یوپی عظیم اتحاد کا فارمولہ تقریباً طے، کانگریس سے دوری اور پیس پارٹی، نشاد پارٹی، اپنادل سے یارانہ




لکھنؤ: (سیف الرحمٰن/ ملت ٹائمز) 2019 کی شروعات ہوتے ہی آنے والے لوک سبھا الیکشن کی سرگرمی بھی تیز تر ہوتی دکھائی دے رہی ہے بالخصوص یوپی اور بہار جوکہ دہلی کے کرسی کی سب سے اہم سیڑھی مانے جاتے ہیں میں سیاسی درجۂ حرارت اپنے شباب پر ہے جہاں بہار میں راجد اتحاد میں سیٹوں کا بٹوارا تکمیل کے مرحلے میں ہے وہیں یوپی میں بھی سپا، بسپا اتحاد کا فارمولہ تقریباً طے ہوتا دکھ رہا ہے اس ممکنہ اتحاد کی سب سے اہم بات یہ ہیکہ اس بھاجپا مخالف اتحاد کو کانگریس مکت رکھا گیا ہے وہیں جاٹ ووٹ بینک والی رالود مسلم ووٹ بینک والی پیس پارٹی کو اور این. ڈی. اے. سے ناراض اپنا دل کو بھی نمائندگی دی گئی ہے ان کے علاوہ نشاد پارٹی اور شبھاشپا کو بھی اتحاد کا حصہ بنایا گیا ہے کہا جارہا ہیکہ اس اتحاد میں بسپا کو 34 سے 37 سپا کو 34 سے 36 رالود کو 03 سے 04 پیس پارٹی کو 02 اور باقی نشاد پارٹی، اپنا دل اور شبھاشپا کو 01-01 سیٹ ملنے جارہا ہے اس اتحاد کو کانگریس مکت تو رکھا گیا ہے، لیکن امکان ہیکہ امیٹھی اور رائے بریلی کا سیٹ کانگریس کے سینئر لیڈران کیلئے چھوڑدیا جائیگا وہاں عظیم اتحاد اپنا امیدوار نہیں اتارے گی، ایسے میں اب دیکھنا دلچسپ یہ ہیکہ ملک کی دوسری بڑی لیکن یوپی میں سیاسی طور پر بیحد کمزور کانگریس پارٹی اب کیا رخ اپناتی ہے لوگوں کی مانے تو کانگریس سپا سے ناراض ہوکر اپنی پارٹی بنالینے والے شیوپال سنگھ یادو سے رابطہ میں ہے اور اس کے ساتھ ملکر تیسرے محاذ کی تشکیل کرسکتی ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *