بھائی بہن کا انمول رشتہ

سیدہ تبسم منظور ناڈکر

ہمارا کوئی بھائی توہے نہیں پھر بھی ہم اس انمول خوبصورت رشتے کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نے کئی بھائی بہنوں کو دیکھا ہے جن کا پیار ،عزت ،احترام وقت کے ساتھ کبھی کم نہیں ہوتا ۔نہ دور رہنے سے نہ پاس رہنے سے۔۔۔۔محبت اور شفقت سے ملتے دیکھا ہے۔ مثالی بھائی بہن کہہ سکتے ہیں ۔اور کئی بھائی بہن ایسے بھی دیکھے جو ایک دوسرے کے دشمن بنے ہیں۔ایک دوسرے سے بات تک نہیں کرتے ۔صورت دیکھنے کے لئے بھی تیار نہیں۔خیر ہم تو اس رشتے کے بارے میں بیان کرنا چاہتے ہیں ۔
زندگی میں رشتے ناطے بہت ہی انمول اور قیمتی ہوتے ہیں۔ ان کی حفاظت بیش قیمتی سرمائے کی مانند کرنا چاہئے۔اگر خونی رشتوں کی بات کریں تو ان کی اہمیت و افادیت سے بھلا کوئی انکار کر سکتا ہے؟؟؟کہاجاتا ہے کہ وہ لوگ بہت ہی خوش قسمت ہوتے ہیں جن کے پاس رشتے ہوتے ہیں، اپنوں کا ساتھ ہوتا ہے۔۔ کیونکہ خون کے اور سگے رشتے اللہ تعالیٰ کا بے حد خوب صورت اور قیمتی تحفہ ہیں جن کی ہمیں قدر کرنی چاہئے،سنجو کر رکھنا چاہیے۔ ایسے کئی رشتے ہوتے ہیں اور ان ہی رشتوں میں ایک رشتہ ’’بھائی بہن‘‘ کا بھی ہوتا ہے۔جوپیار،محبت،اپنائیت اور خلوص سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ بھائی بہن کا رشتہ مضبوط اور انمول رشتہ ہے۔ بھائی بہن ایک دوسرے کی خوشی ہو یا غم ، ایک دوسرے کا ساتھ دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ یہ رشتہ اللہ تعالیٰ کا بخشا ہوا نایاب اور قیمتی تحفہ ہے ۔
اللہ رب العزت نے ماں باپ کے بعد کوئی اور خوب صورت اور پیارا رشتہ بنایا ہے تو وہ بہن بھائی کا رشتہ ہے۔ یہ ایسا رشتہ ہے جو چھوٹے یا بڑے بھید بھاؤ کے بغیر ایک دوسرے سے ہمیشہ منسلک رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بہن بھائی کے رشتے میں ایک قدرتی محبت رکھی ہے۔ اس رشتے میں دکھاوا کم اور حقیقت زیادہ ہوتی ہے ۔ ایک دوسرے سے جڑا یہ رشتہ وقت اور فاصلوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ یہ نہ دور رہنے سے کم ہوتا ہے نہ پاس رہنے سے بڑھتا ہے ۔یہ رشتہ بغیر شرطوں کا ہوتا ہے، دل سے جڑا ہوتا ہے ۔ اس رشتے کا آغاز پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہوتا ہے اور زندگی کی سانسوں کے ساتھ جڑ کر چلتے ہوئے تا حیات رہتا ہے۔ اس کی ڈور سانسوں کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی ٹوٹتی ہے ۔
بچپن میں بہن بھائی کے دم سے ہی گھر میں خوشیاں رنگ بکھیرتی ہیں ۔بہنیں بھائیوں کا وقار، راج دلاری ہوتی ہیں۔بہنیں تو بھائیوں کے لیے قربانیاں دیتی ہی ہیں ۔بھائی بھی اپنی بہن کے لئے زندگی تک قربان کر دیتے ہیں ۔بہن بھائیوں کی محبت میں کوئی لالچ نہیں ہوتا ۔ ان کی محبت شبنم کی ان بوندوں کی طرح بالکل پاک اور شفاف ہوتی ہے ۔لیکن ان دونوں کا ایک دوسرے سے محبت کرنے کا انداز جدا جدا ہوتا ہے ۔بھائی اپنی بہنوں کو پریشان کرکے اپنی محبت جتاتے ہیں ۔کبھی بال پکڑ کر کھینچ لیا، کبھی ان کی چیزوں کو چھپا چھپا لیا۔۔۔۔آتے جاتے پریشان کرنے میں بھائیوں کو بڑا مزہ آتا ہے۔۔۔پرجب بہن ناراض ہوتی ہے تو اپنی پاکٹ منی سے بازار سے کھانے کی کوئی چیز لادیتے ہیں اور منا لیتے ہیں۔ چھوٹی موٹی فرمائش پوری کردیتے ہیں۔ بہنیں بھی اپنے بھائیوں کو والدین کی ڈانٹ سے بچانے کے لئے ڈھال بنتی ہیں ۔بھائیوں کے رازوں کی حفاظت کرتی ہیں ۔چھوٹی چھوٹی ضرورتیں پوری کرتی ہیں جیسے بھائیوں کی بکھری ہوئی چیزیں سمیٹ کر ترتیب سے رکھنا، کپڑوں کو استری کرنا،محبت سے ان کی پسند کے کھانے پکانا۔ بہن بھائی آپس میں مل کراپنے مسائل حل کرلیتے ہیں۔ کپڑے ، جوتے ، کتابیں اور دیگر کئی چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ اور کبھی کبھی تو ان ہی چیزوں کے لئے لڑتے بھی ہیں۔ ایک دوسرے سے جھگرتے ہیں، روٹھتے ہیں اور پھر خود ہی مان بھی جاتے ہیں۔ پل میں لڑنا اور پل میں مان جانا۔۔کتنا کھٹا میٹھا پیارا رشتہ ہےنا یہ۔
سبھی بھائی بہن ایک جیسے نہیں ہوتے۔۔۔کئی بھائی اپنے پیار کا اظہار نہیں کرپاتے۔ کئی بہنیں اپنا پیار جتا نہیں پاتیں۔مگر ان سب میں ایک بات ہوتی ہے کہ انہیں آپس میں بے حد اور بے تحاشا پیار ہوتا ہے۔بھائی بہن کے پیار کا تصور ہی کتنا خوشگوار ہوتا ہے۔ یہ بہنیں بھائیوں کے لئے اللہ رب العزت کا انمول تحفہ ہیں۔ یہ اپنی معصوم اور پیاری باتوں سے گھر میں خوشیوں کے خوبصورت رنگ بکھیر دیتی ہیں۔ والدین کی عزت تو بھائیوں کی شان ہوتی ہیں ۔ چھوٹی بہنیں نٹ کھٹ شرارتی تو بڑی بہنیں مشیر ہوتی ہیں ۔ویسے ہی بہنوں کے لئے چھوٹا بھائی راج دلارا اور بڑا بھائی شفیق ہوتا ہے۔ بہنوں کے لئے بھائی بھی اللہ کی طرف سے نایاب تحفہ ہیں ۔
بہن بھائی کا رشتہ حقیقت کی ایک سچی اور خوبصورت مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بہن بھائی کے درمیان ذہنی ہم آہنگی اور پیار رکھاہے۔ اگر بہنیں بھائیوں کیلئے قربانیاں دیتی ہیں تو بھائی بھی اپنے فرض کو انجام دینے میں کوتاہی نہیں کرتے۔یہ ایک دوسرے کے راز دار ہوتے ہیں۔ بھائی بہن ناراض ہوتے ہیں تو یہ ناراضگی زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر پاتے اور جلد ہی آئس کریم ، چاکلیٹ یا کیسی اور چیز کے عوض یہ ایک دوسرے کو بڑی چاہت سے منالیتے ہیں۔ بھائی بہنوں کے درمیان چھوٹی موٹی لڑائیاں تو اس تعلق کا حصہ ہوتی ہیں جو اس رشتے کو اور مضبوط بناتی ہیں۔ اگر روٹھنے منانے کا یہ سلسلہ رک جائے تو زندگی میں رونق ہی نہیں رہے گی۔ بھائی بہنوں کا باہمی رشتہ بہت ہی مثالی ہوتا ہے. بھائی اور بہن کا رشتہ اٹوٹ رہتاہے۔ بچپن میں بھائی اور بہن آپس میں لڑتے اور جھگڑتے رہتے ہیں اور پھر کچھ دیر بعد دونوں گھل مل بھی جاتے ہیں۔ بچپن میں بھائی بہن کی لڑائیوں سے گھر کی رونق برقرار رہتی۔بھائی کیسے بھی ہوں بہنوں کا مان ہوتے ہیں ۔ ان کا ہر رویہ بہنوں کے لیے محبت کا حقدار ہوتا ہے ۔اور بہنیں کیسی بھی ہو بھائیوں کی شان ہوتی ہیں عزت ہوتی ہیں۔ اللہ تعالی ہر بھائی بہن کا ساتھ بنائے رکھے اور پیار برقرار رکھے۔آمین

رابطہ :9870981871

SHARE
جناب ظفر صدیقی ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر اور ملت ٹائمز گروپ کے بانی رکن ہیں