نئی دہلی: (ملت ٹائمز) آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر جناب نوید حامد نے مرکزی وزیرگری راج سنگھ کے دارالعلوم دیوبند سے متعلق بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے منصب وزارت سے فروتر اور غیر ذمہ دار قرار دیا ہے، نوید حامد صاحب نے کہا دارالعلوم دیوبند جیسے عالمگیر شہرت کے حامل تعلیمی دینی درسگاہ کو دہشت گردی سے جوڑتے ہوئے حافظ سعید اور ابوبکر بغدادی کو اس کا تعلیم یافتہ بتانے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ گری راج سنگھ کو اپنی ذمہ داری کا کوئی احساس نہیں ہے اور میڈیا کی توجہ پانے اور ملک کے ہندو اور مسلانوں کے درمیان میں نفرت، ان کو تقسیم کرکے ووٹ کی نفرت انگریز ناپاک سیاست کررہے ہیں، صدر مشاورت نے مرکزی سرکار سے مطالبہ کیا کہ گری راج سنگھ جیسے آدمی کو وزیر بنائے رکھنے کا کوئی جواز نہیں، ان کو فوری طور سے منصب وزارت سے ہٹایا جائے۔ انہوں نے دارالعلوم کو متوجہ کیا ہے کہ اگر مرکزی وزیر سرے عام معافی نہیں مانگتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جانی چاہیے، اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے ایک ایسے عظیم تعلیمی ادارے کی شبیہ خراب ہوتی ہے۔ جس دارالعلوم کی ملک و ملت اور وطن کی آزادی میں اہم تاریخی رول رہا ہے، جس دارالعلوم نے دہشت گردی کے خلاف ان گنت فتوے جاری کرنے کے علاوہ بہت سی کانفرنسیں اور اجلاس سب کیے ہیں، اسے دہشت گردی کا مندر قرار دینے سے کوئی بڑا جھوٹ نہیں ہوسکتا۔ جناب نوید حامد نے معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے مرکزی سرکار سے موثر کاروائی کا مطالبہ کیا تاکہ غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیانات پر قدغن لگ سکے۔

Leave a Reply