اردو یونیورسٹی کیوں کھٹک رہى ہے ان زعفرانی آنکھوں کو؟ جانئے وجوہات




حیدرآباد: (سیف الرحمٰن ملت ٹائمز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی-مانو یہ نام آج کل بہت سرخیوں میں ہے یہ وہ نام ہے جسے عام طور پر سنتے ہی آپ کا دھیان بی. ایڈ کے فاصلاتی کورس اور دیگر فاصلاتی کورسز کی طرف چلاجاتا ہے کیونکہ ملک کے لاکھوں طلباء و طالبات کو جوکہ اردو داں طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اس یونیورسٹی نے ایجوکیشن و دیگر شعبوں کے فاصلاتی کورسس کے ذریعہ آگے بڑھنے کا موقع دیا اور بڑھایا ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے اس کے خدمات اس سے بھی بہت وسیع ہے ایک فاصلاتی کورس سے شروع ہوا یہ 20 سالہ نوجوان یونیورسٹی آج مختلف فاصلاتی کورسس کے ساتھ شعبہ صحافت، شعبہ شوشل ورک، شعبہ مینجمنٹ، شعبۂ انجینئرنگ شعبہ ایجوکیشن، شعبہ سیاسیات، شعبہ کلچرل استڈیز،شعبہ لینگویج سمیت اکثر پروفیشنل و غیر پوفیشنل ریگولر کورسس کے ذریعہ ملک میں ایک نئی تاریخ لکھنے اور آئین ہند کی بنیاد ” ہم ہندوستانی لوگ ” کو مظبوطی فراہم کرنے کا کام کررہی ہے۔

اب آپ کہیں گے کی آئین ہند کے اس بنیاد کو یہ یونیورسٹی کیا تقویت دے رہی ہے؟ تو میں کہوں گا کہ ہمارے آئین کی یہ بنیاد ملک کے تمام طبقات کو ترقی کے اعلیٰ منزل پر برابری کے ساتھ دیکھنا چاہتی ہے اسی مقصد کی تکمیل کیلئے ریزرویشن و دیگر طرح کے اسباب بھی استعمال کئے گئے ہیں اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر ملک کا وہ اردوداں طبقہ جوکہ مختلف سرکاری رہورٹس کے مطابق سب سے بدتر زندگی گزار رہاہے انکی نئی نسل کو یہ نوجوان یونیورسٹی اپنے گود میں پرورش دیکر ملک کے مین اسٹریم میں لانے کی کامیاب کوشش کررہی ہے اگر آپ شہر حیدراٰباد کے گچی باؤلی میں واقع مانو یونورسٹی کے وسیع و خوبصورت کیمپس کا دورہ کرینگے یہاں آکر صبح کے 09 بجے بہار، راجستھان، یوپی، جموں کشمیر، بنگال و جنوبی اور شمالی ہندوستان کے مختلف ریاستوں کے غریب اردو داں گھرانوں کے نوجوان لڑکوں کو سادگی کے ساتھ نوجوان لڑکیوں کو نقاب و اسکارف میں ملبوش الگ الگ شعبوں کی طرف جاتے ہوئے پھر شام کو اسی حالت میں یونیورسٹی کی پارکوں، آصف کیفے سمیت دیگر ہوٹلوں پر سیاسی، سماجی، تعلیمی موضوعات پر بحث و مباحثہ کرتے ہوئے دیکھینگے تو آپ کا دل خود اس بات کی شہادت دیگا یہی نہیں لڑکیوں و لڑکوں کیلئے الگ الگ بنے اسپورٹس اسٹیڈیم میں آپ جائینگے تو بیڈمنٹن، والی بال، فٹ بال، کبڈی، کرکٹ جیسے کھیلوں میں اپنی صلاحیت کو نکھارتے ان نوجوانوں کو دیکھ آپ کا دل باغ باغ ہوجائیگا ان کھیلوں کے ساتھ جیم و دیگر جسمانی ورزشوں کا ماحول آپ کے اندر اس امید کو جنم دیگا کہ آنے والا وقت صحت مند عوام کے ساتھ ترقی یافتہ صحتمند ملک کا ہوگا۔

گھومتے ہوئے یہاں کے اسٹوڈینٹس کے اندر موجود سیاسی بیداری، ایکٹوزم، نمازوں کی پابندی، دینی موضوعات پر گفتگو کا موحول دیکھ آپ کے دل سے آواز آئیگی کہ اب اس اردو داں طبقہ کو مین اسٹریم میں آنے سے دنیا کی کوئی شازش نہیں روک پائیگی، یہی وہ وجوہات ہیں جس نے ملک کے اندر موجود فسطائی طاقتوں کے دلوں میں اس یونیوسٹی سے متعلق کھٹک پید کردی ہے لہٰذا ادھر کئی سالوں سے فسطائی طاقتیں مانو کے خلاف ناکام شازشیں کرتے ہوئے دیکھے جارہے ہیں اب انہوں نے اپنے اقتدار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زعفرانی رنگ میں رنگے ہوئے ایک اسکول ٹیچرفیروزاحمد بھکت کو جو مولانا ابولکلام آزاد کے خود ساختہ پوتا بنے بیٹھے ہیں اس سنٹرل یونیورسٹی کا چانسلر بناکر یونیورسٹی کے خلاف استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ 

یوں تو جناب جب سے چانسلر بنے ہیں اپنے گندے منصوبوں کو کامیاب کرنے کی ناکام کوششین کرتے رہے ہیں لیکن ادھر چند ماہ سے وہ حدود کو پھلانگتے دکھ رہے ہیں کچھ دنوں پہلے انہوں نے نام ونہاد می.ٹو مہم کا استعمال کرتے ہوئے شعبہ صحافت کے ڈین پروفیسر احتشام صاحب پر سیکسول ہراشمینٹ کا الزام لگاکر احتشام صاحب کی شخصیت اور یونیورسٹی کے دامن کو داغدار کرنے کی کوشش کی تھی جس می انہوں نے ایک ایسی لڑکی اور اسی جیسی دوسری لڑکی کا استعمال کیا جوکہ یہاں پنجرہ توڑو مہم و دیگر منفی ایکٹیویٹی کر یہاں کے پُرامن اور مہذب فضا کو مکدر کرنے کی کوشش کرچکی تھی لیکن یہاں کی مہذب طالبات نے انہیں ٹھکرادیا تھا، اس الزام تراشی کے ذریعہ انہوں نے جہاں ایک طرف یہ کوشش کی کہ اردو داں طبقے کے وہ گھرانے جوکہ تہذیب اور سیکورٹی کے کمی کے وجوہات کی بنیاد پر اپنی بچیوں کوباہر پڑھانے نہیں بھیجتے تھے لیکن اب اردو یونیورسٹی بھیجنے لگے ہیں انہیں یہ باور کراکر کہ یہاں بھی آپکی بیٹیاں غیر محفوظ ہے ایک بار پھر انکی بیٹیوں کو گھروں میں روک کر انہیں تعلیمی انحطاط کی طرف دوبارہ دھکیل دیا جائے، وہیں دوسری طرف مانو کے اس شعبہ صحافت کو ٹارگٹ کیا جوکہ چند سالوں سے میدان صحافت میں اردو صحافیوں کی موجود کمی کو پورا کرنے کا کام کررہا ہے جو شعبۂ صحافت ملک کے مین اسٹریم میڈیا کو ایسے افراد مہیا کررہا ہے جوکہ انگلش کے ساتھ اردو پر ساتھ ہی کسی نہ کسی ایک علاقائی زبان پر عبور رکھتے ہوں آج بھارت کے الگ الگ علاقے کے الکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا، ڈیجیٹل میڈیا میں مانو کے جس شعبہ کے افراد نمایاں پہچان کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں اس شعبہ کو بدنام کرنا اس میں طلباء و طالبات کی آمد کو روکنا انکا دوسرا گندا مقصد تھا

لیکن خدائے واحد کا شکر ہیکہ فیروز بھکت اس میں بھی مکمل طور پر ناکام رہے مانو کے طلباء اور میڈیا برادری نے اسے مکمل طور پر سفید جھوٹ و بہتان سے تعبیر کرتے ہوئے نکار دیا، اس کے بعد بھی اس فتنہ پرور شخص کو شرم کہاں آنے والی تھی چنانچہ اب اس نے ایک اور گھٹیا ترین حرکت کرنے کی ہمت کرڈالی ہے اس بار اس نے پلوامہ میں شہید ہوئے 50 سے زائد بھارتی فوجیوں کی لاشوں پر اپنا کھیل کھیلا ہے اور شوشل میڈیا پر پوسٹس لکھ کر یہ سفید جھوٹ الاپا ہیکہ مانو کے طلباء و طالباف اور اساتزہ کو فوجیوں کی شہادت پر غم نہی ہوا ہے اور انہوں نے پلوامہ حادثہ کے دودن بعد جشن منایا ہے جبکہ بھکت صاحب کو بھی پتا ہیکہ پلوامہ حادثہ کے کل ہوکر ہی مانو برادری نے کینڈل مارچ نکال کر فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا تھا,کل ہوکر ہی جب شعبہ صحافت کا دوروزہ عالمی سیمینار ہورہاتھا تب دوران پروگرام فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا یہی نہیں بلکہ پلوامہ حادثہ کے دودن بعد ہوئے اس ہاسٹل نائٹ پروگرام میں بھی جسے فیروز بھکت صاحب جشن کا نام دے رہے ہیں دومنٹ کی خاموشی کے ساتھ شہید فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیاگیاتھا اور مہمان خصوصی نینا جیسوال نے شہیدوں کے سمان میں ایک ترانہ بھی پیش کیاتھا 

لیکن کیا کرے فتنہ پرور دماغ و بھکتی کا عینک لگا آنکھ ایسے حقائق کو کہاں دیکھ پاتا ہے۔ 

خیر …! میں فیروز بھکت صاحب سے کہنا چاہونگا کہ ہوسکتا ہیکہ آپ کی یہ نیچ حرکتیں آپ کو گورنر کی کرسی تک پہونچادے لیکن مانو کے اسٹوڈینٹس,اساتزہ و مانو برادری سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کے دامن پر اس سے ذراسابھی داغ لگنا ناممکن ہے اور فیروز بھکت کے آقاؤں کو صاف صاف گوش گزار کردوں کہ اس بھکت صاحب کو آپ کہیں اور استعمال کرلیں کیونکہ مانو کی ترقی اور اس کے ذریعہ ملک کے ہورہے خدمات پر بھکت صاحب کی حرکتوں کا کوئی اثر نہی ہونے والا ہے۔

ساتھ ہی مانو کے طلباء، طالبات و پوری مانو برادری کو میں مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں کہ آپ ان گھٹیا شازشوں کے سامنے مکمل بہادری و حکمت عملی کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں یقین مانئے فسطائیت اور زعفرانی چانسلر کے خلاف لڑائی میں آپ تنہا نہیں ہے پورا ہندوستان بالخصوص طلباء فریٹرنیٹی آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔

دعا ہیکہ خدا آپ کو ہمت، استقامات دے کامیابی سے نوازے، ہر طرح کی شازشوں و نقصانات سے آزاد کے اس چمن کی حفاظت کرے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *