انہوں نے کہا کہ میرے دور حکومت میں حالات کو خراب کرنے کے لئے سازشیں کی گئیں ورنہ آج بھی تصادم آرائیاں ہو رہی ہیں لیکن سنگ باری نہیں ہوتی اور نہ ہی پولس تھانوں کو نذر آتش کیا جاتا ہے ۔
سری نگر: (یو این آئی) پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں پارٹی کارکنوں کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ‘بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانا ہمارے لئے زہر کا پیالہ پینے کے برابر تھا لیکن ہم نے ایسا صرف لوگوں کی بہبودی کے لئے کیا’۔
انہوں نے کہا کہ مودی آج واجپئی جی کے فارمولہ کشمیریت، جمہوریت اور انسانیت کو ہی مسائل کے حل کا راستہ قرار دیتے ہیں لیکن یہ سب باتیں ایجنڈا آف الائنس میں درج تھی جو انہوں نے نہیں مانی۔
مفتی سعید کے انتقال کے بعد حکومت بنانے میں تین ماہ کا وقت لگنے پر بات کرتے ہوئے محبوبہ نے کہا ’’مجھے بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے میں تین ماہ لگ گئے کیونکہ میں ان سے کچھ چیزیں حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن پارٹی کے کچھ لیڈران مرکزی حکومت کے پاس گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم ہاتھ ملانے کے لئے تیار ہیں، کجبوراً مجھے دوبارہ ہاتھ ملانے پر مجبور کیا، کیونکہ مجھے آپ لوگوں کی فکر تھی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ میرے دور حکومت میں حالات کو خراب کرنے کے لئے سازشیں کی گئیں ورنہ آج بھی تصادم آرائیاں ہورہی ہیں لیکن سنگ باری نہیں ہوتی اور نہ ہی پولس تھانوں کو نذر آتش کیا جاتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے جماعت اسلامی پر پابندی اور نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ کے حوالے سے کہا ‘بی جے پی مجھے جماعت اسلامی پر پابندی عائد کرنے کو کہتی تھی، وہ کہتے تھے کہ سال 2016 کی ایجی ٹیشن کے پیچھے انہی کے ہاتھ کار فرما ہیں لیکن میں نے کہا کہ میرے پاس اس کے کوئی ثبوت نہیں ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ آج جو نوجوانوں اور عالموں کی پکڑ دھکڑ جاری ہے، تصادم آرائیوں کے دوران مکانوں کا اُڑایا جاتا ہے اور لاشوں کو مسخ کیا جاتا ہے، ایل او سی آر پار مظفر آباد تجارت کو بند کیا گیا اور قومی شاہراہ پر ہفتے میں دو دن سیول ٹریفک کی نقل وحمل پر پابندی عائد کی گئی، میں نے اپنے دور حکومت میں ان چیزوں کی اجازت نہیں دی۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ میں نے حریت کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے اراکین پارلیمان کو یہاں لائے۔ دنیشور شرما کو مذاکرات کار کی حیثیت سے یہاں لائے لیکن حریت والوں نے ان کے لئے دروازے نہیں کھولے تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔ انہوں نے کہا کہ کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس میں ایک طرف پورا ہندوستان تھا اور دوسری طرف میں اکیلی اپنی اس معصوم بچی کو انصاف دلوانے کے لئے کھڑی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ اننت ناگ پارلیانی حلقے کے دوسرے مرحلے کی پولنگ کے تحت ضلع کولگام میں 29 اپریل کو ووٹ ڈالے جانے ہیں۔

Leave a Reply