حیدر آباد: ( ایم این این ) حکومت کی جانب سے 27 دسمبر کو پارلیمنٹ میں تین طلاق مخالف بل پیش کئے جانے کے مسئلہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مختلف سیکولر جماعتوں اور ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے ملاقات کرکے ان کی پارٹی کی جانب سے پارلیمنٹ میں بل کی پر زور مخالفت کرنے کے سلسلے میں کوششیں شروع کردی ہیں، اسی ضمن میں آج بورڈ کے ترجمان اور سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے آندھرا پردیش کے وزیراعلی چندرابابو نائیڈو سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔
اس موقع پر بورڈ کے ترجمان اور سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور ویمینس ونگ کی چیف آرگنائزر ڈاکٹر اسماء زہرا نے بل کی مخالفت کی تفصیلی وجوہات بیان کیں ۔
جناب چندربابو نائیڈو نے وفد کے اراکین کی فکروں کو نہ صرف بغور سماعت فرمایا بلکہ کہا کہ میں بذات خود خاندانی نظام کے بقاء و تحفظ کا شدت سے پیروکار ہوں. ہمارے ملک کا سماجی تانا بانا مذہب کی تفریق کیے بغیر خاندانی نظام ہی میں مضمر ہے. ہمارا معاشرہ گھروں میں وہ خوشحالی اور سکون فراہم کرتا ہے’ جو مغربی تہذیب میں قطعاً نظر نہیں آتا. سچ تو یہ ہے کہ معمولی وجوہات کی بنا پر طلاق کی شرح دیگر تمام قوموں میں بھی موجود ہے، تو پھر کیوں کسی مخصوص قوم ہی کو اس طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ اور کیوں صرف ایک ہی مذہب کے شوہر کو سزا دی جا رہی ہے؟میں اور میری پارٹی آپ کو اس بات کا یقین دلاتی ہےکہ ہم مکمل طور پر اس بل کی مخالفت کریں گے ۔
اس موقع پر این ایم ڈی فاروق صاحب (منسٹر ماینورٹی ویلفیئر ) اور مسٹر ضیاء الدین صاحب (آندھرا پردیش سٹیٹ مائنوریٹی کمیشن) ان حضرات نے بھی اس بات پر زور دیا کہ جو بنیادی حقوق دستور ہند ملک کے ہر باشندہ کو فراہم کرتا ہے یہ بل اس کے خلاف ہے ۔
وفد کے دیگر اراکین میں مولانا محمد ذاکر رشادی نیلور، مولانا عبدالباسط گنٹور صدر جمعیۃ علماء، مولانا آصف ندوی گنٹور نائب صدر جمعیۃ علماء، مفتی محمد فاروق قاسمی وجئے واڑہ اور آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ کی رکن محترمہ سیدہ عائشہ طیبہ وجئے واڑہ موجود تھیں ۔

Leave a Reply