آٹھ سال بعد حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی ہوا بھگوا، مانو یونین صدر فیضان نے بتایا سیکولر ووٹ کے انتشار کا پھل  




حیدرآباد: (سیف الرحمٰن/ملت ٹائمز) دلی یونیورسٹی کے زعفرانی رنگ میں رنگنے کے بعد اے.بی.وی.پی کو ملی دوسری بڑی جیت

06 اکتوبر کی شام ملک کی مشہور سنٹرل یونیورسٹی حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے الیکشن کا چونکانے والا رزلٹ آیا 2009میں اے.بی.وی.پی نے یونین کے سبھی پانچ سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی اس کے بعد پہلی بار اے.بی.وی.پی الائنس نے پھر سے یونین کے سبھی سیٹوں پر دھماکہ دار جیت حاصل کی ہے اے.بی.وی.پی الائنس میں او.بی.سی فیڈریشن اور سیوالال ودھارتھی دل شامل تھا اس الائنس سے صدر کے عہدہ پر آرتی ناگپال نائب صدر کیلئے امت کمار جنرل سکریٹری کے عہدہ پر دھیرج سنگوجی جوائنٹ سکریٹری کے سیٹ پر پروین چوہان وغیرہ نے جیت حاصل کی ہے

اس الیکشن کی ایک اہم بات یہ بھی رہی کی یونیورسٹی کی تاریخ میں دوسری بار یونین صدر کے سیٹ پر کسی لڑکی کو قبضہ جمانے کا موقع ملا ہے اس سے پہلے 2013 میں اس سیٹ پر لڑکی کا قبضہ رہ چکا ہے واضح ہوکہ آٹھ سال سے یونین پر ایس.ایف.آئی یا اے.ایس.اے اور انکے اتحاد کا قبضہ رہا ہے ادھر کئی سال سے بالخصوص روہت ویمولا کی خودکشی کے بعد سے ایچ.سی.یو حکومت مخالف اسٹوڈینٹ تحریک کا ایک اہم نام بھی رہا ہے لیکن اس کے باوجود اے.بی.وی.پی نے سبھی سیٹ جیت کر لوگوں کو چونکا دیا ہے اس رزلٹ پر حیدرآباد کی دوسری سنٹرل یونیورسٹی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے اسٹوڈینٹ یونین کے صدر محمد فیضان نے کہاکہ ایچ.سی.یو ایک سیکولر اور فاشزم مخالف شبیہ رکھنے والا یونیورسٹی ہے لیکن ہماری سیکولر پارٹیوں کے انتشار کی وجہ سے زعفرانی طاقتوں کو بازی مارنے کا موقع مل گیا ہے اس کے بعد اب ضروری ہوگیا ہیکہ ایسا, ایس.یو.سی.آئی, سی.ایف.آئی, ایس.ایف.آئی و دیگر تمام سیکولر طلباء تنظیم پورے ملک میں اتحاد کا راستہ اپنائے

اب ملک کی نظر آگے اس بات پر ٹکی ہوگی کہ ایچ.سی.یو سے فاشزم کے خلاف آواز پہلے ہی کی طرح بلند ہوتی رہیگی یا دب جائگی یونیورسٹی کی سیکولر طلباء تنظیموں سے امید ہیکہ وہ ہراساں ہونے کے بجائے ایک ہوکر پہلے سےزیادہ مضبوطی کے ساتھ تحفظ آئین کی لڑائی جاری رکھینگے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *