ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے (محمود عارف ندوی مرحوم)

فتح محمد ندوی
اب یہ معلوم نہیں کہ محمود بھائی سے پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی ؛لیکن دہلی میں با ضابطہ طور پر گا ہے گاہے ان سے یہ رسمی شنا سائی محبت اور تعلق خاطر میں تبدیل ہو گئی۔ وقت کی رفتار کے ساتھ ان کی محبت دل میں جگہ بنا تی گئی۔ لیکن یہ کیا معلوم تھا کہ آپ کی حیات مستعار کے لمحات جلد مکمل ہونے والے ہیں اور ہمیشہ کے لیے آپ ہم سے جدا ہو کر داغ مفارقت دے جائیں گے ۔ انسان بہر حال انسان ہے ،ٹا ل مٹول اور نظر اندا ز کرنا اس کی فطرت میں داخل ہے !بات آگے بڑھ تی گئی تعلقات میں اضافہ ہو تا گیااور مجھے وہ دن بھی یاد ہیں جب محمود بھائی سے ملاقات ہوتی تو ان کے چہرے کی مسکرا ہٹ اور کو ثر و تسنیم میں دھلی ہو ئی ان کی زبان اور اس کے ساتھ ساتھ ان کاوہ ا خلاص جس کی گر می سے دل پگھل کر آب ہو جاتا۔ جب بھی آپ سے ملاقات ہوتی تو ایسا معلو م ہو تا کہ محبت اور پیا ر کا ایک مجسمہ سامنے ہے،جس سے ہم محو گفتگو ہیں۔ یقیناًایک عجیب سی کیفیت تھی ان ملا قاتوں میں جو محمود بھا ئی سے ہوتی۔ حالاں کہ آپ ہمارے معا صر تھے لیکن کیا مجال جو ان کے سا منے ہم ایسی بات کریں جو بے تکلفانہ زندگی سے تعلق رکھتی ہوں۔ آپ کی محفل میں ضروری با توں سے آگے بڑھنا ایک بڑی گستاخی تھی۔ کسی کی عیب جوئی؛ د ل آزا ری ،تنقید یا کسی کے حوالے سے منفی سوچ وغیرہ جیسی بیماریوں سے محمود بھائی کا ذہن پاک اور صاف تھا۔ مثبت سوچ و فکر ہی سے محمود بھا ئی کا خمیر تیار ہوا تھا ،اور یہی وہ عناصر خاص ہیں جو کسی کی شخصیت کو پروان چڑھا نے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ محمود بھائی کے یہی وہ وصف تھے جو ان کو معا صر دوستوں میں ممتاز رکھتے تھے۔ جبکہ آپ ابھی عمر کے ان مرحلوں میں داخل نہیں ہوے تھے جہاں یہ سب چیز یں انسان کو میسر آتی ہیں لیکن جس کے ساتھ خدا کا فضل شامل ہو اور وہ نواز نے پر آئے تو پھر کیا کہنے ۔
محمود بھا ئی کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ صرف چند جملوں میں یہ ا حساس کرا نے کا ہنر جا نتے تھے کہ محبتوں کوسند کی ضرورت نہیں ہوتی۔ان کی محبت اور تعلق داریاں ایسی تھیں جہاں نفاق ، بناوٹ اور دکھاوا نہیں تھا بلکہ خلوص اور وضعداریاں تھیں۔ ہمیشہ ملاقات پر مجھ سے یہ ضرور پو چھتے کہ کیا کر رہے ہو ملاقات کیوں نہیں کرتے ،کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔ ایک مرتبہ مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت ہو ئی میں نے ان سے سوال کیا تو فوراً انتظام کر دیا ،کچھ دنوں کے بعد معلوم ہوا کہ انتقال ہو گیا پھر میں نے وہ رقم ان کے بھائی کو ا دا کرد ی۔ غرض آپ ہمارے بڑے محسنوں میں سے تھے سادہ طبیعت اور سادہ دل کے مالک۔ بہ قول عظیم شاعر ماہر القادری:
تمنا پاک دل معصوم فطرت کس قدر سادہ
محبت سادگی ہی سادگی معلوم ہوتی ہے
کچھ ذکر محمود بھائی کی رفیقہ حیات کا ،مرحوم کی عمر ابھی تقریباً پچیس سال کی رہی ہو گی ،اس نو جوانی میں کتنی اور کیسی کیسی خواہشیں اس نئی نو یلی دلہن کی ہو ں گی جس کے ہا تھوں کی مہندی ابھی اداس بھی نہیں ہوپا ئی تھی ۔ جس کی سب خواہشیں اور امیدیں ابھی سینے میں ہی دفن تھیں ۔بھا ئی بہن اور ما ں باپ سے رخصت کے وقت کے آنسووں کی طغیا نی ابھی باقی تھی۔لیکن کیا کیاجا ئے ! کہ آناً فاناً میں سب امیدیں ختم ہو گئیں۔ اورسب ارمان عنقا ہو کر یہ خوشیوں بھری محفل بزم ماتم بن گئی ۔اس با ت کا اندازہ ایک صنف نازک ہی لگا سکتی کہ شوہر اس کی زندگی میں ایک ساےۂ فگن اور اس ستون کے مانند ہو تا ہے جو سبھی وزن اپنے اوپر برداشت کرتا ہے ۔ اور بڑی بڑی آند ھیاں اور زلزلوں سے بھی وہ ہا ر نہیں ما نتا ۔ لیکن اب یہ ستون گرگیا ۔ اور یہ سایہ ہمیشہ کے لیے ان کی زندگی سے اٹھ گیا۔ محمود بھا ئی کی رفیقہ بے آسرا ہو گئی،اب وہ کس کا انتظار کر یں گی ،کس کو اپنے غم سنا ئیں گی، کس سے اپنی خوشیوں کا اظہار کریں گی ،کس کے سا منے اپنے اکلوتے بیٹے کے ناز پو را کرنے کے لیے کہیں گی، اور اب کو ن اس کی نا ز آفرینی کرے گا ۔ بقول پر وین شاکر :
عقب میں گہرا سمندر ہے سامنے جنگل
کس انتہا پے میرا مہر باں چھو ڑ گیا
مولانا محمود عارف ندوی مرحوم اتر پر دیش کے ایک علمی زر خیز ضلع سہا رنپورکے ایک گاؤں کھیل پور میں ۱۰جنوری ۱۹۸۹ء کو پیدا ہوے۔ پھراپنے بڑے بھائی مفتی محمد انس قاسمی صاحب کے پاس چندی گڑھ میں ابتدائی تعلیم کے مر حلے طے کرکے مشہور دینی اور عصری علوم گاہ المہد الاسلامی مانک مؤ میں پڑاو ڈالا، یہا ں کے قابل قدر اساتذہ سے بھر پور استفادہ کر کے عالمی شہرت یافتہ ادارہ دارالعلوم ندوۃالعلمالکھنؤ میں مزید تعلیم کے لیے رخت سفر با ندھا۔وہاں کے علمی اور فکر ی ما حول نے ان کی علمی تشنگی کو اور بھڑکادیا ۔ اب ان کی فکر کی جولانگاہ کسی ایسے ادارے کی تلاش میں سرگرداں تھی جو ان کو رفعت ثریاکی سیر کرائے۔اس کے لیے آپ کی نظر جا معہ ملیہ اسلامیہ پر گئی یہاں سے. MA in Arabic. Ph D in arabic BA in Arabic اور ساتھ ہی یو جی سی کا اسکالر شپ ) RF J (پاس کر کے علم کا یہ ماتم گسار اچانک کرنٹ لگنے سے ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا۔ اللہ آپ کی قبر پر ہمیشہ رحمت کے پھول برسائے ۔بہر حال آپ کی موت ہم سب اور بطور خاص آپ کے بوڑھے ماں باپ کے لیے ایک ناقابل بیان حادثہ ہے۔ کیونکہ ماں باپ کے لیے نو جوان بیٹے کی موت ۔ پھر باپ کا اپنی جوان اولاد کو ااپنے نقاہت بھرے کا ندھوں سے اٹھانا اور قبر کے دہانے تک لے جانا کسی قیامت سے کم نہیں ہو تا۔ سوائے ماں باپ کے ان صبر آزماں مرحلوں کا انداز ہ اور کو ئی محسوس نہیں کر سکتا ۔یقیناً یہ کوہ گراں غم ہر ماں باپ کو نڈھال بنا دیتا ہے۔ تاریخ میں ایسی بہت سی مثا لیں مو جود ہیں کہ جوان اولاد کی موت ماں باپ کے لیے جاں بلب ثابت ہو ئی
�آخر میں آپ کے ماں باپ بھائی بہن عزیز و اقا رب اور پوری ندوی برادری سودا کے اس شعر کے ساتھ آپ کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے :
تنہا تیرے ماتم میں نہیں یہ رات سیاہ پوش
رہتا ہے سدا چاک گریباں سحر بھی

SHARE