وزیر اعظم کا خطاب قابل ستائش لیکن کہنی اور کتھنی میں فرق کیوں ؟ : ڈاکٹر محمد منظور عالم 

نئی دہلی: (پریس ریلیز) وزیر اعظم نریندر مودی نے کبھی ایک مولانا کے ہاتھوں ٹوپی پہنے سے انکار کردیاتھاتاہم کل انہوں نے داودی بوہر ا کمیونٹی کے یہاں حاضری دی ، 20 منٹ تک تقریر کی اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے اوصاف حمیدہ کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ امام حسین رضی اللہ عنہ ہمیشہ ناانصافی کے خلاف سینر سپر رہے ،انصاف کی سربلندی کیلئے انہوں نے جام شہادت نوش کیا اور ان کی تعلیمات آج بھی افادیت کی حامل ہے ۔آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے وزیر اعظم کے اس بیان کو قابل ستائش قراردیتے ہوئے سوال کیا کہ بلاشبہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی تعلیمات افادیت کی حامل ہے ،انصاف کی سربلندی کیلئے انہوں نے اپنی جان کی قربانی دی لیکن وزیر اعظم مودی صاحب خود کیوں ان تعلیمات پر عمل نہیں کررہے ہیں؟۔کیوں ان کی حکومت میں انصاف کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے؟ ،ظالموں کو سزا کیوں نہیں دے رہے ہیں ۔ مظلوموں کو انصاف فراہم وہ کیوں نہیں کررہے ہیں ؟۔ان کے ملک میں انہیں کے بھگت مسلمانوں اور دلتوں پر حملہ کررہے ہیں اور ظلم وستم کے اس سلسلہ کو روکنے اور انصاف دینے کے بجائے خاموش رہ کرمزید ظلم پر آمادہ کررہے ہیں ۔ ان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ظلم وستم کو سب سے زیادہ فروغ ملا ہے ،اقلیتوں اور دلتوں کے ساتھ انصافی اور زیادتی ہوئی ہے ۔اقوام متحدہ نے بھی اپنی رپوٹ میں کہاہے کہ ہندوستان کے اقلیتوں اور دلتوں پر ہورہے حملوں اور تشدد کی وجہ بی جے پی کی پالیسی ہے ۔

ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہاکہ وزیر اعظم نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے تناظر میں بہت اچھی بات کہی ہے کہ لیکن ضروری ہے کہ و ہ خود بھی اس پر عمل کریں اوراپنے کردار وعمل سے یہ ثابت کریں کہ داؤدی بوہر ہ کے یہاں انہوں نے جو کچھ کہاہے وہ انتخابی جملہ اور سیاسی تقریر نہیں ہے بلکہ وہ دل سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عضمت کے قائل ہیں،ان کی تعلیمات کو وہ مشعل راہ مانتے ہیں اور انصاف کے قیام کیلئے ان کے دل میں بھی کوئی گنجائش ہے! ۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہاکہ وزیر اعظم گؤرکشکوں اوران انتہاء پسندوں کے خلاف اگر کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھاتے ہیں جنہوں نے دسیوں بے گناہوں کا قتل کیاہے ،ان کے گھر کو ویران کردیاہے ،ان مظلوموں کو انصاف نہیں دیتے ہیں جو لنچنگ کے شکار ہوئے ہیں تو یہی سمجھا جائے گا کہ ان کی یہ تقریر بھی سیاسی جملہ بازی تھی ،بوہر ہ کے یہاں جاکر مسلمانوں کو لبھانے اورووٹ حاصل کرنے کی سازش ہے ان کے ایجنڈے اور پالیسی میں مسلمانوں کے تئیں ذرہ برابر کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی ہے ۔