ارریہ شہر میں الغزالی انٹر نیشنل اسکول کا افتتاح، قومی و ملی دانشوران کا خطاب




ارریہ: (ملت ٹائمز) آج ارریہ شہر کے قلب میں واقع کربلا میدان میں الغزالی انٹر نیشنل اسکول کا افتتاحی پروگرام انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت حضرت مولاناتوقیر احمد قاسمی استاد و نگراں شعبہ انگریزی زبان و ادب دارالعلوم دیوبند نے فرمائی، جب کہ مرکز گروپ آف اسکولز، اور شعبہ تعلیمات مرکزا لمعارف ہوجائی آسام کے ہیڈ ڈاکٹر رضی احمد قاسمی بطور مہمان خصوصی اور ڈاکٹر حفظ الرحمن قاسمی اسکالر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی بطور مہمان اعزازی پروگرام میں شریک ہوئے۔

پروگرام کے آغاز میں الغزالی انٹر نیشنل اسکول کے ڈائریکٹر مدثر احمد قاسمی نے مہمانوں کا استقبال کیااور بتلایا کہ ہمارے اسکول میں بچے اور بچیوں کے لیے الگ ہاسٹل اور کلاس رومز کا انتظام ہے۔ چیئرمین شاہجہاں ندوی نے اسکول کی غرض و غایت اور تعارف پیش کرتے ہوئے بتلایا کہ الغزالی انٹر نیشنل اسکول نے ملت کے نونہالوں کے لیے عصری و دینی علوم سے مزین ایک نصاب تیار کیا ہے۔ اس نصاب کو پڑھنے کے بعد بچوں کو الگ سے مکتب یا ابتدائی مدرسوں میں پڑھنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ اسکول نے خاص طور پر دوسرے سیشن میں ذہین منتخب بچوں کے لیے حفظ قرآن کریم کا پروگرام بھی مرتب کیا ہے اور اسکول کا بنیادی تصور یہ ہے کہ ملک و ملت کو حافظ ڈاکٹر، حافظ انجینیر، حافظ آئی پی ایس اور حافظ پروفیسر اور ٹیچر ملے۔ اسکول کی پرنسپل تسنیم کوثر نے بطور خاص لڑکیوں کی تعلیم پر زور دیتے ہوئے بتلایا کہ جس سماج میں عورت اور مرد کی تعلیم میں توازن نہیں اس سماج کو ہم ترقی یافتہ نہیں کہہ سکتے۔ اسی وجہ سے ترقی یافتہ سماج بننے کے لیے لڑکیوں کی تعلیم پر مساوی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

پروگرام کے صدر حضرت مولانا توقیر احمد قاسمی نے اپنے وقیع صدارتی خطاب میں علم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بتلایا کہ جس ملت کے رہبر معلم انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہوں وہ ملت تعلیم سے بے بہرہ کیسے رہ سکتی ہے، اگر مسلمان تعلیم کے میدان میں پیچھے ہیں تو بہت جلد اس مسئلے کو حل کرلینا عین دانشمندی ہے۔ آپ نے مزید زور دیتے ہوئے فرمایا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ تعلیم صرف دینی کامیابی کی ضمانت نہیں، بلکہ دنیاوی فلاح کا بھی سب سے بڑا ذریعہ ہے۔پروگرام کے مہمان خصوصی جناب ڈاکٹر رضی احمد قاسمی نے اپنی پر اثر تقریر میں سامعین سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی انقلاب کے لیے ہمیں قربانی پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ہم اپنی ضروریات کو کم کر لیں لیکن اپنے بچوں کو اعلی تعلیم سے ضرور آراستہ و پیراستہ کریں۔ پروگرام کے مہمان اعزازی جناب ڈاکٹر حفظ الرحمن قاسمی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بتلایا کہ دنیا میں اسی قوم کا سکہ چلتا ہے جن کے ہاتھ میں قیادت ہو اور معیاری قیادت کے لیے تعلیم ضروری ہے۔ اس لیے مسلمان اگر اپنے عظمت رفتہ کی بحالی چاہتے ہیں تو انہیں زمانے کے رفتار کے حساب سے تعلیم کو حرز جاں بنانا ہوگا۔

مہمانان کرام کے ہاتھوں اسکول وین، کمپیوٹر لیب، آفس، کلاس روم اور ہاسٹل کا افتتاح عمل میں آیا اور مہمانوں کی موجودگی میں ایک بڑی تعداد میں بچوں کے داخلے کی کارروائی مکمل کی گئی۔ پروگرام میں کثیر تعداد میں مرد و خواتین شریک ہوئے بطور خاص مولانا فیاض عالم فیضی ندوی، سید شمیم انور ، ماسٹر اسرار الحسن اور ارشد انور الف نے سامعین سے خطاب بھی کیا۔ پروگرام کا آغاز اسکول کے سرپرست مولانا آفتاب عالم مظاہری کی تلاوت سے ہوا اور عفیفہ سعدیہ نے گلدستہ نعت پیش کیا، جب کہ ہارون رشید غافل نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *