پٹنہ کے صحافیوں اور نوجوان اسکالرس سے ملاقات کے دوران شمس تبریز قاسمی کا اظہارِ خیال
پٹنہ : ( ندیم احمد ) صحافت کے ذریعہ ہم قوم و ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور اس کے ذریعہ بیداری لانا ہمارا مقصد ہے اسی لئے ہم نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد صحافت کا پیشہ اختیار کیا ہے ۔ صحافت میں آنے کا مقصد ہر گز پیسہ کمانا اور اسے روزگار بنانا نہیں بلکہ ایمانداری کے ساتھ مسلم سماج میں میڈیا کی کمی کو پورا کرنا اور اس پلیٹ فارم سے ملت کی تعمیر و ترقی کیلئے کام کرناہے ۔ ان خیالات کا اظہار پٹنہ میں بیسویں صدی کے معروف مفکر مولانا مناظر احسن گیلانی پر منعقد ہونے والے دوروزہ قومی سمینار میں شرکت کی غرض سے آئے نوجوان صحافی ملت ٹائمز کے بانی و چیف ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی نے صحافیوں اور نوجوان اسکالرس سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہمار ا خواب ٹی وی چینل کا قیام اور مین اسٹریم میڈیا کے ذریعہ مسلمانوں اور اقلیتوں کے مسائل کو دنیا کے پیش کرکے حل کرنا ہے لیکن اس کیلئے وسیع وسائل اور اسباب چاہئیے جو فی الحال ہمارے لئے ممکن نہیں ہے اس لئے ہم نے ڈیجیٹل میڈیا کا پلیٹ فارم منتخب کیا ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ ملت ٹائمز کی ویب سائٹ اردو ہندی اور انگلش تینوں زبان میں ہے۔ دنیا کے 140 ممالک میں یومیہ اس کے ایک لاکھ سے زائد قارئین ہے ۔ ملت ٹائمز کا یوٹیوب چینل بھی بہت مقبول ہے۔ جہاں تجزیہ ، انٹریوز اور نیوز وغیرہ کے ساتھ کئی اہم پروگرام پیش کئے جاتے ہیں اور لاکھوں میں اس کے ناظر ین ہیں ۔ فیس بک اور ٹوئٹر وغیرہ پر بھی لاکھوں لوگ وابستہ ہیں اور اس طرح ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعہ مین اسٹریم میڈیا کے منفی پیروپیگنڈہ کا ہم جواب دے رہے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں شمس تبریز قاسمی کا کہنا تھا کہ مسلم سماج میں جمہوریت اور اختلاف رائے کو تسلیم کرنے کا مزاج بہت کم پایا جاتا ہے ۔ پریس ریلیز والی صحافت کا مزاج بن چکا ہے جسے ہم ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ میڈیا کا مطلب ہوتا ہے آپ جس طرح دوسروں کے بارے میں حقائق پیش کرتے ہیں اپنے بارے میں بھی سچ منظر عام پر لائیں تاکہ اس سے سماج میں بیداری پیدا ہو اور اگر کوئی خامی ہے تو اصلاح کی جائے لیکن اکثر اسے منفی نقطۂ نظر سے دیکھا جاتا ہے جو افسوسناک ہے۔ واضح رہے کہ ملت ٹائمز معروف ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل ہے جس نے دسیوں ایسی اسٹوری کی ہے جوحکومت اور سماج پر اثر انداز ہوئی ہے ۔ حال ہی میں بہار کے سیتامڑھی فساد پر سب سے پہلے ملت ٹائمز نے ہی رپوٹ شائع کی جس کے بعد مین اسٹریم میڈیا میں اس خبر کو جگہ ملی اور اپوزیشن نے اسمبلی میں بھی احتجاج کیا ۔ بہار کرائم برانچ نے نوٹس بھیج کر ملت ٹائمز ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا جس سے ملت ٹائمز نے انکار کردیا تھا ۔ اس واقعہ کے بعد ملت ٹائمز اور اس کے بانی شمس تبریز قاسمی مسلسل سرخیوں میں ہیں ۔ بیباک صحافت اور نظر انداز کئے جانے والے مسائل کو منظر عام پر لانے کی وجہ سے بھی ملت ٹائمز کو خصوصیت کے ساتھ جانا جاتا ہے اور ڈیجیٹل میڈیا میں ملت ٹائمز کو خصوصی مقام حاصل ہے ۔

Leave a Reply