محمڈن لاء اور دستورِ ہند ایک تحقیقی جائزہ

محمد مہدی حسن عینی
ربّ کائنات نے کرّۂ ارضی پر تمام مخلوقات کو پیدا کرکے ان کے لئے غذا کا انتظام بھی کیا لیکن انسان چونکہ بہیمت اور ملکوتیت کا مجموعہ ہے، اس وجہ سے اس کے لئے جسمانی و روحانی دونوں طرح کی غذاؤں کا انتظام کیا گیا، انسانوں کی روحانی غذا انبیاء و رسُل کی تعلیمات و پیغامات ہیں اور اب نبئ آخر الزماں ﷺ کی تعلیمات اور ہدایات ہی کا نام ’’شریعتِ اسلامی ‘‘ہے، اور ان کا سمجھنا فقہ کہلاتا ہے ، اور ان کو علمی و عملی طور پر بصیرت کے ساتھ سمجھنے والا ، اور ان کی تشریح کرنے والا فقیہ کہلاتا ہے ، شریعتِ اسلامی کا مدار ’’فوز و فلاحِ اخروی‘‘ ہے ،یہی بنیادی فرق ’’اسلامی احکامات اور عدالتوں و اسمبلیوں کے قوانین ‘‘کے مابین ہے جس کی وجہ سے دنیوی عدالتیں حقوق و احوال کو دو حصّوں میں تقسیم کرتی ہیں۔ Personal Law (شخصی و ذاتی احوال)، Common Law(مشترکہ قانون) جو ملک کے تمام باشندوں پر یکساں نافذ ہوتے ہیں لیکن شریعتِ مطہرہ اس تقسیم کو تسلیم نہیں کرتی بلکہ شریعت کے احکامات ہمہ جہت وعالمگیر ، اور معاشرت و معاملات، تہذیب و ثقافت، اجتماعی و انفرادی، خانگی و بیرونی، ملکی و ملّی، سیاسی و سماجی الغرض تمام ہائے شعبہ ہائے حیاتِ انسانی کو محیط ہوتے ہیں۔ ہمارے ملکِ عزیز میں بنیادی طور پر رائج سِول کوڈسے دو قسم کے احوال و قوانین نافذ ہوتے ہیں۔ سِول کوڈ جس میں یقینی طور پر Criminal Codeیعنی جرائم پر تادیبی قوانین ملک کے ہر ایک باشندے کے لئے برابر ہیں، اس میں نسل و رنگ ، مذہب و مسلک، ذات پات کی وجہ سے کوئی تفریق و امتیاز نہیں ہوتا، البتہ سِول کوڈ کا ہی ایک حصہ Personal Lawکہلاتا ہے جو ملک کی مختلف اقلیتوں کو ان کے مذہب کی وجہ سے ملتا ہے، جس میں مسلمان بھی شامل ہیں جن کو ان کے مذہبی احکامات کی وجہ سے بعض شعبوں میں اختیارات ملتے ہیں کہ عائلی مسائل، ’’نکاح و طلاق، خلع ، ایلاء و ظہار، وقف و رضاعت‘‘ جیسے معاملات اگر ملکی عدالتوں میں دائر کئے جائیں اور دونوں فریق مسلمان ہوں تو عدالتیں اسلامی قانون کے مطابق ہی فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گی۔ انہیں قوانین کے مجموعے کو مسلم پرسنل لاء اور محمڈن لاء کہا جاتا ہے۔ Mohammadan Lawمحمڈن لاء کا ثبوت قرآن و حدیث سے ہے، یہ کسی پارلیمنٹ کا پاس کردہ قانون نہیں ہے، لہٰذا محمڈن لاء کسی بھی طرح کی ترمیم و تبدیل کی گنجائش نہیں رکھتا۔
ہمارے ملک ہندوستان میں عرصہ سے مسلم پرسنل لاء میں بعض روشن خیال دانشور و اسلام مخالف لیڈران اپنی عقل و نظر کا استعمال کرکے عائلی معاملات پر انگشت نمائی کرکے ملتِ اسلامیہ کے لئے پریشانی کا سبب بنتے آئے ہیں۔ کبھی وہ تین طلاق کی مخالفت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ، کبھی نان و نفقہ کے مسائل میں گھس کر خود ساختہ عالم بننے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی چار شادیوں پر اعتراض کرتے ہیں ، ابھی کچھ دن پہلے کیرالہ ہائی کورٹ کے جسٹس بی کمل پاشا نے خواتین کے حقوق پر بات کرتے ہوئے نہایت بھونڈا، غیر معقول اور غیر دانشمندانہ قیاس پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب مرد چار شادیاں کر سکتے ہیں تو عورتیں چار شادیاں کیوں نہیں کر سکتیں؟ اسی روش پر چلتے ہوئے دو دن پہلے کانگریس کے سینئر لیڈر و سابق وزیر منیش تیواری نے کہا کہ محمڈن لائکیا بھارت کے سنودھان سے بڑھ کر ہے جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں؟ منیش تیواری کا یہ اعتراض مسلم پرسنل لا بورڈ کے اس عدالتی حکم کی مخالفت کی وجہ سے تھا جس میں سپریم کورٹ نے تین طلاق والے مسئلہ کی قانونی حیثیت کا پتہ لگانے کے لئے کمیشن تشکیل دینے کی بات کہی تھی۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقف یہی تھا کہ محمڈن لاء کی بنیاد قرآن و حدیث ہے جس میں تبدیلی کا کوئی جواز نہیں اور شریعتِ مطہرہ نے تین طلاق کے بعد بیوی کو کلیۃً علیحدہ کرنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا تین طلاق دینے کے بعد بیوی کو روکنا کسی بھی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے وہ الگ بات ہے کہ شریعت نے تین طلاقوں میں تدریج کو ضروری قرار دیا ہے، لہٰذا اس قانونِ شرعی میں ترمیم کرنا عدالتِ عظمیٰ کے اختیار سے باہر ہے، نیز مسلم پرسنل لاء بورڈ نے یونیفارم کوڈ کی بھی مخالفت کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے سوال کیا تھا کہ قومی ایکتا کے لئے کیا یونیفارم کا یکساں ہونا ضروری ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو یکساں یونیفارم ہونے کے باوجود عیسائیوں کے مابین دو دو عالمی جنگیں کیوں ہوئیں؟ نیز 1956میں ہندو کوڈ کے آنے بعد بھی ہندوؤں کے مابین ذات پات کا اتنا اختلاف کیوں ہے؟ منیش تیواری نے بورڈ کے اسی موقف پر اعتراض کیا ہے ، ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اس سے پہلے مشہور فرقہ پرست لیڈر ’’سادھوی پراچیا ‘‘بھی کہہ چکی ہیں کہ ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں مسلم پرسنل لاء ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے اس لئے اس کو ختم کر دینا چاہئے، ویسے تو دستور سازی کے ساتھ ساتھ مسلم پرسنل لاء کی آزدی بھی روزِ اول سے ہی مسلمانوں کو حاصل تھی لیکن اس پر بڑے پیمانے پر حملہ اس وقت ہوا جب 1985میں ’’شاہ بانو‘‘ مقدمہ پرسپریم کورٹ نے ’’مسلم پرسنل لاء کے اس دفعہ کے خلاف کہ مرد پر عورت کے نان نفقہ کی ذمہ داری اس کی عدت کے ختم ہونے تک ہی ہے‘‘ یہ فیصلہ دیا کہ اس کا شوہر عدت کے بعد بھی اس کا نفقہ و خرچہ اٹھاتا رہے گا، اس فیصلے کے مخالف شرع ہونے کی وجہ سے تمام ہندوستانی مسلمانوں نے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا جس کے نتیجہ میں 1986میں راجیو گاندھی حکومت نے پارلیمنٹ میں مسلم خواتین کے لئے ایک نیا قانون پاس کیا جس سے سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ کالعدم قرار پایا، اس کے باوجود آج پھر سرکاری عدالتیں، نکاح ، طلاق اور عدّت وغیرہ سے متعلق ایسے فیصلے صادر کر رہی ہیں اور ایسے اقدامات کی کوشش کر رہی ہیں جو مسلم پرسنل لاء کے خلاف ہے۔ نکاح، طلاق وعدّت وغیرہ سے متعلق سرکاری عدالتوں کے اس طرح کے فیصلے جہاں مسلم پرسنل لاء میں مداخلت ہے وہیں مسلمانوں کو دستورِ ہند میں حاصل مذہبی آزادی سے محروم کرنے اور یکساں سِول کوڈ کے نفاذ کی منصوبہ بند سازش کا حصہ ہیں، مگر اس میں ہم مسلمان بھی برابر کے قصور وار ہیں کہ اپنے اس طرح کے نزاعات و جھگڑوں کو اپنے مذہبی اداروں ، ’’دارالافتاء، دارالقضاء و شرعی پنچایت‘‘ سے حل کرنے کے بجائے سرکاری عدالتوں کا رُخ کرتے ہیں اور انہیں مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔لہٰذا جو شخص اللہ رسول اور آخرت کی جزاء و سزا پر یقین رکھتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اپنے معاشرتی ، تمدنی و معاملاتی امور کو اپنے مذہبی اداروں سے ہی حل کرائے، اسی میں اس کی دنیوی فلاح اور اخروی نجات ہے۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے (فلا وربّک لا یؤمنون حتّی یحکموک فیما شجر بینہم ثمّ لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما )
ترجمہ:سوآپ کے پروردگار کی قسم ہے کہ یہ لوگ ایماندار نہ ہوں گے جب تک یہ لوگ ان جھگڑوں میں جو ان کے آپس میں ہوں آپ کو حکَم اور فیصل نہ بنالیں اور پھر جو فیصلہ آپ کردیں اُس سے اپنے دلوں میں تنگی نہ پائیں اور اُس کو پورا پورا تسلیم کرلیں۔ (سورۂ نساء ؍۶۵)
اس آیت نے یہ صاف کردیا کہ رسول خدا ﷺ کی عدالت میں محض مقدمات لے آنا ہر گز ایمان کے لئے کافی نہیں ہے ، عقلی و اعتقادی حیثیت سے اطمینان بھی رسول کے فیصلے پر ہونا چاہئے ۔ آیتِ مبارکہ کی قبیل سے آپ کی حیاتِ مبارکہ میں تو آپ کا حکَم بننا ظاہر ہی تھا ، بعدِ وفات آپ کی شریعت حکَم بننے کے لئے کافی ہے۔ فقہاء نے اس آیت سے استنباط کیا ہے کہ جو کوئی اللہ یا اس کے رسول ﷺ کے کسی حکم میں شک و شبہ کرے یا ماننے سے انکار کرے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
اب آیئے تفصیل و تحقیق کے ساتھ یکساں سِول کوڈ کی حقیقت ،ازروئے دستورِ ہند مذہبی آزادی کی حیثیت کو کھنگالیں نیز ایک تنقیدی نگاہ دستورِ ہند اور موجودہ مسلم پرسنل لاء پر ڈالیں۔ ملک کے دستور کا دیباچہ بہت واضح ہے کہ بھارت ایک آزاد ، سماج وادی، سیکولر جمہوریہ ہے ، جس کے شہریوں کو سیاسی، سماجی اور معاشی انصاف حاصل رہے گا اور عقیدہ وعبادت کے ساتھ ساتھ اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہوگی۔ نیز معیار و مواقع کے اعتبار سے سب شہری برابر ہوں گے، اس کے علاوہ دستور میں Fundamental Rightsکے قبیل سے Article 25+26بھی ہیں جس میں ملک کے تمام شہریوں کو اپنے عقائد و مذہب پر نہ صرف عمل بلکہ ان کی ترویج و تبلیغ کا حق بھی حاصل ہے اور مذہبی اداروں کا قیام بھی بلا خوف و خطر ہر ایک شہری کا حق ہے۔ یہ ایسا بنیادی حق ہے جو نا قابل تنسیخ ہے ، مگر اسی دستور میں آگے چل کر رہنما اصول کو جہاں متعین کیا گیا ہے وہاں Article 44میں یہ بھی کہہ دیا ہے کہ حکومتِ ہند کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ایسا ماحول بنانے کی مسلسل کوشش کرتی رہے کہ بالآخر ملک کے تمام طبقات ایک یکساں سِول کوڈ کو قبول کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔ Article 14-15, Article 25-26, Article 30, Article 44کو اگر ایک ساتھ سامنے رکھ کر پڑھا جائے اور غور کیا جائے تو ناسخ و منسوخ کا فلسفہ سامنے آجاتا ہے، بلکہ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ مذکورہ تمام قانونی دفعات Article 44کو سامنے رکھ کر ہی ترتیب دی گئی ہے۔ مثلاً دستور کے دیباچے میں سیاسی، معاشی اور سماجی بنیادوں پر انصاف کو قائم کرنے کی بات کہی گئی ہے ، مگر مذہبی اداروں کا قیام اور ان کے انتظام و انصرام کی آزادی کو بھی مشروط کیا گیا ہے، ان دونوں کا حوالہ عموماً مذہبی آزادی کے ذیل میں دیا جاتا رہا ہے لیکن یہ آزادی کس قدر مشروط ہے اس کی بات کبھی نہیں کی جاتی ، اس آزادی کو نقضِ امن کے اندیشے کے تحت سلب کر لینے کی پوری آزادی حکومتِ ہند کو حاصل ہے۔ نیز اس آزادی کو کسی بھی وقت محدود کردینے کا اختیار بھی حکومت کے پاس ہے ، اسے ایسے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر کسی وقت ملک کا کوئی مذہبی طبقہ کسی دوسرے مذہبی طبقے کی مذہبی آزادی کے خلاف برسرِ پیکار ہو جائے تو قیامِ امن کی خاطر اس دفعہ میں ترمیم کرنے کے لئے حکومت با اختیار ہے ۔ نیز یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ مذکورہ بالا دفعات 14اور 15نیز دیباچۂ دستور کے پیش نظر اگر عدلیہ ہی برسرِ پیکار ہوجائے اور حکومتِ ہند سے مطالبہ کرے کہ تمام ہندوستانی شہری انصاف کے حصول کی خاطر یکساں ہیں لہٰذا مذہبی بنیادوں پر تفریق کو ختم کیا جائے تو بھی حکومتِ ہند کے پاس دفعہ 25میں ترمیم و تنسیخ کا حق حاصل ہے۔ اس پورے پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب اگر قانون کے رہنما اصولوں میں تحریر کی گئی دفعہ 44کا مطالعہ کریں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ پورا دستور ہی در اصل اسی دفعہ کو ذہن میں رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس دستور سازی میں آر، ایس، ایس اور ہندو مہا سبھا کا کوئی رول نہیں تھا کیوں کہ دستور ساز اسمبلی میں صرف کانگریسی نمائندے ہی موجود تھے۔ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور کے این منشی نے زور دار طریقے سے یکساں سِول کوڈ کی حمایت کی۔ خود پنڈت نہرو بھی 1930سے اس طرح کے یکساں قانون کے حامی رہے اور در اصل ان کے اور امبیڈکر کے اصرار پر ہی یہ دفعہ دستور کے رہنما اصولوں میں شامل کی گئی تھی غالباً یہی وجہ تھی کہ نہرو نے 1951میں ہی پارلیمنٹ میں ہندو کوڈ بل پیش کر دیا تھا جسے ہندوؤں کی شدید مخالفت کا سامنا تو ضرور کرنا پڑا مگر 1954 سے 1956تک وہ بل پاس ہو گیا۔ اس بل کے پاس ہونے کے بعد یکساں سِول کوڈ کے نفاذ کی راہ میں محض مسلمان ، عیسائی اور پارسی ہی رکاوٹ ہیں۔ اب جبکہ پارسی اور عیسائی میرج ایکٹ میں بھی ترمیم ہو چکی ہے ، بودھ ، سکھ اور جین پہلے ہی ہندؤں کے زمرے میں شامل ہیں تو اب بظاہر مسلمان ہی اس راستے کی تنہا رکاوٹ محسوس ہوتے ہیں۔ 1950میں نرسومالی اور ممبئی حکومت کے مابین مقدمہ کے فیصلے سے ہی اس یکساں کوڈ کے نفاذ کی جانب قدم بڑھا دئے گئے تھے۔ بعد ازاں ’’زہراخاتون بنام محمد ابراہیم الہ آباد ، سرلا مدوگل بنام حکومت ہند، محمد احمد خان بنام شاہ بانو بھوپال، دانیال لطیفی بنام حکومت ہند اور 6جولائی 2015میں ہندو ماں بنام عیسائی بچہ ‘‘جیسے فیصلوں میں ہر مرتبہ ججوں نے یکساں سِول کوڈ کی حمایت کی اور دستور کے بنیادی حقوق کی دفعہ 14اور 15کا حوالہ دیتے ہوئے Article 44کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ ان میں سے کوئی بھی فیصلہ بادی النظر میں خلافِ قانون نہیں ہے لیکن ہر فیصلہ یا تو خلافِ شریعت ہے یا اس میں خواتین کے حقوق کی دہائی دے کر شریعت پر حملہ کیا گیا ہے ۔ ایک بین الاقوامی ماہنامہ ’جنر ل لاء منترا‘‘ کی دوسری جلد کے پانچوے شمارے میں معروف قانون داں’’ ڈاکٹر پرمند کور ‘‘نے اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان تمام مقدمات کا بنظرِ غائر جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں سے ایک سوچے سمجھے منصوبہ بند طریقے سے مگر انتہائی غیر محسوس انداز سے یکساں سِول کوڈ کے نفاذ کی کوشش مسلسل جاری ہے۔ ملک کے عوام اور دانشورتک اسے محسوس نہیں کر پارہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ حکومتیں اپنی سیاسی مصلحت کے پیش نظر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ، جہاں ایک طرف ملک کی عدالتیں مستقل کسی نہ کسی بہانے یکساں سِول کوڈ کی پیروی کر رہی ہیں وہی دوسری طرف ملک کی شدت پسند ہندو تنظیمیں وشخصیات بھی اس کی وکالت میں رطب اللسان ہیں اور میڈیا بھی مستقل اصرار کر ہا ہے مگر اس کوڈ کی بحث آج بھی 1948کی بحث سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ مسلم قیادت اور تنظیموں نے یکساں سِول کوڈ کے نفاذ سے انکار تو بہت شدت کے ساتھ کیا ہے مگر آج تک کبھی کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ وہ یکساں کوڈ کیا ہوگا اور کیسا ہوگا۔ گذشتہ 70سال سے ملک کی تمام حکومتیں کبھی بھی سِول کوڈ کا کوئی خاکہ پیش نہیں کر سکیں۔نا ہی اس سلسلہ میں کوئی رائے سامنے آئی آخر کونسی اتھارٹی ہوگی جو اس خاکے کو پیش کرے گی اور اس کے نفاذ کا طریقۂ کار کیا ہوگا؟محض انکار کردینے سے ہم خود کو یکساں سِول کوڈ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تسلیم کر لیتے ہیں کہ جب کہ اگر ہم حکومت سے مطالبہ کریں کہ پہلے اس کا خاکہ پیش کرو پھر ہم اس پر بحث کریں گے تو یقیناًحکومتِ ہند دباؤ میں آجائے گی اس لئے کہ ایسا کوئی خاکہ پیش کرنا ممکن ہی نہیں۔ 1870ہی میں ملکۂ برطانیہ نے اعلان کر دیاتھا کہ ہندوستانیوں کے مذہبی امور میں وہ کوئی مداخلت نہیں کرے گی، اس سے قبل ہندو عہد اور مغلیہ عہد میں بھی کوئی مشترکہ سِول کوڈ نہیں رہا اور سب نے اس امر کا ہمیشہ سے اعتراف کیا ہے کہ کسی بھی مذہب کے عائلی قوانین میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے گویا ایک ہزار سال کی ہندو مسلم مشترکہ تہذیب میں کبھی بھی مشترکہ کوڈ کی ضرورت نہیں محسوس نہیں کی گئی۔ اس کے عدمِ موجودگی میں کسی عوامی نقضِ امن کا کوئی معاملہ بھی پیش نہیں آیا، اسی طرح آزاد ہندوستان کی تقریباً 70سالہ تاریخ میں بھی ہم ایک مشترکہ سوِل کوڈ کے بغیر بنا کسی تنازع کے پُر امن طور پر جی رہے ہیں ، چنانچہ جب ہزاروں سال سے بنا کسی مشترکہ سِول کوڈ کے ملک چل رہا ہے تو اس بحث کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے ۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ 1947میں آزادی کے وقت ملک کو ایک سیکولر اور بقائے باہم پر مبنی ریاست کے قیام کے لئے نہرو و امبیڈکر جیسے کچھ جدّت پسند افراد نے مشترکہ سِول کوڈ کی ضرورت محسوس کی ہوگی، مگر آزاد ہندوستان کے گذشتہ 70سال کے احوال خود یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ ملک کو کسی بھی مشترکہ کوڈ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ اب عدلیہ کو بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے تبصروں اور فیصلوں میں ہر گز ایسی بات نہ کہیں جن سے مختلف طبقات کے مابین کشمکش و تشویش پیدا ہونے کا اندیشہ ہو، حکومتِ ہند کی بھی ذمہ داری ہے کہ عدلیہ سے سفارش کرے کہ اس قسم کے منافرت انگیز تبصروں سے گریز کرے ورنہ کم از کم عدلیہ کو ہی حکومتِ ہند سے براہِ راست یہ سوال کرنا چا ہئے کہ دفعہ 44کی تنفیذ کے لئے کئے گئے اقدامات پر قرطاسِ ابیض جاری کرے اور اگر اس سمت میں ابھی تک کچھ نہیں ہوا ہے تو پھر اس کا مطلب یہ سمجھ لینا چا ہئے کہ حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ یکساں سِول کوڈ کا نفاذ ایک ملی جلی تہذیب والے ملک میں نا ممکن الحصول امر ہے اور حکومتیں خود بھی اس قسم کے کوڈ بنانے اور ان پر عمل پیرائی کرنے سے عاجز ہیں ۔ چنانچہ مسلم تنظیموں سمیت ملک میں قیامِ امن اور سماجی انصاف کے لئے کام کرنے والی تمام Organizations کو حکومت سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ دستور کے رہنما اصولوں کی دفعہ 44کو فی الفور حذف کر دیا جائے ۔ حیرت کی بات ہے کہ دستورِ ہند کی منشا ء سے متصادم اس دفعہ کے خاتمے کا مطالبہ آزادی کے بعد کچھ عرصہ تک مسلم لیگ تو کرتی رہی مگر 1969کے بعد اس نے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا۔ اور شریعتِ مطہرہ کے تحفظ کے لئے قائم مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے بھی اس سلسلہ میں عموما خاموشی ہی اختیار کی گئی ، حالانکہ امرِ واقعہ یہ ہے کہ جب تک دستور میں دفعہ 44موجود ہے اور جب تک دفعہ 14اور 15میں ترمیم نہیں کی جاتی دفعہ 25اور 26کو غیر مشروط نہیں کیا جاتا تب تک ہندوستان میں مسلمانوں کے عائلی نظام پر تلوار لٹکتی رہے گی۔ مرکزی تنظیموں میں سے جمعیۃ علمائے ہند اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ پتوں کو چھوڑ کر جڑوں کی بیخ کنی کی تحریک کا آغاز کریں کیوں کہ تسلیمہ نسرین، سلمان رشدی، کمال پاشا، منیش تیواری، اور سادھوی پراچیا جیسے ہزاروں اسلام دشمن لوگ آر ایس ایس کے ہندو راشٹر کی تعمیر کے خواب کو پورا کرنے کا ذریعہ ہیں جن سے انہیں کی زبان میں نمٹنا ضروری ہے لیکن دستور کے دائرے میں رہ کر۔ موجودہ حکومت چونکہ ناگپوری منشاء کو پورا کرنے کے لئے سرگرم ہے ۔ عدلیہ کو بھی اسی نظریہ کا حامل بنا دیا گیا ہے اس لئے مسلم پرسنل لاء بورڈ اور جمعیۃ علمائے ہند نیز فقہی اکیڈمیوں اور ملی تنظیموں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ محمڈن لاء کے عدالتی دفاع کے ساتھ ساتھ علماء و معتدل مزاج دانشوارن کو ساتھ لے کر عوام الناس میں جلسوں ، کانفرنسوں، ورک شاپ، سِپوزیم، ہمہ لسان پمفلیٹ، جریدے اور اخبارات و رسائل نیز مسجدوں کے ممبر اور گلی کوچوں ، گاؤں اور شہروں میں عوام الناس کے اس طبقے کو جو مسلم پرسنل لاء کے خلاف ایک لفظ بھی سننا برداشت نہیں کرتے لیکن محمڈن لائسے بالکل واقف نہیں ہوتے انہیں مسلم پرسنل لاء کی روح سے واقف کرائیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل اپنے علماء سے حل کروائیں اور سیکولر بھائیوں کو محمڈن لاء کی آفاقیت ، جامعیت اور ہمہ گیریت سے واقف کرائیں اور بذریعہ ڈائیلاگ ان میں دعوتِ دین کا فریضہ انجام دیں کیوں کہ ہم سب نبئ رحمت کے امتی ہیں۔ تحفظِ دین و تبلیغ دین ہمارا شیوہ ہے۔(ملت ٹائمز)

SHARE