رمضان المبارک میں دیگر عبادتوں کے ساتھ غربا و مساکین کا خیال رکھیں: امارت شرعیہ

پٹنہ (پریس ریلیز)
شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی نے اپنے ایک اخباری بیان میں فرمایا کہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ بہت ہی خیر و برکت کا عشرہ ہے ، اس عشرہ میں جہاں اعتکاف کیا جاتا ہے ، وہیں اس کی طاق راتوں میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے ، جسے لیلة القدر کہا جاتا ہے، جب کوئی مومن بندہ اس رات میں اللہ سے معافی کا خواستگار ہو تا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے مغفرت اور نار جہنم سے خلاصی کا فیصلہ فرما دیتے ہیں ، اس ایک رات میں عبادت کا ثواب ہزار مہینوں کی راتوں سے بڑھا ہوا ہے ، غروب آفتاب ہوتے ہی آسمان سے جھنڈ در جھنڈ فرشتے اترنا شروع ہو جاتے ہیں اور اس رات جبرئیل امین بھی زمین پر آتے ہیں ، اور اس رات عبادت کرنے والوں کی عبادت کو دیکھ کر رشک کرتے ہیں اور ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو شب قدر میں ذکر و تلاوت کا اہتمام کرنا چاہئے ، اور اپنی غلطیوں پر ندامت و شرمندگی کے آنسو بہا کر اللہ سے معافی مانگنی چاہئے ۔ رمضان المبارک کو غمخواری کا مہینہ بھی قرار دیا گیا ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو مال و دولت کی نعمت سے نوازا ہے انہیں فرض زکوٰة کے علاوہ زیادہ سے زیادہ نفلی خیرات و صدقات کرناچاہئے اور غرباء، مساکین ، یتیموں اور محتاجوں کی خبر گیری اور حاجت روائی کرنی چاہئے ، غرباءو مساکین کی حاجت روائی سے اللہ تعالیٰ مال میں برکت عطا کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے صدقہ فطر کو واجب قرار دیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ روزے کی کمی کوتاہی کی تلافی ہو سکے ، اور غربا ءو مساکین بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکےں۔اس سے آپس میں انس و محبت بھی پیدا ہو تی ہے ، تعلقات خوشگوار ہو تے ہیں ۔ ہماری عبادتوں میں اجتماعیت کے لازم ہونے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ باہمی اتحاد و یگانگت پیدا ہو ۔
مولانا موصوف نے مزید فرمایا کہ غریبوں کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کرنے سے اللہ کی رحمت متوجہ ہو تی ہے ، اور اللہ تعالیٰ ان کی دعاو¿ں کے نتیجہ میں مسائل و مشکلات کو حل فرماتے ہیں ، اس لیے ہر صاحب حیثیت مسلمان کو اس ماہ مبارک میں دل کھول کرمصیبت زدوں اور پریشان حال لوگوں کی مدد کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق بخشے آمین!