نئی دہلی: (ملت ٹائمز – پریس ریلیز) انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیزکے زیر اہتمام لاءکمیشن کی رپوٹ پر ایک مباحثہ کا انعقاد کیا گیا جس میں لاءکمیشن کی مکمل رپوٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے آئی او ایس کے نائب چیرمین پروفیسر افضل وانی نے کہاکہ رپوٹ کی یہ بات قابل ستائش ہے کہ اس میں ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کو سراہتے ہوئے مختلف مذہب اور ثقافت کو برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے اور حکومت سے کہاہے کہ ہندوستان میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ مناسب نہیں ہے۔ آئی او ایس کے جنرل سکریٹری پروفیسر زیڈایم خان نے کہاکہ اس رپوٹ میں مجھے سیاست نظر آرہی ہے ، ٹائمنگ بہت کچھ کہ رہی ہے اور حکومت کا منشا اس رپوٹ کے ذریعہ ملک کی ہم آہنگی کو خراب کرنا اور فرقہ واریت کو پھیلاناہے تاکہ سیاسی مقاصد کی تکمیل ہوسکے ۔آل انڈیامسلم پرسنل لاءبورڈ کی مجلس عاملہ کے رکن ڈاکٹر قاسم رسول الیا س نے مباحثہ میں کہاکہ طلاق کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے غیر اسلامی فیصلے کیلئے بورڈ ذمہ دار ہے ،انہوں نے کہاکہ بورڈ نے عدالت میں صرف ایک مسلک کو پیش کیا اگر دونوں مسلک پیش کرکے عدالت کو بتایا جاتا کہ ایک مسلک ایسا بھی ہے جس میں ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی واقع ہوتی ہے تو پھر سپریم کورٹ کا شاید ایسا فیصلہ نہیں آتا انہوں نے بتایاکہ بورڈ نے بعد میں طلاق تفویض کے سلسلے میں حلف نامہ دائر کیا لیکن ایسے وقت میں کیاگیاجس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور سماعت مکمل ہوچکی تھی ۔مولانا عبد الحمید نعمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے کہاکہ اسلام کا عائلی نظام جامع اور مکمل ہے لیکن ہم اسے صحیح طور پر پیش کرنے میں ناکام ہیں جس کی بنیاد پر مسلسل حملے کئے جارہے ہیں ۔ ڈاکٹر مفتی عبید اللہ قاسمی پروفیسر دہلی یونیورسیٹی نے کہاکہ اسلام کا عائلی نظام شاندار اور جامع ہے لیکن صحیح معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے دانشوران بھی بعض مرتبہ اس میں تبدیلی کی بات شروع کردیتے ہیں،معاشرہ میں غلط پریکٹس کی وجہ سے کسی نظام اور قانون میں تبدیلی کا مطالبہ نہیں کیا جاتاہے ،ہندوستان میں چور ی ، ڈکیٹی اور ریپ کیلئے قانون موجود ہے اس کے باوجود یہ سارے واقعات انجام پارہے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ چوری کیلئے قانون ذمہ دار ہے بلکہ معاشرہ میں بیداری اور اصلاح کرنا زیادہ اہم ہے ۔پروفیسر حسینہ حاشیہ نے کہاکہ مسلم سماج میں عورتوں کو اس کے حقوق نہیں دیئے جارہے ہیں،ہم نے خواتین کے ساتھ کام کیاہے جہاں انداز ہ ہوتاہے کہ کس قدر مسلم سماج میں خواتین کے ساتھ سوتیلا برتاؤ کیا جاتا ہے۔شمس تبریز قاسمی نے کہاکہ اسلام کا نظام شاندار اور جامع ہے لیکن اس پریکٹس مسلسل اس کے خلاف ہورہی ہے جس کی بنیاد پر دوسرے لوگ براہ راست اسلام پر مسلسل حملہ آور ہیں ،دوسری طرف سماج کی مسلم خواتین کو بھی ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،مسلم ممالک میں مستقل مذہبی وزرات ہے جہاں غلط پریکٹس کرنے والوں کو سزادی جاتی ہے لیکن ہندوستان میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ علماء و دانشواران کو اس سلسلے میں بیٹھ کر سوچنا ہوگا کہ مسلمانوں کے درمیان پیش آنے والے ایسے واقعات کا ٹھوس حل کیا ہوسکتا ہے۔
اس مباحثہ میں ایڈوکیٹ اسرار احمد ،سپریم کورٹ کے وکیل کاظم علی شیر ،خواجہ عبد المنتقم وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔قبل ازیں ریسرچ اسکالر آفتاب عالم نے مباحثہ کا تعارف کراتے ہوئے کہاکہ آئی او ایس کے چیرمین اور معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر محمد منظور عالم کی ہدایت پر آج کا یہ مباحثہ منعقد کیا گیا ہے۔ مولانا اطہرحسین ندوی کی تلاوت سے آغاز ہوا ۔
واضح رہے کہ 31 اگست کو لاء کمیشن کے چیرمین بی ایس چوہان نے تقریباً 200 پیج پر مشتمل اپنی رپوٹ پیش کی ہے ۔






