نئی دہلی : 13دسمبر (ملت ٹائمز) میگھالیہ ہائی کورٹ کے جج کا بیان آئین کی توہین اور نفرت کو فرو غ دینے پر مبنی ہے حکومت ہند کو چاہیئے کہ وہ اس کے خلا ف ایکشن لے ۔ یہ تبصرہ آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کیا۔میگھالیہ ہائی کورٹ کے جج کے بیان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہاکہ عدلیہ کی ذمہ داری ثبوت وشواہد کی بنیاد پر انصاف دینا ہے ،حقائق کی بنیاد پر مظلوموں کی انصاف فراہم کرناہے لیکن جج صاحب باہر کے پیر وپیگنڈہ سے متاثر ہوکر اس طرح کی باتیں کررہے ہیں جو عدلیہ کے وقار کے خلاف ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایک بہت مشہور وکیل نے کہاتھاکہ یہ بات صراصر جھوٹ ہے کہ ججز باہر کی گفتگو اور بحث سے متاثر نہیں ہوتے ہیں اسی لئے مذکورہ جج صاحب بھی آر ایس ایس اور سنگھ کے پیروپیگنڈہ سے متاثر ہوکر اس طرح کی بات کررہے ہیں ۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنے تبصرہ میں مزید کہاکہ ہائی کورٹ کے جج صاحب کا تبصرہ ملک کو بانٹنے والاہے اور یہ اس آئین کے خلاف ہے جس کا جس کا انہوں نے حلف لیاتھا ۔ان کے بیان سے یہ بھی لگتاہے کہ آئین ہند کے پس منظر کا مطالعہ نہیں کیا ہے کہ ہندوستان کا جمہوری اور سیکولر آئین کس پس منظر میں تشکیل دیاگیا ،اس وقت کے کیاحالاتھے ،کیا بحث ہوئی ،آئین کی تشکیل کے دوران کس طرح کی ڈبیٹ کی گئی ۔اسی لئے وہ ہندوراشٹر کی وکالت کررہے ہیں ۔ڈاکٹر عالم نے حکومت کے ساتھ سپریم کورٹ سے بھی اس معاملہ میں مداخلت کرنے کی اپیل کی ۔

Leave a Reply