امریکہ کا ڈالر اور ایردوان کا اللہ

5

ڈاکٹر فرقان حمید

گزشتہ ہفتے جمعے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے تحریر کردہ ٹویٹ میں ترکی پر فولاد اور ایلومینیم پر ٹیرف کو دگنا کرنے کا اعلان کیا گیا جس کے فوراً بعد ہی ترک لیرے کی قدر میں بیس فیصد کمی دیکھی گئی۔ صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں ترکی کو خبردار کرتے ہوئے لکھا کہ ” ترک لیرا ہمارے مضبوط ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہے اور امریکہ کے ترکی کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ “امریکہ نے کئی ایک وجوہات کی بنا پر ترکی کے ساتھ خراب ہونے والے تعلقات (حالانکہ دونوں ممالک نیٹو میں اتحادی ہیں) کی آڑ میں اور ترکی کو سبق سکھانے کی غرض سے فولاد اور ایلو مینیم پر ٹیرف کو دگنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی صدر کے اس بیان کے فوراً بعد ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ” ان کے پاس ڈالرز ہیں تو ہمارے پاس اللہ اور ہمارے عوام ہیں۔ ” ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ” امریکہ کے ساتھ شروع ہونے والی اقتصادی جنگ کے نتیجے میں فتح مبین ان کے ملک کو جبکہ امریکہ کو شکست ہوگی۔ وہ کسی بھی صورت امریکی دھمکیوں میں نہیں آئیں گے۔ 15 جولائی 2016ء میں ترکی کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کی منصوبہ بندی کرنے والے اب ترک معیشت کو ہدف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ” انہوں نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں صدر ٹرمپ کو خبردار کرتے ہوئے اگر انہوں نے اپنے یک طرفہ اور غیر مہذب رجحانات کو ترک نہیں کیا تو ترکی اپنے لیے نئے دوستوں اور اتحادیوں کی جانب راغب ہونے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔ انہوں نے لکھا کہ امریکہ کو شرم آنا چاہیے کہ وہ ایک پادری کی خاطر نیٹو اتحادی ملک سے تعلقات خراب کر رہا ہے۔نیٹو کے دونوں اتحادی ممالک امریکہ اور ترکی پادری انڈریو برنسن کے علاوہ بھی کئی ایک موضوعات پر اختلافات موجو ہیں جن میں شام میں ترکی کی دہشت گرد تنظیم ” پی کےکے” کی ایکسٹینشن “پی وائی ڈی/ وائی پی جی” کی امریکہ کی جانب سے پشت پناہی، داعش، ترکی کے روس سے میزائل ڈیفیس سسٹم کی خریداری، 15جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت کے مسٹر مائنڈ فتح گولن کی امریکہ میں پناہ اور ترکی کے حوالے نہ کیے جانے جیسے موضوعات سر فہرست ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات آنے والی سرد مہری کی وجہ سے ترک لیرا کی قدر میں اس سال کے آغاز سے اب تک قریب 40 فیصد کمی ہو چکی ہے اور گزشتہ جمعے کے روز ٹرمپ کے ترکی کے خلاف اعلان کے بعدترکی کی کرنسی کی قدر و قیمت میں صرف ایک دن میں 20 فیصد کے لگ بھگ کمی دیکھی گئی ہے۔ ذرائع بلاغ کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں یہ کمی ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اس کمی سے ترک معیشت کو شدید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے اور اُس کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی سے کاروباری حضرات کو شدید نقصان کا قوی امکان ہےجبکہ امریکہ کے ان اقدامات کی وجہ سے ترکی کی معیشت کو آئندہ چند ہفتوں تک مزیدجھٹکے لگنے اور ترک لیرا کی قدرو قیمت میں مزید کمی ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں جبکہ ترک کرنسی کی قدر میں کمی سے یورپی مالی منڈیوں میں بھی بےچینی دیر تک رہنے کا امکان موجود ہے۔ علاقائی بینکنگ سیکٹر کو ترک امریکی تنازعے کے منفی اثرات اس پربھی مرتب ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔
امریکہ کے شدید دباؤ کے باوجود پادری انڈریو برنسن کو رہا نہ کیے جانے پرصدر ٹرمپ نے ترکی پر کئی ایک پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ترک نائب وزیر خارجہ کے حالیہ دورہٴ امریکہ کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کے دور ہونے کی توقع کی جا رہی تھی لیکن پادری انڈریو کے مسئلے نے نیٹو کے ان دونوں اتحادیوں کو ایک دوسرے سے دور کردیا ۔
ترک کرنسی کو پہنچنے والے اس نقصان پر صدر رجب طیب ایردوا ن نےصدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا ہے کہ ” امریکی ڈالر ہمارا راستہ نہیں روک سکتا۔ 15 جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت میں منہ کی کھانے والوں کو ترکی کے تمام ہی شعبوں ترقی ہضم نہیں ہو پا رہی وہ اب ڈالر کے ذریعے ترکی کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں ۔” انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کا براہ راست نام لیے بغیر یہ بھی کہا کہ “ترکی کے اقتصادی دشمنوں نے انقرہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہ بد نیت حلقے ڈالر کی قیمت چڑھا کر ترکی کے خلاف آپریشن کرنا اور ملک کے دفاعی میکانزم کو کمزور کر کے ملت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ترکی کے ساتھ کھیلے جانے والے اس کھیل سے پوری طرح آگاہ ہیں اور ترکی کونیچا دکھانے کو کوئی موقع نہیں دیں گے بلکہ ملکی پیداوار اور خاص طور پر جدید دفاعی ہتھیاروں کی مقامی سطح پر پیداوار میں اضافے، برآمدات میں اضافے، روزگار کو فروغ دینے اور ریکارڈ سطح پر ترقی کرننے کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور اگر آپ ڈالر کو ترک کرنسی کی قدرو قیمت کو کم کرنے کے مقصد کے لیے استعمال کریں گے تو ہم کئی ایک ممالک کے ساتھ ڈالر کی جائے اپنی اپنی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دیتے ہوئے دنیا کے لیے تجارت کے نئے راستے بھی کھول سکتے ہیں۔ ” انہوں نے امریکہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ” ہم نے افغانستان میں، صومالیہ میں اور بوسنیا میں آپ کا ساتھ دیا۔ اس وقت کابل میں آپ کے ہوائی اڈے کا دفاع بھی ترک فوجی دستے کررہے ہیں ۔ ترکی پر پابندیاں لگانے سے قبل اپنے اس اسٹریٹجیک پارٹنر کی ان تمام صلاحیتوں اور خوبیوں کا اچھی طرح اندازہ لگانے کی ضرورت ہے۔ امریکہ اس وقت قانون کی زبان سمجھنے سے قاصر ہے لیکن امریکہ کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ترک بھی اسی قسم کی زبان بولنے میں کسی سے کم نہیں ہیں۔ امریکہ کو اپنے اتحادی ملک ترکی کی اہمیت اور بقا کا خیال رکھنا چاہیئے بصورت دیگر یہ اتحاد کسی وقت بھی ختم ہوسکتا ہے۔”
ترکی کی وزارتِ تجار ت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ترکی پراسٹیل اور ایلومونیم پر ٹیکس عالمی تجارتی اصولوں کے خلاف ورزی ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے عوام سے خطاب میں کہا کہ وہ غیر ملکی کرنسی اور سونے کو لیرا میں تبدیل کرائیں کیونکہ ترکی اس وقت ’معاشی جنگ‘ سے دو چار ہے۔