروانے میں ناکام رہے اور ان کی پارٹی کی مذہب سے متعلق پالیسی تبدیل کرنے کی کوشش بھی دھری کی دھری رہ گئی۔ ایردوان کو جدو جہد کرنے والے، آسانی سے ہار نہ ماننے والے اور مشکلات کے سامنے ڈٹ جانے والے رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور ان کی یہی صلاحیت ان کو دیگر تمام لیڈروں سے ممتاز کرتی ہے۔ ان پر امریکہ، جرمنی، فرانس اور اسرائیل کی جانب سے جس طریقے سے دباؤ ڈالا جاتا رہا اور نشانہ بنایا جاتا رہا انہوں نے ان ممالک کی ذرہ بھر بھی کوئی پراہ نہ کی اور ان ممالک کے رہنماوں کی جانب سے جب بھی صدر ایردوان کے خلاف سخت بیان جاری کیا گیا تو صدار ایردوان نے ترکی بہ ترکی ان کا جواب دیتے ہوئے ان پر اپنا سکہ قائم کیے رکھا حالانکہ وہ اس بات سے اچھی طرح آگا تھے اس سے ان کے ملک کے لیے مشکلات کھری ہوسکتی ہیں ۔ ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم میں اسرائیل کء اس وقت کے صدر کو کھری کھری سنانا صدر ایردوان ہی کا خاصہ تھی جس نے صدر ایردوان کو فلسطینیوں کے دلوں مین ہمیشہ ہمشہ کے بسادیا۔ صدر ایردوان ترکی ہی میں دنیا بھر میں ایک عظیم اسٹریٹجسٹ کے طور پر جانے اور پہچانے جاتے ہیں ۔ ان کی فہم و فراست کا دنیا کو کوئی لیڈر بھی ثانی نہیں اور ترکی کے تمام ہی عقل و شعور رکھنے والے افراد صدر ایردوان کی اسٹریٹیجی سے بہت متاثر نظر آتے ہیں۔ صدر ایردوان نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جب سے آق پارٹی کو تشکیل دیا ہے اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی جماعت کی ترکی میں موجودہ حیثیت کا جانچنے کے لیے سروئے کمپنی کی بھی خدمات حاصل کیں اور اس وقت سے لے کر وہ ہمیشہ ہی سے مسلسل اپنی جماعت کی عوام میں مقبولیت کا سروے تسلسل کے ساتھ کرواتے چلے آرہے ہیں اور پھر ان سروئیز ہی کی روشنی میں وہ اپنی جماعت کی پالیسی واضح کرتے ہیں۔ انہوں نے 7 جون 2015ء میں جب اپنی پارٹی کو واضح اکثریت نہ ملی توایسی اسٹریٹجی اختیار کی کہ تمام ٘خلافین ان کی اس اسٹریٹجی کے چکر میں آگئے اور اور پھر یکم نومبر 2017 کو قبل از وقت انتخابات کروا کر ایک بار پھر بُری طرح تمام سیای جماعتوں کو مات کرتے ہوئے بھاری اکثریت حاصل کی۔ جب ہم 15 جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں تو ترکی میں اس سے قبل فوج نے جتنی بار بھی ملک میں اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی وہ سیاستدانوں کو کو گرفتار کرتے ہوئے ملک کے اقتدار پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہے جبکہ صدر ایردوان نے ترکی کی تاریخ کے تمام سیاستدانوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اور مستقبل کے لیے ایک ایسا راستہ اختیار کیا جس سے سیاستدانوں کے سر فخر سے بلند ہوگئے اور سب صدر ایردوان سے تعاون کرتے ہوئے فوج کے ملک کے اقتدار پر قبضے کی راہم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کردی اور 24 جون 2018ء کو صدارتی اور پارلیمنٹ کے انتخابات کے دوران ری پبلیکن پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار محرم اِنجے کے سوا کسی بھی صدارتی امیدوار کے بارے میں ایک لفظ نہ کہا بلکہ ان کونظر انداز کرتے ہوئے دراصل پہلے ہی راونڈ میں صدارتی انتخابات جیتنے کی راہ ہموار کرلی تھی۔ ایردوان اقتدار سنبھلانے سے اب تک ترکی کو دنیا کے سولہویں بڑے اقتصادی ملک کی حیثیت دلوا کر اور انتخابات سے قبل ملک میں ڈالر کی شرح قدر میں ہونے والے اضافے اور ترک لیرے کی شرح قدر میں بڑے پیمانے پر کمی کے باوجود شرح ترقی کو 7٫4 فیصد رکھ کر اسپی اسٹریٹجی پر اس طریقے سے عمل کیا کہ عوام کو لیرے کی قدر میں کمی کے باوجود صدر ایردوان پر اعتماد نے ان کی کامیابی کی راہ ہموار کی۔ صدر ایردوان کی کامیابی کی ایک وجہ جسے ابھی تک نظر انداز کیا جا رہا ہے ری پبلیکن پیپلز پارٹی اور ان کے صدارتی امیدوار محرم اِنجے کو خوش فہمی میں مبتلا ہونا اور یہی خوش فہمی ری پبلیکن پیپلز پارٹی اور حرم اِنجے کی شکست کا بھی باعث بنی ہے۔
یہ ہے ایک ایسا لیڈر جس کی اسٹریجی کی دنیا بھر میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔