مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے چانسلر فیروز بخت کے ذریعہ یونیورسٹی کے طلباء اور اساتزہ پر ملک مخالف ہونے کا الزام لگائے جانے کے خلاف 21 فروری کو مانو کے طلباء و طالبات نے کلاسوں کا بائیکاٹ کر ایک روزہ احتجاجی دھرنے کا انعقاد کیا
جسمیں انہوں نے چانسلر سے مانگ کیاکہ وہ اپنے بیان پر جلد از جلد معافی مانگے ساتھ ہی انہوں نے صدر جمہوریہ ہند سے مانگ کیاکہ وہ اس چانسلر سے استعفیٰ لیکر اسکی شازش سے یونیورسٹی کو آزاد کرے، اس موقع پر مانو طلباء یونین کے صدر محمد فیضان نے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیاکہ طلباء یونین چانسلر کے یونیورسٹی مخالف بیان کو لیکر ان کے خلاف کورٹ جائیگی ۔کیمپس فرنٹ آف انڈیا کے سیف الرحمٰن نے دھرنا کو کامیاب کرنے کیلئے متحرک رول ادا کیا اور چانسلر کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف لڑائی کو اخیر تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا انہوں نے بتایا کہ وہ پورے ملک کے کیمپس فرنٹ و دیگر اسٹوڈینٹس تنظیموں کے لیڈران سے رابطہ میں ہیں تاکہ ضرورت پرنے پر پورے ملک میں ایک مضبوط آواز بلند کیا جاسکے۔
طلباء یونین کے سابق صدر و اے.یو.ایس.ایف لیڈر عطاءاللٰلہ نیازی نے چانسلر کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ مانو برادری کو کسی سے دیش بھکتی کا سرٹیفیکٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے، اس موقع پر یونیورسٹی کے مشہور اسٹوڈینٹ ایکٹوسٹ مبشر جمال نے مانگ کیاکہ چانسلر فوراً معافی مانگے اور حکومت انہیں جلد از جلد چانسلر کے عہدہ سے برخاست کرے۔

ایس.آئی.او لیڈر عمر فاروق نے چانسلر کے شازش کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ایس.آئی.او کی پورے ہندوستان کی ٹیمیں مانو کے ساتھ چانسلر کے اس بیان کے خلاف کھڑی ہے۔مانو انتظامیہ سے مانو رجسٹرار و پروکٹر نے طلباء کے بیچ آکر انکی مانگیں سنی اور آگے بڑھانے کا وعدہ کیا۔


Leave a Reply