پسماندہ ذات کی جدوجہد کو سرکاری کتابوں سے ختم کرنا تاریخ مسخ کرنا ہے: کیمپس فرنٹ




این سی ای آرٹی کتابوں سے کمزور طبقہ ،پسماندہ ذات ، خواتین اور مظلوم کسانوں کی جدوجہد کو ختم کرنا ملک کی تاریخ کو مسخ کرنا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار کیمپس فرنٹ آف انڈیا کے نیشنل کمیٹی ممبر کریم الباری نے کیا ہے ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ملک میں بی جے پی اور ان کی حمایتی تنظیموں نے کمزور اور پسماندہ طبقوں کے خلاف ہمیشہ سے زہر اگلاہے اور انکے خلاف نفرت کا ماحول بنایا ہے یہی وجہ ہے کہ آج ایک منظم سازش کے تحت انہیں ملک کی تاریخ سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے جو نہایت ہی شرمناک بات ہے ۔ کریم الباری کا کہنا ہے کہ سورن طبقوں کے خلاف کیرل کے شانر خواتین کا اپنے حقوق ،شناخت اور آزادی کاتحفظ کے تعلق سے تاریخ میں کمزور اور پسماندہ لوگوں کی جد وجہد کا ایک شاندار باب ہے ۔ کیمپس فرنٹ نیتا کا کہنا ہے کہ جس طرح قدیم زمانے میں ورن سسٹم نے سماج کو بانٹ رکھا تھا آج اسی طرح موجودہ حکومت نے ملک کے معاشی وسماجی نظام کوکسانوں اور دیگر طبقوں کے درمیان بانٹ رکھا ہے ۔ فرنٹ کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ تاریخ کی کتابوں میں کمزور طبقوں کی جدوجہد کو باقی رکھنا سماج اور پسماندہ لوگوں کے لئے نثاط ثانیہ کا موجب کے ساتھ عبرت کا سبق بھی ہے ۔ فرنٹ کا کہنا ہے کہ ملک میں فاشزم طاقتیں ملک کی تاریخ کے ساتھ جگہوں کے نام تبدل کرکے اعلی ذات کی بر تری اور فرقہ پرستی کو فروغ دینا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سرکاری کتابوں میں تبدیلی کے ساتھ ملک میں مختلف جگہوں کے نام بھی تبدیل کئے جا رہے ہیں ۔ کیمپس فرنٹ نیتا نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ملک کی تاریخ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور جگہوں کا نام تبدیل کرنا ملک کی گنگا جمنی تہذیب ،آئین و قوانین اور جمہوری نظام کو مٹانا اور نست و نابود کرنا ہے ۔ اس موقع پر کیمپس فرنٹ آف انڈیا کے مانو یونٹ کے سکریٹری ثالث جمال نے ملک امن اور جمہوریت پسند عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہاکہ ملک کی تاریخ میں تبدیلی تمام شہریوں کے ایک لمحۂ فکریہ ہے ۔ اس کے خلاف ملک کے انصاف پسند لوگوں کو مل جل کر آواز اٹھانا چاہئے کیونکہ اس سے ہمارے ملک کی ماضی اور مستقبل جڑا ہوا ہے ۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *