طلباء یکسوئی کے ساتھ تعلیم حاصل کریں، اور اپنے مقصد کو پیش نظر رکھیں: مشتاق احمد نوری
چنئی: (احمد علی صدیقی) بہار اردو اکیڈمی کے چیئرمین مشتاق احمد نوری کی چنئی آمد پر نیو کالج کے شعبہ اردو میں ایک استقبالیہ پروگرام و توسیعی لکچر کا انعقاد عمل میں لایا گیا.
تعلیمی قابلیت کے ساتھ ساتھ اندازِ تکلم بھی مؤثر ہوتو استاد کی بات طلباء کو سمجھنے میں آسانی ہوگی. Communication کے ساتھ convey بھی بہت ضروری ہے، اور Body language کا بھی بہت دخل ہوتا ہے درس وتدریس میں، طلباء کو چاہیے کہ کلاس روم میں یکسوئی کے ساتھ استاد کا لکچر سنیں، ایسا نہ ہو کہ جسم تو حاضر ہو اور دماغ غائب۔ ان خیا لات کا اظہار بہار اردو اکیڈمی کے چیئر مین مشتاق احمد نوری نے نیو کالج کے شعبہ اردو میں توسیعی خطبہ دیتے ہوئے کیا۔
پروگرام کا آغاز طالبِ علم معراج الدین کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا، اس کے بعد ساجد حسین ندوی نے مہمان مکرم کا مختصرا تعارف کروایا۔ نیو کالج کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر طیب خرادی صاحب نے مہمان مکرم کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے ان کی شال پوشی فرمایااور ایک یادگار تحفہ پیش کیا۔
مہمان مکرم مشتاق احمد نوری صاحب نے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر طالب علم میں فطری صلاحیت اور قابلیت ہوتی ہے، استاذ ان ہی صلاحیتوں کو طلباء کو استعمال کرنے کا سلیقہ سکھاتا تھا۔ بقول شاعر: ایک پتھر کی تقدیر بھی سنور سکتی ہے ٭ شرط یہ ہے کہ سلیقہ سے تراشا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلباء اپنی دلچسپی کے مطابق میدان عمل کا انتخاب کریں، گھر والوں یا دوسرے لوگوں کے دباؤ میں آکر کسی ایسے راستہ کا انتخاب نہ کریں جس میں آپ کو کوئی دلچسپی نہ ہو۔
اخیر میں صدر شعبہ اردو ڈاکٹر طیب علی خرادی نے مہمان مکرم کا، اساتذہ، طلباء اور دیگر حاضرین مجلس کا شکریہ ادا کیا اورپرو گرام اختتا م پذیر ہوا۔اس موقع پر شعبہ اردو نیو کالج کے پروفیسر غیاث احمد، پروفیسر سید باقر عباس اورمحمد حسین کے علاوہ پیام سدرہ کے پبلیشرجمیل احمد صدیقی اور شعبہ اردو کے طلباء کثیر تعداد موجود تھی۔






