رافیل سودے بازی کے حوالے سے وزارت دفاع نے وزیر اعظم دفتر سے کی تھی شکایت
رپورٹ کے بعد اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت پر حملے تیز کردئے ہیں۔ حالانکہ وزیر دفاع نرملا سیتارمن نے الزام لگایا ہے کہ اخبار کی رپورٹنگ بھید بھاؤ پر مبنی ہے۔ رپورٹ میں اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر کا تبصرہ بھی شامل کیا جانا چاہئے تھا۔
وزات دفاع جب رافیل سودہ کیلئے فرانس حکومت سے بات چیت کررہی تھی ، اسی دوران وزیر اعظم دفتر بھی اس پر فرانس سے متوازی سودے بازی کررہا تھا ۔ انگریزی اخبار دی ہندو نے ایک سرکاری نوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ایک رپورٹ میں یہ دعوی کیا ہے ۔ بتادیں کہ اس رپورٹ کی بنیاد پر کانگریس صدر راہل گاندھی نے جمعہ کو وزیر اعظم مودی پر نشانہ سادھا ہے۔

رپورٹ میں 24 نومبر 2015 کو اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر کو اس وقت کے دفاعی امور کے سکریٹری کی طرف سے بھیجے گئے نوٹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سکریٹری نے متوازی سودہ بازی کی مخالفت کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ پی ایم او کو اس میں شامل ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟ ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح سے پی ایم او کے ذریعہ کئے گئے متوازی بات چیت کی وجہ سے سودہ کے دوران وزارت دفاع کی پوزیشن تھوڑی کمزور ہوگئی ۔ ہم پی ایم او کو مشورہ دے سکتے ہیں کہ جو افسران بات چیت کرنے والی ٹیم میں شامل نہیں ہیں ، وہ لوگ متوازی طریقہ سے فرانس کی حکومت سے بات چیت کرنے سے دور رہیں ۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر پی ایم او کو لگتا ہے کہ وزارت دفاع کی بات چیت سے اتفاق رائے قائم نہیں ہوسکتا ہے تو وہ اگلی سطح پر پھر سے بات چیت کرسکتا ہے۔
یہ نوٹ ڈپٹی سکریٹری ایس کے شرما نے تیار کیا تھا ، جس کو اس وقت کے سکریٹری جی موہن کی طرف سے بھیجا گیا تھا ۔ اس میں لکھا تھا کہ اس طرح کی بات چیت سے پی ایم او کو بچنا چاہئے ، جس کی وجہ سے بات چیت میں ہماری پوزیشن کمزور ہوتی ہے۔
اس رپورٹ کے بعد اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت پر حملے تیز کردئے ہیں۔ حالانکہ وزیر دفاع نرملا سیتارمن نے الزام لگایا ہے کہ اخبار کی رپورٹنگ بھیدبھاو پر مبنی ہے۔ رپورٹ میں اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر کا تبصرہ بھی شامل کیا جانا چاہئے تھا۔

Leave a Reply