سی بی آئی کی حقیقت بے نقاب ہونے کے بعداب کس سے امید وابستہ کی جائے گی ؟

زیر اعظم نریندر مودی براہ راست اس میں ملوث ہیں ،رافیل گھوٹالہ اور ایسے کئی معاملوں پر پردہ ڈالنے کیلئے راکیش سنہا کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اسی لئے آلوک ورما کو بھی بر طرف کردیاگیاہے
خبر در خبر (575)
شمس تبریز قاسمی
سی بی آئی ہندوستان کی سب سے بڑی تفتیشی ایجنسی ہے جس کا قیام 1963 میں ہواتھا اور انسپیکٹر آف پولیس جنر ڈی پی کوہلی اس کے سب سے پہلے ڈائریکٹر بنائے گئے تھے جنہیں بانی ڈائریکٹر کے طور پر بھی جاناجاتاہے ۔کرپشن ،قتل ،اغوا ،عصمت دری ،دہشت گردی اور اس طرح کے تمام اہم کرائم اور معاملات کی سچائی جاننے ،حقیقت تک رسائی حاصل کرنے اور جھوٹ کا پردہ فاش کرنے کیلئے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا جاتاہے ۔یہ ادارہ پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ بھی نہیں ہے ۔ڈائریکٹر کی تقرری سہ رکنی ٹیم کرتی ہے جس کے ممبر ان وزیر اعظم ،چیف جسٹس آف انڈیا اور سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے لیڈر ہوتے ہیں ۔لیکن اب ملک کا یہ خود مختار ادارہ بھی مشکوک ہوچکاہے ،عوام کی نگاہوں میں مجروح ہوگیا ہے اورکئی ایسا ادارہ نہیں بچ سکا ہے جس پر اعتماد کیا جاسکے ۔
سی بی آئی پر طرفداری کا الزام ہمیشہ لگتارہاہے ،حکومت کے پنجرے میں بند طوطا اسے کہاجاتاہے ،جن دنوں کانگریس کی حکومت تھی اس پر کانگریس کی اشارے پر کام کرنے کا الزام عائد کیا جاتارہا ،بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس پر بی جے پی کیلئے کام کرنے کا الزام لگتارہالیکن اب یہ الزام صرف الزام نہیں رہ گیاہے بلکہ حقیقت میں تبدیل ہوگیا ہے اور ہندوستان کی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ ہے جس میں سی بی آئی خود سی بی آئی کے خلاف تفتیش او رتحقیق کررہی ہے ۔سی بی آئی کے نمبر ایک اور نمبر د و افسران ایک دوسرے پر کرپشن اور رشوت خوی کا الزام عائد کررہے ہیں ۔
آلوک کمار ورما سی بی آئی کے ڈائریکٹر تھے جنہوں نے اسپیشل ڈائریکٹر اور نمبر دو کی حیثیت رکھنے والے راکیش آستھانہ پر معین قریشی کو بچانے کے سلسلے میں رشوت خوری کا الزام عائد کرتے ہوئے کاروائی شروع کی اور 15 اکتو بر کو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے کاروائی شروع کردی ۔راکیش آستھانہ کے امت شاہ اور بی جے پی سے قریبی تعلقات رہے ہیں،یہ گجرات کیڈر کے ہیں اور بی جے پی انہیں لیکر آئی تھی ،چارہ گھوٹالہ ،احمد آباد بم دھماکہ ،گجرات فساد او ر آسام رام کے آشرم سے جڑ ے معاملات کی تحقیق راکیش آستھانہ نے ہی کی تھی ۔آستھانہ پر عائد الزامات انتہائی سنگین تھے اور ایسا لگ رہاتھاکہ براہ راست اس میں وزیر اعظم ملوث ہیں۔ حکومت نے وزیر اعظم کو بچانے کیلئے پہلے آلو ک ورما اور راکیش آستھانہ کو چھٹی پر بھیج دیا ،اس کے بعد رات کے ایک بجے پی ایم او نے ڈائریکٹر آلوک کمار کو برطرف کردیا ۔تیسرے نمبر کے جوائنٹ ڈائریکٹر ارون شرما سمیت ڈی آئی جی رینک کے دسیوں افسران کا تبادلہ کردیاگیاہے ۔اور راکیش سنہا کے کیس کی تحقیق کیلئے اجے پسی کو ڈائریکٹر بنایاگیاہے ۔
راکیش آستھانہ نے ایف آئی آر درج ہونے کے بعد دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے کہاتھا میرے خلاف غلط الزامات عائد کئے گئے ہیں،ایف آئی آر واپس لی جائے جس معاملے میں اب 29 اکتوبر کو سماعت ہوگی ۔دوسری طرف آلوک ورما نے سپریم کورٹ کا دروزہ کھٹکھٹاکر حکومت پر سوالیہ نشان عائد کرتے ہوئے صاف لفظوں میں کہاکہ ایک آزاداور خود مختار سی بی آئی کی ضرروت ہے جو حکومت کے دباﺅ سے آزاد ہو ۔
سی بی آئی پر اب سیاست شروع ہوگئی ہے ،سی بی آئی خود اپنی آفسوں پر چھاپہ ماری کررہی ہے ،تحقیق کررہی ہے اس پورے قضیے سے یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ سی بی آئی واقعی میں حکومت کے اشاروں پر کام کرتی ہے ،کرپشن کے خلاف تحقیق کرنے والی یہ ایجنسی خود کرپٹ ہے او راس پر بھر وسہ نہیں کیا جاسکتاہے ۔حالیہ قضیے سے سی بی آئی کی گذشتہ تفتیشی رپوٹ اور انکوائری بھی مشکوک ہوگئی ہے ۔اب یہ کہنا مشکل ہوگا کہ سی بی آئی نے جو بھی اب تک تحقیق کی ہے وہ حقیقت پر مبنی اور جانب داری سے آزاد تھی ۔
تجزیہ نگاروں کا واضح طور پر یہ ماننا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی براہ راست اس میں ملوث ہیں ،رافیل گھوٹالہ اور ایسے کئی معاملوں پر پردہ ڈالنے کیلئے راکیش سنہا کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اسی لئے آلوک ورما کو بھی بر طرف کردیاگیاہے ۔
بہر حال اس پورے قضیے کے بعد سی بی آئی کا وقار مجروح ہوگیاہے ،عوام کا اعتماد بحال ہونا مشکل ہے اور اب کس تفتیشی ادارے سے امید لگائی جائے گی ؟۔کس پر اعتماد اور بھر وسہ کیا جائے گا ؟
stqasmi@gmail.com

LIVE शो में संबित पात्रा पर भड़कीं अंजना ओम कश्यप, छोड़कर जाने लगे संबित

LIVE शो में संबित पात्रा पर भड़कीं अंजना ओम कश्यप, छोड़कर जाने लगे संबित

Posted by Millat Times Hindi on Thursday, 25 October 2018

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *