ممبئی ہائی کورٹ نے وڈالا ٹارچر معاملے میں جمعیۃ علماء کی عرضداشت پر کارروائی کی

ممبئی : ممبئی ہائی کورٹ نے آج یہاں ایک با شرع نابالغ لڑکے محمد واجد خان کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسا کر اس کوپولس تحویل میں شدید زدوکوب کرنے کے علاوہ اس کے ساتھ بد فعلی کرنے والے معاملے میں پولس کے خلاف دائر کی گئی عرضداشت کی سماعت کے دوران اسسٹنٹ پولس کمشنر (سائن) کی خاطی پولس فسران کے خلاف ۴؍ جون ۲۰۱۴ء کو کی گئی کارروائی کی رپورٹ طلب کی ہے ۔

ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس رنجیت مورے اور جسٹس بھارتی ڈانگرے نے آج جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی عرضداشت پر کارروائی کرتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا اور وکیل استغاثہ ایف آر شیخ کو حکم دیا کہ وہ معاملے کی اگلی سماعت یعنی کے ۲۴؍ ستمبر کو پولس کمشنر کی رپورٹ پیش کرے کیونکہ چار سال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود اسسٹنٹ پولس کمشنر کی رپورٹ ابھی تک ہائی کورٹ میں داخل نہیں کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ پولس اہلکاروں کی غیر انسانی حرکت کے خلاف جمعیۃ علماء کی جانب سے ایک عرضداشت داخل کی گئی تھی جس کی پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا کہ ممبئی کے انٹاپ ہل نامی مقام پر چند پولس والے ایک نوجوان کو زدوکوب کر رہے تھے اس وقت عرض گذار بھی وہاں سے گذر رہا تھا نیز اس نے جب پولس والوں کو نوجوان کو مارتے دیکھا تو وہ بھی ایک کونے میں کھڑے ہوکر دیگر لوگوں کی طرح بڑی دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا ۔
ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتلایا کہ پولس اسٹیشن لے جاکر نابالغ عرض گذار کے ساتھ پولس نے جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے وہ ناقابل بیان ہیں یہاں تک کے اس باشرع نوجوان کو برہنہ کر کے اس کے جیب میں موجودمسواک کا غلط جگہ پر استعمال کیا گیا اور اس کے ساتھ مبینہ طور پر بد فعلی بھی کی گئی۔
عرضداشت میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ خاطی پولس افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ان کے خلاف بھی قانون کا غلط استعمال کرنے اور نابالغ لڑکے کے ساتھ بد فعلی کرنے نیزاسے تشدد کا نشانہ بنائے جانے پر ان کے خلاف مقد مہ قائم کیا جائے ۔
آج کی سماعت مکمل ہونے کے بعد جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبارنویسوں کو بتایا کہ اب جبکہ دو رکنی بینچ نے اسٹنٹ کمشنر کے ذریعہ تیار کی گئی رپورٹ طلب کرلی ہے ، رپورٹ آنے کے بعد ہی پولس والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا راستہ ہموار ہوپائے گا۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ ایک جانب جہاں جمعیۃ علماء خاطی پولس افسران کے خلاف کارروائی کے لیئے ہائی کورٹ سے رجوع ہوئی ہے وہیں دوسری جانب پولس کی جانب سے واجد خان (نابالغ )کے خلاف بچوں کی عدالت (جونائل جسٹس بورڈ ) میں قائم مقدمہ میں اس کا دفاع کررہی ہے اور اس ضمن میں ایڈوکیٹ انصار تنبولی اور ایڈوکیٹ شاہد ندیم کو ذمہ درائیاں سونپی گئی ہیں جو ہر تاریخ میں جنوبی ممبئی کے ڈونگری علاقے میں قائم بچوں کی عدالت میں ملزم کا دفاع کررہے ہیں ۔