شکست کے بعد راجد میں سرپھٹول ۔ پارٹی ممبر اسمبلی نے تیجسوی سے مانگا استعفیٰ

RJD Chief Lalu Prasad Yadav talks to media after the Party's legislatives meeting in Patna on Friday, Nov 13,2015. Express Photo By Prashant Ravi

پٹنہ27 مئی (آئی این ایس انڈیا)
بہار میں راشٹریہ جنتا دل (RJD) کی کراری شکست کے بعد پوری پارٹی سکتے میں ہے۔ بہار میں کانگریس آر جے ڈی-آر ایل ایس پی ،ہم اور VIP نے مہا گٹھ بندھن بنا کر انتخاب لڑا تھا۔ بہار کی 40 میں 39 سیٹوں پر بی جے پی اتحاد کا قبضہ رہا، وہیں مہا گٹھ بندھن کے حصے ایک نشست آئی۔ مہا گٹھ بندھن سے کانگریس نے کشن گنج کی سیٹ جیتی۔ کشن گنج میں کانگریس امیدوار ڈاکٹر محمد جاوید نے جے ڈی یو کے سید محمود اشرف کو شکست دے کر جیتی۔ انہوں نے 34466 ووٹ سے محمود اشرف کو شکست دی۔ بہار میں راشٹریہ جنتا دل نے 20، کانگریس نے 9، اوپیندر کشواہا کی RLSP نے 5، جیتن مانجھی کی ہم نے 3 اور مکیش ساہنی کی VIP نے تین سیٹوں پر انتخاب لڑا تھا۔ اس درمیان آر جے ڈی میں آپس کی لڑائی اور باغیانہ تیور بھی شروع ہو گئے ہیں۔ مظفر پور ضلع سے پارٹی کے ایک ممبر اسمبلی نے سابق نائب وزیر اعلی تیجسوی یادوسے بہار اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے استعفیٰ مانگا ہے۔ مظفر پور ضلع کے گائے گھاٹ سے آر جے ڈی ممبر اسمبلی مہیشور پرساد یادو نے پیر کو صحافیوں سے کہا کہ کنبہ پروری کی وجہ سے آر جے ڈی کی یہ حالت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر جے ڈی خاندان کے چکر میں الجھا ہوا ہے، اور اسی کی وجہ سے پارٹی کی بری حالت ہوئی ہے۔انہوں نے رابڑی دیوی کو وزیر اعلی بنانے سے لے کر تیجسوی کو نائب وزیر اعلی بنائے جانے اور حکومت سے باہر ہونے کے بعد اپوزیشن کا لیڈر بنائے جانے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آر جے ڈی میں کئی سینئر لیڈر ہیں، جنہیں یہ ذمہ داری دی سکتی تھی، لیکن کنبہ پروری کی وجہ سے خاندان کے لوگوں کو ہی ذمہ داری دی گئی۔ بتا دیں کہ بہار کی سیاست میں تقریبا 20 سال بعد ایسا پہلی بار ہو رہا تھا کہ لوک سبھا انتخابات میں نتیش کمار اور رام ولاس پاسوان ایک ساتھ تھے۔ 2014 میں نتیش کمار کی پارٹی این ڈی اے سے الگ انتخابات لڑی تھی اور ہار گئی تھی۔