ممبئی : (نمائندہ ) میرا روڈ کے لئے ۳؍ستمبر کا دن الم وغم کا کوہ گراں لے کر آیا کہ آج ایک ہی روز چند گھنٹے کے فاصلے سے یہاں کی دو عظیم شخصیات نے داعی اجل کو لبیک کہا ۔انا للہ و انا الیہ راجعون ۔
مشہور عالم دین دار العلوم عزیزیہ میراروڈ کے بانی و مہتمم مولانا مظہر عالم قاسمی آج ڈھائی بجے انتقال کرگئے اور اس کے چند گھنٹے قبل میرا روڈ کی معروف شخصیت یوسف بھائی نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا جو تبلیغ کے نہایت سر گرم کار کن تھے۔اللہ تبارک و تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔مولانا مظہر عالم قاسمی گزشتہ چار ماہ سے کینسر کے عارضہ میں مبتلا تھے۔مولانا شمیم اختر ندوی کی اطلاع کے مطابق آپ کی نماز جنازہ سوا نو بجے شب میں دارالعلوم عزیزیہ میرا روڈ میں ان کے بڑے بھائی مفتی مظفر صاحب نے پڑھائی ۔اور تدفین ہزاروں سوگواروں میں موجودگی میں میرا روڈ میں عمل میں آئی۔مولانا مرحوم کے انتقال سے علمی دنیا کی فضا سوگوار ہوگئی ہے ۔ وصال کی خبر ملتے ہی ممبئی عظمیٰ کی قدیم دینی درسگاہ دارالعلوم امدادیہ (چونا بھٹی مسجد مرکز، ممبئی)، جامعہ الابرار (وسئی )، ادارہ دعوۃ القرآن نالاسوپارہ، دارالعلوم سلیمانیہ میرا روڈ، دارالعلوم رحمانیہ میرا روڈ، ادارہ سراج السنہ دہیسر، مدرسہ منہاج السنہ مالونی ملاڈ، قاری صادق کے قائم کردہ ادارہ معراج العلوم چیتا کیمپ، مرکز المعارف جوگیشوری، مدرسہ فاروقیہ گوونڈی، سمیت دیگر مدارس اسلامیہ میں تعزیتی نشست کا انعقاد کیاگیا اور مرحوم کی مغفرت اور بلندی درجات کےلیے دعا کی گئی۔مولانا مظہر عالم قاسمی کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے چچا مولانا عبدالعزیز بہاری علیہ الرحمہ کی زیر نگرانی ان کے قائم کردہ ادارہ دارالعلوم امدادیہ ممبئی میں ہوئی (حضرت مولانا عبد العزیز بہاری ؒ کو یہ شرف حاصل ہے کہ انھوں نے ممبئی شہر میں دار العلوم دیوبند اور جمعیۃعلماء کا عوامی تعارف کرایا اور دار العلوم امدادیہ کی بنیاد رکھی) ۔امدادیہ کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد تکمیل کےلیے ازہر ہند دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور وہاں سے فراغت حاصل کی۔مولانا فراغت کے بعد تقریباً سات سال تک باندرہ ویسٹ اسٹیشن سے متصل مسجد میں امام رہے۔دوران امامت حاجی غلام رسول رحمہ اللہ علیہ سانتا کروز اور حاجی عبد القیوم رحمہ اللہ علیہ باندرہ والے و دیگر اکابر کے مشورہ سے 1976 میں اپنے چچا مولانا عبدالعزیز بہاری علیہ الرحمہ کے نام سے منسوب ’دارالعلوم عزیزیہ ‘میراروڈ کی داغ بیل ڈالی اور پھر ہمیشہ کیلئے یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ آپ کا آبائی وطن موضع برار ضلع سیتامڑھی بہار تھا۔مولانا کے بڑے بھائی مفتی مظفر عالم قاسمی ہیں جوکہ ممبئی عظمیٰ کے ایک مشہور عالم دین ہیں۔پسماندگان میں اہلیہ اور چار لڑکیاں ہیں ۔ آپ کے لڑکے کا عین جوانی میں انتقال ہوگیا تھا بس ایک پوتی بطور یادگار ہے۔ اکلوتے فرزند فخر عالم کے انتقال سے آپ کے اعصاب پر گہرا اثر پڑا اور صحت گرنے لگی تھی۔ مفتی انعام الحق قاسمی عالی پور گجرات آپ کے بڑے داماد ہیں جوان دنوں سفر حج پر ہیں۔ مولانا مرحوم ممبئی عظمی سے اُٹھنے والی ہر تحریک اور دینی کاموں میں پیش پیش رہے۔ آپ نے پوری زندگی اسلام کی نشرواشاعت میں لگادی ۔ دارالعلوم عزیزیہ آپ کی عظیم یادگاروں میں سے ایک ہے جہاں سے ہزاروں طلبا فیضیاب ہوئے اور ہوتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ ۔ آج دار العلوم عزیزیہ ‘کے در و دیوار مولانا مرحوم کی جدائی پر اشک بار ہیں اور ان کے پسماندگان سے تعزیت کرتے ہیں ۔ وہیں یوسف بھائی تبلیغ کے نہایت قدیم اور اہم فرد تھے ،دار العلوم عزیزیہ کے موجودہ مہتمم مولانا عبد القادر مظاہری کے دست راست اور معاون تھے مدرسہ اور مسجد کی تعمیرات میں ان بڑا حصہ ہوا کرتا تھا ،افسوس کہ آج ہی کے روز انھوں نے بھی اس دار فانی کو الوداع کہا ۔مولانا مستقیم احسن اعظمی صدر جمعیۃعلماء مہاراشٹر اوردار العلوم عزیزیہ کے تمام اساتذہ و طلبہ یوسف بھائی مرحوم کی وفات پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے دعا فرمائی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔آمین مولانا محمد عارف عمری استاد دار العلوم عزیزیہ و ناظم نشر و اشاعت جمعیۃعلماء مہاراشٹرنے مرحومین کے بلندیٔ درجات کے لئے دعا فرمائی اور ان کے لئے ائمہ مساجد،ذمہ داران مدارس عربیہ اور قارئین سے ایصال ثواب کے اہتمام کی درخواست کی ہے۔مولانا محمود دریابادی جنرل سکریٹری علما کونسل ورکن شوریٰ دارالعلوم امدادیہ ممبئی نے بھی دونوں حضرات کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے عظیم دینی وملی خسارہ قرار دیا۔






