نئی دہلی: (ملت ٹائمز )
سال 2007ء میں حیدرآباد کے لمبنی پارک، دلسکھ نگر اور گوکل چاٹ مقامات پر ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے میں آج چیرا پلی سینٹرل جیل میں قائم خصوصی عدالت نے فیصلہ صادر کرتے ہو ئے چار ملزمین میں سے ایک جانب جہاں دو ملزمین کو باعزت بری کردیا وہیں دو ملزمین کو قصور وار ٹہرایا ہے اور ان کی سزاء کے تعین کے لیئے 10؍ ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے ۔واضح رہے کہ اس معاملے میں ماخوذ ملزمین محمد اکبر اسماعیل چودھری، عنیق شفیق سید، فاروق شرف الدین ترکش اور محمد صادق اسرار شیخ کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے اور ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ محمد عبدالعظیم ، ایڈوکیٹ خالد سیف اللہ، ایڈوکیٹ گرو مورتھی، ایڈوکیٹ راجو ریڈی، ایڈوکیٹ محمد عمران، ایڈوکیٹ محمد رضا خلیل و دیگر کو مقرر کیا گیا ۔ یہ اطلاع آج ممبئی میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔
گلزار اعظمی نے بتایا چراپلی سینٹرل جیل میں قائم خصوصی عدالت کے جج شرینواس نے ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیادوں پر ملزمین فاروق شرف الدین ترکش اور صادق اسرار شیخ کو دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری کردیا وہیں ملزمین محمد اکبر اسماعیل چودھری اور عنیق شفیق سید کو قصوروار ٹہرایا ہے، اس معاملے میں تحقیقاتی دستوں نے ملزمین کو انڈین مجاہد ین نامی تنظیم کا رکن بتایا تھا اور تین علیحدہ علیحدہ چارج شیٹ داخل کی تھی جبکہ ایک دیگر ملزم طارق انجم کو متذکرہ ملزمین کو دہلی میں رہائش مہیا کرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے خلاف علیحدہ مقدمہ چلا یا گیاجس کا فیصلہ ۱۰؍ ستمبر کو دیا جائے گا۔ گلزار اعظمی نے بتایاکہ10؍ ستمبر کو دفاعی وکلاء خصوصی عدالت سے ملزمین کو کم سے کم سزاء دیئے جا نے کی درخواست کریں گے اور مکمل فیصلہ آجانے کے بعد سینئر وکلاء سے صلاح ومشورہ کرکے اگلا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے خصوصی عدالت کے فیصلہ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں دو لوگوں پر الزامات طے کردیئے گئے ہیں لیکن دو کو عدالت نے باعزت رہا کردیا ہے یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ اس طرح کے معاملوں میں کس طرح بے گناہوں کو دہشت گرد بناکر پیش کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کرنے اور بے گناہ شہریوں کے خون کی ہولیاں کھیلنے والے درحقیقت فرقہ پرست طاقتوں کی چادروں کے نیچے چھپے ہوئے ہیں ، گزشتہ دنوں مہاراشٹرا میں سناتن سنتھا کے پانچ کارکنان کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس نے انہیں اسلحہ اور گولہ بارود کے ساتھ گرفتار کیا ہے اور یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ یہ لوگ بڑی کارروائیاں انجام دینے والے تھے مگر ملک کے میڈیا نے اس واقعہ کو سرسری انداز میں پیش کیا اس کے برعکس جب دوسرے لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے تو اکثر الکٹرانک میڈیا انہیں خطرناک دہشت گرد قرار دیکر ان کا ٹرئل بھی شروع کردیتا ہے انہوں نے کہا کہ جب یہی لوگ عدالتوں سے باعزت بڑی ہوتے ہیں اکثر تو میڈیا چپ رہتا ہے ایک لائن کی خبر بھی نہیں دیکھائی جاتی انہوں نے کہا کہ اکثر میڈیا اور اکثر پولیس کے اس دہرے رویہ کے خلاف ہم مسلسل آواز اٹھاتے آئے ہیں لیکن حکومت نے کبھی اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ طویل قانونی جدوجہد کے بعد اس طرح کے معاملہ میں جب بے گناہوں کو انصاف ملتا ہے اس وقت تک ان کی زندگیاں تباہ ہوچکی ہوتی ہیں ان کے قیمتی ماہ وسال سلاخوں کے پیچھے گزرچکے ہوتے ہیں انہوں نے سوال کیا کہ اس کے لئے جواب دہی طے نہیں ہونی چاہئے اور کیا اس کے لئے متاثرین کو معاوضہ نہیں ملنا چاہئے ؟ انہوں نے مزید کہا کہ اب تک سیکڑوں لوگ دہشت گردی کے الزام سے باعزت بری ہوچکے ہیں مگر اس کے لئے نا تو کسی سے کسی طرح کی کوئی بازپرس ہوئی اور نہیں متاثرین کو کسی طرح کا کوئی معاوضہ ہی ملا انہوں نے کہا کہ اسی لئے میں اکثر کہتا ہوں کہ یہ انصاف ادھورا ہے انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ سے عدلیہ پر میرے اعتماد میں مزید مضبوطی آئی ہے اس لئے کہ جو کام حکومت کو کرنا چاہئے تھا وہ کام عدالتیں کررہی ہیں ۔
واضح رہے کہ ۱۱؍سال پہلے حیدرآباد کے گوکل چاٹ بھنڈار اور لمبنی پارک میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے جس کے بعد تلنگانہ پولس کے کاؤنٹر انٹلی جینس شعبہ نے اس معاملے کی تحقیقات کی تھی نیز دوران سماعت ۱۷۰؍ سرکاری گواہوں نے ملزمین کے خلاف عدالت میں گواہی دی تھی جبکہ سیکڑوں دستاویزات کو استغاثہ نے عدالت میں بطور ثبوت پیش کیا تھا جبکہ دفاعی وکلاء نے گواہوں سے جرح کرنے کے ساتھ ساتھ عدالت میں ملزمین کے دفاع میں حتمی تحریری بحث بھی داخل کی تھی۔ ان دونوں جگہوں پر رونما ہونے والے بم دھماکوں میں کل 42؍ افراد ہلاک اور 50؍ دیگر زخمی ہو ئے تھے۔






