مظفرپور: موجودہ حالات میں جبکہ ہمارے ملک میں مسلمانوں کے خصوصی مسائل کے نفاذ کا کوئی ادارہ نہیں ہے، امارت شرعیہ کا وجود اور اس کا استحکام کس قدر ضروری ہے اور مسلمانوں کی اس سے وابستگی ان کا کتنا اہم فریضہ ہے ،یہ کسی صاحب بصیرت سے مخفی نہیں، سیاسی اورنیم سیاسی جماعتیں اپنی جگہ ہیں امارت شرعیہ کا ان سے کوئی ٹکراؤ نہیں، لیکن دینی و ملی معاملات میں تمام مسلمانوں، جماعتوں، اور افراد کا فرض ہےکہ وہ امارت شرعیہ اور امیرشریعت کو اپنا دینی رہبر تسلیم کریں اوران کے ہاتھ مظبوط کریں، ان خیالات کا اظہار جناب مولانا بلال احمد صاحب رحمانی نے شمالی بہارکی اہم دینی درسگاہ مدرسہ احمد یہ کریمیہ مصر اولیا اورائی مظفرپور میں علماء وسماجی کارکنان کی ایک نششت سے خطاب کرتے ہوے کیا ۔ مولانا رحمانی نے مزید کہا کہ اس وقت مسلمانوں کے بے شمار مسائل حل طلب ہیں، اوران کے حل کے لیے اجتماعی جدوجہد بہت ضروری ہے،الحمدللہ ہمارے امیرشر یعت،مفکر اسلام حضرت مولانا سیدمحمد ولی رحمانی صا حب دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر، جنرل سکریٹری آل انڈ یا مسلم پرسنل لابورڈ سرگرم ہیں اور اسی سرگرمی کے تحت 4 -5 مارچ کو ہمارے شہر مظفرپور تشریف لارہے ہیں، جہاں احاطہ حاجی عتیق احمد مہیش بابوچوک جو رن چھپرہ میں حضرات علماء، ائمہ کرام، ذمہ داران مدارس، دنشوران،سماجی کارکنان، نقباء و نائبین ، ارباب حل وعقد، و ارکان عاملہ وشوری امارت شرعیہ سے مقامی مسائل و مشکلات سے واقفیت حاصل کرنے کے ساتھ ان کے حل کی طرف رہنمائی فرمائیں گے،اور 5 مارچ کو بعد نماز مغرب اقلیمہ ہائی اسکول میدان چین پوربنگرا میں اجلاس عام کے ذریعہ ملت کوحیات بخش پیغام دیں گے، ہم سبھوں کی دینی وشرعی ذمہ داری ہے کہ سمع و طاعت کے جذبہ کے ساتھ اس دو روزہ پروگرام میں شرکت کریں اور حضرت امیر شریعت کے پیغام پر عمل کریں، الحمدللہ تمام شرکاء نے سمع و طاعت کے جذبہ کے ساتھ حضرت امیرشر یعت کے خصوصی و عمومی پروگرام میں شرکت کرنے کاعزم کیا، اس موقع پر مولانا طفیل اختر قاسمی، مولانا محمد امتیاز، ماسٹر فخر عالم نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

Leave a Reply