بادشاہ اکبر الہ آباد شہر کے ہیرو یا پریاگ کے ویلن ؟

عظیم اللہ صدیقی 
موجودہ بھارت میں تاریخ میں دروغ گوئی کی آمیزش کوئی نئی بات نہیں ہے ،کچھ سالوں سے یہ ایک وبا کی شکل اختیار کرچکی ہے ۔ قدیم استعماری حکومتوں کے طرح جھوٹا پروپیگنڈا اور تاریخ و معاشرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ایک ایسا نسخہ ہے جسے بڑی کامیابی سے استعمال کیا جارہاہے۔ اس کی ایک واضح مثال الہ آباد شہر ہے ، یوپی کے وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی نے اس قدیم شہر کا نام بدل کر’ پریاگ راج‘ رکھ دیا ہے۔ نام کی تبدیلی کوئی بڑی بات نہیں ہے مگر حیرت یہ ہے کہ ہندو شدت پسندوں نے اس جھوٹ کوپھیلانے میں کامیابی حاصل کرلی کہ مغل بادشاہ اکبر نے اس مقدس شہر کا نام اپنے خدا کے نام سے بدل کر ’اللہ باد ‘رکھ دیا تھا جسے یوگی جی نے تقریبا 442سا ل کے بعد بدل کر گویا ایک ناانصافی کا بدلہ لے لیا۔
من پسند جھوٹ سن کر جشن منانے والوں کی بھارت میں کمی نہیں ہے بلکہ یہ ماحول اِدھر مسلمانوں میں بھی ہے اور اُدھر ہندووں میں بھی۔لیکن اسی بھارت میں الہ آباد یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر ہیرامبھ چترویدی جیسے پڑھے لکھے لوگ بھی ہیں جو اس پھیلائی ہو ئی ’ جہالت‘ سے بہت ناراض ہیں ۔ وہ یہ مانتے ہیں کہ پریاگ نام کا کبھی کوئی شہر تھا ہی نہیں بلکہ پریاگ ’یاگنا استھل‘ کا نام ہے ۔ گنگا اور جمنا کی ملن جسے سنگم بھی کہتے ہیں ، ہر عہد اور ہر دور میں اسے پریاگ کہا گیا ہے ۔ان کے بقول اکبر نے الہ آباد کا نام بدلا نہیں بلکہ الگ سے الہ باس( الہ آباد شہر) بسایا ۔اکبر کے اس شہر کو انگریزوں نے تلفظ کی وجہ سے اَل لاہا باد Allahabad بنادیا۔
اکبر کی مذہبی رواداری بلکہ مداہنت پرتاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ اکبر کبھی کٹر مسلمان نہیں رہا بلکہ اس نے ہندو ’وں کے ساتھ ہمیشہ رواداری میں غلوکیا۔ ایک ایسا وقت بھی آیا کہ اس نے دین اسلام سے کنارہ کشی کرکے’ دین الہی کی بنیاد رکھی جس میں تمام مذاہب بالخصوص ہندو دھرم کے خیالات کو ترجیحی طور سے جگہ دی گئی ، اس نے اپنے مذہب کی بنیاد صلح کل پر رکھی ۔اس نے ہندو’وں کے اوتار ’رام اور سیتا‘کے نام پرسکے جاری کیے، مہابھارت اور رامائن کا فارسی میں ترجمہ کروایا، وہ اپنے دربا ر میں ٹوڈر مل کھتری ، بیربل پانڈے اور مان سنگھ کو نورتن بنا کر اپنے پہلو میں بیٹھایا،اس نے اپنے گھر میں مندر بنوایا ، وہ تان سین سے راگنی سنتا تھا ، اس کے عہد میں تلسی داس نے رام چرت مانس گان لکھے ۔ بھلا ایسے اکبر کو صرف پریاگ سے دشمنی کیوں ہوتی ؟ اس نے کاشی ، ایودھیا، متھرا، ہری دوار، اجین، وندھیا چل اور چترکورٹ جیسے بڑے ہندو تیرتھوں کے نام تو نہیں بدلے ؟ایک زمانے میں ہندو عقیدے اور سوچ سے وہ اس قدر متاثر ہواکہ اس نے اپنے دربا ر میں نماز پڑھنے تک پر پابندی لگادی ،اس کے اس غلط رویے کی وجہ سے اکثر علماء اکبر کوگمراہ سمجھتے تھے ، ان کے عہد کے بڑے عالم ملا عبدالقادر بدایونی تو ان کو مسلمان بھی نہیں مانتے تھے۔اکبر کے اسی رویے کی وجہ سے ملا عبدالنبی جیسے بڑے عالم ناراض ہوئے اور اکبر کے عتاب کے شکار ہوئے ۔حضرت شیخ احمدسرہندی ؒ رحمہ اللہ نے تو اکبر کو دین اسلام کا مخالف تک لکھ دیا۔شاید کسی نے اکبر کے لیے ہی یہ شعر لکھا ہے :
زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا* اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلماں ہوں میں
الہ آباد کی تاریخی حقیقت
اکبر کی شخصیت پر روشنی ڈالنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم یہاں ان کا دفاع کررہے ہیں ، اکبر نہ ہمارے آباو اجداد میں تھے اور نہ ہندستان کے مسلمانوں پر اکبر کاکوئی احسان ہے ۔لیکن تاریخ اور سچ کی حفاظت بہت ضروری ہے تا کہ جھوٹوں کا منہ کالا ہوسکے ۔یوگی آدتیہ ناتھ کی سب سے بڑی مجبوری یہ ہے کہ وہ ہر مسلمان نام والے شخص کو اسلام کا نمایندہ سمجھ بیٹھتے ہیں ،وہ شاید عصر حاضر کے ایم جے اکبر کو بھی ایسا ہی سمجھتے ہوں گے۔مگر الہ آباد کی تاریخ آج بھی سچ کہنے کو تیار ہے ، ڈسٹرکٹ گزٹ تو سرکار کی پہنچ میں ہے جس میں صاف طور سے الہ آباد کا نقشہ اور اس کی تاریخ نقش ہے ۔اکبر سے قبل کے مورخین اور اس کے عہد کے مورخین کی کتابیں موجود ہیں جنھوں نے الہ آباد و پریاگ اور اکبر کے وہاں جانے پر کافی روشنی ڈالی ہے، سبھی مورخین نے متفقہ طور سے اکبر کو الہ باس ( الہ آباد) کا بانی ،ہمدرد اور مشفق دکھایا ہے، کسی نے بھی ا س کو پریاگ کاویلن نہیں لکھا ہے۔ مشہور سیاح اور مورخ البیرونی تو اکبر سے چار سو سال قبل ہندستان آئے تھے ۔ انھوں نے گیارہویں صدی کے شروع میں ہندستان کے اس خطے کا سفر کیا تو دریائے جمنا و گنگا کے سنگم کے نزدیک کسی بھی قصبہ کو نہیں پایا بلکہ البیرونی کے مطابق مسلمانوں کے حملے سے قبل ہی قدیم شہر پریاگ پانی میں سمو کر ختم ہو گیا تھا ( دیکھئے البیرونی کا ہندستان جلد اول) عظیم مورخ کنگھم نے بھی البیرونی کی تائید کی ہے۔مشہور چینی مورخ اور زائر، ہائے وین تسیانگ اور مورخ کننگھم اس پر بات پر متفق ہیں کہ ساتویں صدی عیسوی میں یہ قدیم قصبہ صرف ایک اسکوائر میل میں تھا جو سمندر کے دونوں برانچوں کے درمیان قائم تھا ( دیکھئے میونسپل گورنمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن انگلش ص ۲۷ مصنفہ رانا تحسین)چینی مورخ کے اس بیان سے یہ تو بات صاف ہوگئی کہ پریاگ دو دریاؤں کے درمیان ایک چھوٹا قصبہ تھا ، ممکن ہے وہ زائرین کے ٹھہرنے کا علاقہ ہو ۔ مگر یہ علاقہ بھی چار سو سال بعد البیرونی کے دور میں پانی میں بہہ چکا تھا ۔
اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ یہ علاقہ ہندووں کے لیے ازمنہ قدیم سے ہی مقدس شہر رہا ہے ، کیوں کہ یہ مانا جاتاہے کہ یہ شہر تین مقدس دریاؤں:گنگا ، جمنا اور سرسوتی کا سنگم ہے ۔ وید میں اس کو پریاگ نام سے پکارا گیا ہے جہاں برہما نے قربانی دی تھی، اسی وجہ سے سنگم کے علاقے کو اکبر اور اس کے بعد کے دور میں بھی پریاگ کہاجاتا رہا جس کا معنی قربانی کی جگہ ہے۔اسی وجہ سے ہر عہد میں یہ زائرین اور عقید ت مندوں کا مرکز رہا ہے۔ ممکن ہے کہ چینی مورخ نے جس چھوٹے قصبے کا ذکر کیا ہے، وہ زائرین کے ٹھہرنے کی جگہ ہی ہو۔ اس بات کی تائید ڈاکٹر آرایل دویدی کی کتاب ’اوریجن اینڈ گروتھ آف الہ آباد‘ سے بھی ہوتی ہے ۔
اکبر کو بھی اس جگہ کے تقدس کا علم تھا ،نیز ایک حکمراں کے لیے یہ علاقہ تجارتی اور سیاسی وجوہات کی بنیاد پر بھی اہم تھا ۔انھیں اسباب کی بنیاد پر سولہویں صدی کے آخر میں مغل بادشاہ اکبر نے اس ویران پڑی ہوئی جگہ کو آباد کرنے کی کوشش کی ۔ اکبر کے ہم عصر ابوالفضل نے اکبر نامہ میں لکھا ہے کہ بادشاہ کی یہ بہت دیرینہ خواہش تھی کہ وہ پریاگ میں ایک عظیم شہر قائم کرے جہاں گنگا اور جمنا دونوں ملتے ہیں چنانچہ انھوں نے 1584میں اس کی بنیاد رکھی اور چار قلعوں کی تعمیر کا ارادہ کیا (دیکھئے اکبرنامہ جلد ۳) ہم عصر مورخ ملا عبدالقادر بدایونی کے مطابق مغل بادشاہ اکبر نے1574 میں پریاگ کا دورہ کیا اور قدیم شہر کی جگہ پر ایک قلعہ کی تعمیر کا حکم دیا (منتخب التواریخ جلد دوم اور سوم)طبقات اکبری کے مصنف نظام الدین احمد نے اکبرنامہ اور منتخب التواریخ میں سالوں کے اختلاف کا جواب یہ دیا ہے کہ جولائی 1574کو اکبر نے گنگا او رجمنا کے سنگم پر شہر بسایا اور1584ء میں ’جوسی پایک ‘میں ایک دوسرے شہر کی بنیاد رکھی اور اس کا نام’ الہ باس’ رکھا ۔دھیرے دھیرے قلعہ کے مغربی کنارہ پر ایک شہر بستا چلا گیا ۔
اس شہر کا نا م بھی’ الہ باس‘ اسی وجہ رکھاگیا کیوں کہ ہندو عقیدے کے مطابق یہاں خدا رہتے ہیں ، الہ آباس کا مطلب بھی خدا رہنے کی جگہ ہے ۔اس شہر کی تعمیر نو و توسیع کے بعد اکبر نے اسے صوبہ کی راجدھانی بنانے کا اعلان کیاجس سے اس شہر کی عظمت میں چارچاند لگ گیا ( بحوالہ آئین اکبری )یہ شہر دھیرے دھیرے قلعہ کے مغربی حصے میں پھیلتا گیا اور دارا گنج، کٹرا اور خلد آباد جیسی کالونیوں میں منتقل ہوگیا ۔ ایسا ماناجاتا ہے’ خلد آباد‘ کو بادشاہ جہانگیر نے تعمیر کیا اور ’دارا گنج‘ شاہ جہاں کے بڑے صاحبزادے داراشکوہ کے نام پر قائم ہو ااو ر’کٹرا‘ اورنگ زیب کے دور میں جے پور کے مہاراجا جے سنگھ سوائی نے قائم کیا ۔دریں اثنا مشہور خسرو باغ ، جہانگیر کے سب سے بڑے صاحبزادے خسرو کے نام پرتعمیر ہوا۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *