’ الشعر و الشعرا فی الہند: قدیما و حدیثا ‘ کے موضوع پر اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا میں منعقدہ قومی سمینار میں پروفیسر محمد اسلم اصلاحی کا اظہار خیال
نئی دہلی: (پریس ریلیز) ہندوستان کی سرزمین جہاں دیگر زبانوں کی نشر و اشاعت کے لیے زرخیز رہی ہے، وہیں عربی اصناف ادب میں بھی ہندوستانی ادبا و شعرا کے کارنامے غیر معمولی ہیں۔ان خیالات کا اظہار اسکول آف لینگویج اینڈ لٹریچر جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق ڈین پروفیسر محمد اسلم اصلاحی نے کیا، وہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا، دہلی کے زیراہتمام ’ الشعر العربی فی الہند قدیما و حدیثا ‘ کے موضوع پر ایفاکے سمینار ہال میں منعقدہ قومی سمینار میں صدارتی خطبہ پیش کررہے تھے۔انھوں نے قاہرہ مصر میں اپنے دور قیام کے دوران پیش آئے علمی واقعات کوشیئر کرتے ہوئے نسل نو اصناف ادب میں اپنے اکابر و اسلاف کے علمی وتحقیقی کاموں کو آگے بڑھانے کی ترغیب دلائی۔سمینار کے کوآرڈنیٹر ڈاکٹر قطب الدین استاذ سینٹر آف عربک اینڈ افریکن اسٹڈیز نے بحسن و خوبی نظامت کی۔معہدالتخصص فی اللغة العربیة ، ذاکر نگر ،نئی دہلی کے استاذ ڈاکٹر عبدالقادر خان نے سمینار میں پڑھے گئے مقالات پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ اکیڈمی کے رفیق تصنیف و تالیف ڈاکٹر صفدر زبیر ندوی نے خیرمقدمی کلمات پیش کیے، جبکہ اکیڈمی کے دوسرے رفیق مولانا امتیازاحمد قاسمی نے کلمات تشکر پیش کیے۔قبل ازیں سمینار میں مختلف موضوعات پر جواہر لال نہرویونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی یونیورسٹی ، ذاکر حسین دہلی کالج، دہلی یونیورسٹی کے اساتذہ واسکالرس نے مقالات پیش کیے،جن میں ڈاکٹرعبد الملک رسولپوری، ڈاکٹر جسیم الدین، ڈاکٹر زرنگار، ابوتراب قاسمی، غیاث الاسلام ، آصف اقبال جہان آبادی، پریتی بھارتی (دہلی یونیورسٹی) ڈاکٹر عمیر، کہف الوریٰ (جامعہ ملیہ اسلامیہ) ، ڈاکٹر عبد الرحمن، مطیع الرحمن، مسٹر حامد (جواہر لال نہرو یونیورسٹی) کے قابل ذکر ہیں۔ اس موقع پر اکیڈمی کے ذمہ داران و اسٹاف کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے اسکالرس موجود تھے۔

Leave a Reply