سیتامڑھی میں دو روزہ خصوصی تربیتی اجلاس جاری پہلے سیشن میں امیر شریعت نے سنے لوگوں کے مسائل




سیتامڑھی : (ملت ٹائمز – محمد ارمان علی) سیتا مڑھی میں امارت شرعیہ کے زیراہتمام دو روزہ خصوصی تربیتی اجلاس جاری ہے ، امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس کا پہلا سیشن آج مورخہ 6مارچ 2019 بروز بدھ کو مدرسہ رحمانیہ مہسول سے متصل وسیع و عریض میدان میں صبح ساڑھے دس بجے سے شروع ہوا ۔ اس اجلاس میں سیتا مڑھی ضلع کے تمام بلاکوں کے نمائندے ، نقباء ، نائبین نقباء، ارکان عاملہ و شوریٰ امارت شرعیہ ، ارباب حل و عقد، علماء و ذمہ داران مدارس، ائمہ مساجد و دانشوران و سماجی خدمت گاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔اجلاس کے پہلے سیشن کی نظامت مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے کی ۔اجلا س کا با ضابطہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، اس کے بعد بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں نعت شریف پیش کی گئی۔اپنے ابتدائی خطاب میں مولانا محمد عمران قاسمی قاضی شریعت دار القضاءامارت شرعیہ بالا ساتھ نے امارت شرعیہ کے قیام او ر اس کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ اللہ کے حکم’’ اطیعو اللہ و اطیعو الرسول و اولی الامر منکم‘‘ کی عملی تفسیر ہے ، انہوں نے کہا کہ بہار ، اڈیشہ وجھارکھنڈ کے مسلمانوں کو یہ نعمت حاصل ہے کہ ایک امیر شریعت کی اطاعت میں اجتماعیت کے ساتھ زندگی گذارنے کا موقع میسر ہے ۔مولانا محمد سہراب ندوی صاحب نے اجلاس کی غرض غایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس تقریر سنانے کے لیے منعقد نہیں کیا گیا ہے ، بلکہ اس اجلاس کا مقصد یہ ہے کہ نقباء و نائبین نقباءامارت شرعیہ کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس کرایا جائے ، امارت شرعیہ کے نقیب کی کیا حیثیت ہے یہ انہیں سمجھایا جائے، انہوں نے کہا کہ نقیب محض ایک لقب نہیں ہے بلکہ یہ ایک دینی منصب اور شرعی ذمہ داری کا نام ہے ، امار ت شرعیہ کا نقیب نہ صرف علاقہ میں امیر شریعت کا نمائندہ ہو تا ہے بلکہ وہ علاقہ کے لوگوں کے دینی و اجتماعی زندگی کا ذمہ دار بھی ہو تا ہے ۔اس لیے اس کو اپنی ذمہ داریوں اور اس فرض منصبی کا احساس ہونا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ امارت شرعیہ کے اس اجلاس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ علاقہ کے لوگوں سے ان کے مسائل کو سنا جاسکے اورمسلمانوں کے سماجی ، معاشرتی ، معاشی ، اخلاقی ، تعلیمی ، تربیتی اور اجتماعی جو بھی مسائل و پریشانیاں ہوں ان کو جانا جا سکے تا کہ امارت شرعیہ اپنے حتی الوسع اس کے حل کے لیے کوشش کر سکے ۔انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد گاؤں گاؤں کی سطح پر امارت شرعیہ کے رابطہ کو مضبوط کرنا ہے تاکہ امارت شرعیہ کا پیغام دور دور تک پہونچایا جا سکے ۔امارت شرعیہ کے نائب ناظم اور سیتا مڑھی میں خصوصی تربیتی اجلاس کے نگراں مولانا مفتی محمد ثنائ الہدیٰ قاسمی نے امارت شرعیہ اور اس کے جملہ شعبہ جات کا مختصر تعارف کرایا اور اس کے قیام کے پس منظر کو بیان کیا، انہوں نے بانی امارت شرعیہ کے کارناموں ، ان کی فکر مندی، درد مندی، اور اخلاص کے ساتھ امارت شرعیہ کے قیام پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے شرکاءسے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ امارت شرعیہ کا پیغام یہ ہے کہ ملت کا کوئی بھی مسئلہ ہو اس میں مسلمان کلمہ کی بنیاد پر متحد ہو کراس مسئلہ کے حل کے لیے کوشاں ہوں اور آپس میں مسلک و مشرب کے جھگڑے میں نہ پڑیں ۔مولانا محمد شبلی قاسمی نائب ناظم امار ت شرعیہ نے نقباء کی ذمہ داریوں کو پڑھ کر سنایا اور نقباءکوان کی اہمیت کا احساس کراتے ہوئے کہا کہ ہر نقیب سب سے پہلے خود اپنی زندگی کو شریعت کے سانچے میں ڈھالے اس کے بعد اپنے گاؤں ، محلہ اور سماج میں دین و شریعت کے نفاذ اور سماج کے صلاح و فلاح کی فکر کرے۔

اس کے بعد حضرت امیر شریعت مد ظلہ کی اجازت سے سیتا مڑھی کے مختلف بلاکوں سے تشریف لائے علاقہ کے علما ء ،علاقہ کہ نمائندگان ،دانشوران ، نقباء امارت شرعیہ، اساتذہ، ائمہ مساجد، سماجی شخصیات نے اپنے اپنے علاقہ کے مختلف سماجی و اجتماعی مسائل کو بیان کیا ۔خاص طور پر زیادہ تر شرکاء نے تعلیمی پسماندگی، اخلاقی بگاڑاور دینی تربیت کے تعلق سے مسائل پیش کیے ۔ایک صاحب نے یہ مشورہ دیا کہ سرکاری سطح پر جو اسکیمیں مسلمانوں کے لیے ہیں ان کا خاطر خواہ فائدہ صحیح گائڈ لائن نہ ملنے کی وجہ سے ہم تک نہیں پہونچ پاتا ہے ، اس لیے ایسا کوئی نظم کیا جائے کہ مسلمانوں کو ان اسکیموں کے تعلق سے رہنمائی کی جائے تاکہ وہ ان اسکیموں سے فائدہ اٹھا کر سماجی ، تعلیمی و معاشی طور پر آگے بڑھ سکیں۔بہت سے شرکائ نے دینی تعلیم و تربیت اور مکاتب کے قیام کی طرف توجہ دلائی ، بعض شرکائ نے عصری تعلیم کے ادارے کھولنے کا مشورہ دیا جہاں اسلامی ماحول میں بچوں کو عصری معیاری تعلیم فراہم کرائی جائے ۔بعض شرکاء نے اردو کے تعلق سے بھی تجاویز پیش کی اور اسکولوں میں اردو اساتذہ کی بحالی ، اردو کی تعلیم کی صورت حال سے متعلق مسائل کو بیان کیا، سیتا مڑھی میں امارت شرعیہ کے دار القضاء کے نظام کو مزید مضبوط اور فعال بنانے کا بھی مشورہ سامنے آیا،بعض شرکاء نے امارت شرعیہ کے عوامی رابطہ کو مزید مضبوط و فعال بنانے کا مشورہ دیا۔ لڑکیوں کے ارتداد،وقف کی زمینوں پر ہو رہے ناجائز قبضے ، مسلم نوجوانوں میں نشہ اور ڈرگس کے بڑھتے رجحان، ائمہ مساجد و علماء مدارس کی تنخواہ ، اردو کی خالی سیٹوں ، بیٹیوں کی وراثت ، تعلیم گاہوں میں دینی رجحان کا فقدان ، مسلم نوجوانوں کی بے جا گرفتار ی اور ان کو قانونی مدد دینے کی ضرورت جیسے اہم امور پر بھی شرکاء کی جانب سے توجہ دلائی گئی، زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو امارت شرعیہ سے جوڑنے اور اس کے لیے ڈیجیٹل سسٹم کا استعمال کرنے کا مشورہ بھی سامنے آیا۔سماج کے مخصوص اور پڑھے لکھے طبقہ میں بھی اخلاقی بگاڑ اور معاملات کی عدم درستگی کا بھی شکوہ کیا گیا اور امارت شرعیہ سے اپیل کی گئی کہ اس کے خلاف تحریک چلائی جائے ، جہیز کی لعنت کا بھی تذکرہ بعض شرکاء نے کر کے جہیز مخالف تحریک موثر انداز میں چلانے کا مشورہ دیا۔مسلکی اختلاف پر بھی فکر مندی کا اظہار کیا گیا ، کئی شرکاءکی طرف سے سیتا مڑھی میں فرقہ وارانہ فضا کے مکدر ہونے کی شکایت کی گئی اور امیر شریعت سے اپیل کی گئی کہ اس فضا کو ہموار کرنے میں وہ رہنمائی کریں ، خاص کر کے چند مہینوں پہلے سیتا مڑھی میں درگاپوجا کے موقع پر ہوئے فساد اور اس سلسلہ میں پولیس کی جانب سے متعصبانہ رویہ کی شکایت لوگوں نے کی، ایک صاحب نے یہ بھی بتایا کہ فساد کے ملزمین آسانی سے بیل پر چھوٹ گئے اور اب کھلے عام دھمکیاں دیتے پھر رہے ہیں ، لوگوں نے امیر شریعت سے اپیل کی کہ وہ اس صورت حال سے نمٹنے میں ہماری رہنمائی کریں ۔امیر شریعت نے تمام لوگوں کے مسائل کو بغور سنا ، مسائل بیان کرنے اور تجاویز و مشورہ دینے کا سلسلہ کئی گھنٹے تک چلتا رہا بالآخر دو پہر ڈھائی بجے اجلاس کا پہلا سیشن اس اعلان کے ساتھ مکمل ہوا کہ جن لوگوں کے مشورے اور تجاویز ابھی تک نہیں آ پائے ہیں انہیں بعد نماز مغرب دوسرے سیشن میں بھی موقع دیا جائے گا۔اس طرح ڈھائی بجے اجلاس کا پہلا سیشن ختم ہوا ۔اس اجلاس میں ناظم امارت شرعیہ مولانا انیس الرحمن قاسمی، مولانا محمدشبلی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ ،مولانا مفتی نذر توحید مظاہری قاضی شریعت چترا ، مولانا قمر انیس قاسمی رئیس المبلغین امارت شرعیہ بھی شریک ہیں ۔اجلاس کو کامیاب و با مقصد بنانے کے لیے مجلس استقبالیہ کے ذمہ داران و اراکین اور امارت شرعیہ کے مبلغین مولانا سعود اللہ رحمانی، مولانا مزمل حسین قاسمی، مولانا عبد الباری راہی، مولانا عبد القادر ، مولانا ابو ذر مفتاحی ، مولانا مجاہد ، مولانا اظہار الحق مظاہری صدر مجلس استقبالیہ، مولانا انوار اللہ فلک ناظم ادارہ سبیل الشریعہ آوا پور، مولانا ضیاءالرحمن قاسمی ، محمد ارمان علی صدر مدرسہ رحمانیہ مہسول , جناب ظفر کمال علوی، سکریٹری مدرسہ رحمانیہ مہسول،جناب صبیح احمد ، ڈاکٹرساجد علی خان، مولانا عبد الودو د مظاہری پرنسپل مدرسہ رحمانیہ مہسول ، جناب محمد مرتضی مہسول، جناب شمس شہنواز صاحب سکریٹری استقبالیہ کمیٹی،الحاج محمد مختار صاحب، عبد اللہ رحمانی صاحب، قاری ایاز ،انوار الحق الحاج نعیم خزانچی استقبالیہ کمیٹی کے علاوہ دیگر ارکان استقبالیہ کمیٹی ، شہر سیتا مڑھی کے نوجوانوں اور اہل خیر حضرات نے پوری محنت اور جانفشانی کا مظاہرہ کیا۔ خبر لکھے جانے تک اجلاس کا دوسرا سیشن حضرت امیر شریعت کی صدارت میں جاری ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *