نئی دہلی: (ملت ٹائمز – پریس ریلیز) ملک کے مایہ ناز صحافی ، ہندومسلم اتحاد کے علمبردار، سماجی کارکن جناب کلدیپ نیر کے انتقال پر صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشدمدنی نے اپنے گہرے رنج و دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جناب کلدیپ نیرصاحب ایک حق گو غیر جانب دار صحافی تھے وہ وہی کچھ لکھتے تھے جیسا وہ دیکھتے اور محسوس کرتے تھے ، آنجہانی کلدیپ نیر سے سالوں سے میرے ذاتی تعلقات تھے، اپنی پیرانی سالی اور دیگر امراض کے باوجود جمعیۃ علماء ہند کے تمام ہی پروگرام میں شرکت کرتے تھے، قابل ذکر ہے کہ تقسیم وطن کے وقت دوسرے لوگوں کے ساتھ قانونی تبادلہ آبادی کی وجہ سے انہیں بھی اپنے وطن سے ہجرت کرنی پڑی تھی اور تبادلہ آبادی کے دوران جانبین سے جو تشددکے دلدوز واقعات ہوئے تھے اس کے عینی شاہد ہی نہیں بلکہ اس کو جھیلے ہوئے تھے، اس کے باجود ان کی سوچ میں کسی طرح کی تنگ نظری نہیں تھی بلکہ وہ اس سوچ کے خلاف آخر تک لڑتے رہے ، وہ پچھلے پون صدی سے تصنیف و تالیف اور صحافت کے میدان میں سرگرم عمل تھے ۔اعتدال و توازن ،وسیع القلبی اور کشادہ نظری ان کا امتیازی وصف تھا۔وہ ملک کے ہر طبقہ میں مقبول اور ہر دلعزیز تھے۔ایسی شخصیت کا داغ مفارقت دے جانا ایک سانحہ ہے۔آنجہانی کلدیپ نیر متعدد اردو،انگریزی اخبارات اور رسائل کے سرپرست و نگراں تھے۔ کلدیپ نیر صاحب اپنے آخری وقت تک انگریزی اوراردوخبارات میں ہفتہ واری کالم لکھتے رہے ۔ان کو میدان صحافت میں گراں قدر خدمات انجام دینے کی وجہ سے کئی ملکی و غیرملکی ایوارڈوں سے بھی نوازا گیا تھا ۔
مولانا مدنی نے مزید کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب قلم اور آزادی اظہار رائے پر پابند یاں لگانے کی درپردہ کوششیں ہورہی ہیں کلدیپ نیر کا جانا جمہوریت کے اس چوتھے ستون کے لئے ایک ایسا نقصان ہے جس کی تلافی کسی طرح ممکن نہیں۔
صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے اپنے تعزیتی بیان میں آنجہانی کے پسماندگان اور رفقاء و متعلقین سے تعزیت کی ہے ۔






