امریکہ اور ترکی کے رشتوں میں ایک مرتبہ پھر تلخی ۔ قومی سلامتی کے مشیر کو اردگان نہیں دیا ملنے کا وقت

طیب ایردآن نے کہا کہ اسرائیل کے دورے کےدوان جان بولٹن نے جو کچھ کہا ہے وہ ہمارے لیے ”ناقابل قبول“ ہے۔ ہم اس معاملے میں کسی قسم کے تساھل کا مظاہرہ نہیں کریں گے
انقرہ(ملت ٹائمز)
ترکی اور امریکا کے درمیان تعلقات میں پائی جانے والی سرد مہری میں کمی کی خبروں کے بعد ایک بار پھر دونوں ملکوں میں تناﺅ دیکھا جا رہا ہے۔ اس کا اندازہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے دورہ ترکی سے لگایا جا سکتا ہے۔ جان بولٹن ترک صدر سے ملاقات بغیر کل منگل کو واپس روانہ ہو گئے۔بیان لاقوامی میڈیا رپوٹ کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ترک ایوان صدر کے ترجمان ابراہیم کالن، دفاع اور خارجہ نے معاون وزرائ خارجہ اور انٹیلی جنس شعبے کے معاون سے ملاقات کی۔ تاہم صدر طیب ایردوآن اور وزیراعظم نے جان بولٹن کو ملاقات کا وقت نہیں دیا۔منگل کو ترک صدر نے ایک بیان میں جان بولٹن کے اس بیان پر شدید تنقید کی جس میں شام سے امریکی فوج کے انخلائ کے بعد کردوں کے تحفظ کا یقین دلایا تھا۔ ترکی شام کے کرد جنگجوﺅں کو دہشت گرد خیال کرتا ہے۔
طیب ایردآن نے کہا کہ اسرائیل کے دورے کےدوان جان بولٹن نے جو کچھ کہا ہے وہ ہمارے لیے ”ناقابل قبول“ ہے۔ ہم اس معاملے میں کسی قسم کے تساھل کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ ترک صدر کا کہنا تھا کہ جان بولٹن نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے دورے کے دوران جان بولٹن نے کہا تھا کہ شام سے امریکی فوج کے انخلاءمیں وہاں پرموجود امریکی اتحادیوں کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ہم کردوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے بلکہ ان کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔

SHARE