انسانی زندگی پر ماہِ رمضان کے اثرات 




ڈاکٹر محمد منظور عالم 

رمضان المبارک کی سب سے اہم عباد ت روزہ اور نماز تراویح ہے ۔ روزہ فرائض خمسہ میں سے ایک ہے ۔ تمام مسلمانوں پر اس کی ادائیگی فرض ہے ۔ روزہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہر قوم میں مختلف سطح اور شکلوں میں اس کا وجود پایا جاتا ہے۔ بالخصوص تمام آسمانی مذاہب میں روزہ کا وجود ہے ۔ امت محمد یہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالی نے روزہ کی عبادت سے سرفراز فرمایا اور کہاکہ اے ایمان والوں تم پر روزہ فرض کیاگیاہے جیسا کہ پچھلی امتوں پر فرض کیاگیا شایدکہ تم متقی بن جاؤ (قرآن کریم )

 اللہ تبارک وتعالی نے سورہ بقرہ کی مذکورہ آیت جس کا ترجمہ سپرد قرطاس کیاگیاہے میں روزہ کی فرضیت بھی بتائی ہے،اس کی تاریخ بھی بتادی ہے کہ روزہ صرف موجودہ امت پر فرض نہیں ہے بلکہ گذشتہ امتوں پر بھی روزہ فرض کیاگیاتھا اللہ تعالی نے اسی آیت میں روزہ کا اہم مقصد بھی بتادیاہے کہ روزہ انسان کی زندگی میں تقوی پیدا ہوتاہے ۔ مسلمانوں کے دلوں میں اللہ تعالی کا خوف آتاہے ۔ مومن حرام کاموں سے بچتاہے اور جائز کاموں میں مشغول ہوجاتاہے ۔روزہ رکھنے کے بعد زندگی مرتب ہوجاتی ہے ۔ معاشی ،نفسیاستی ،روحانی اور اخلافی تربیت ہوجاتی ہے ۔

روزہ رکھنے کے بعد مسلمانوں کے دلوں میں اللہ تعالی کا خوف پیدا ہوتاہے وہ غلط کاموں سے اجتناب ہے ۔ جب بھی اس کے دل اور ذہن ودماغ میں شیطان وسوسہ ڈالتاہے اچانک خیال آتاہے کہ میرا روزہ ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں دیکھ رہاہے اور پھر وہ غلط کاموں سے بچ جاتاہے ۔ شریعت کے احکام کا وہ پابند بن جاتاہے ۔ نفسانی خواہشات کے تابع ہونے کے بجائے وہ خواہشات کو اپنے تابع کرلیتاہے ۔ شد ت کی پیاس لگتی ہے ۔ بھوک لگتی ہے ۔ کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتاہے ۔چاہے تو روزہ دا ر دھوپ کی شدت او ر پیاس کی بے چینی کی وجہ سے چھپ کر پانی پی لے ۔کوئی اسے کچھ کہنے والا نہیں ہوگا ۔کوئی اس پر لعنت نہیں بھیجے گا لیکن اس کے باوجود ایک مسلمان ایسے تمام امور پر قدررکھتے ہوئے اپنے روزہ کی حفاظت کرتاہے ۔ دھوپ کی شدت اور پیاس کی بے چینی کے باوجود روزہ رکھتاہے ۔ شریعت کے احکامات کی پابندی کرتاہے ۔ دل کی چاہت اور نفسانی خواہشات کو اپنے تابع کرلیتاہے ۔اسی کا نام تقوی ہے ۔ یہی روحانی اور نفسیاتی تربیت ہے کہ ایک انسان تمام تر امور پر قدرت کے باوجود محض اللہ تعالی کی رضا ،خوشنودی اور شریعت کے احکامات کی اتباع میں روزہ مکمل کرتاہے ۔

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کا قول ہے کہ روزے کے ذریعے سے جب نفس کو مرغوبات سے روکنے کی عادت پڑجائے گی تو پھر اسے شرعاًحرام چیزوں سے روکنا آسان ہوجائے گا۔جب روزے کی وجہ سے قوت نفس اور شہوت میں ضعف آئے گا تو متقی بن جاؤگے۔ روزہ میں یہ بہت بڑی حکمت پوشیدہ ہے کہ اس سے سرکش نفس کی اصلاح ہوتی ہے۔اور شریعت کے احکام پر پابندی ہونے لگتی ہے۔متقی بننے کا یہی معنی ہے کہ انسانی نفس اس کے تابع ہوجائے اور احکام شریعت پر عمل آسان ہوجائے۔

روزہ قانون کی پابندی سکھاتاہے ۔ روزہ رکھنے والا یہ شعور سیکھتاہے کہ ہمیں روزہ کے احکامات کو بجالاناہے ۔جب ایک انسان اور مسلمان کی زندگی میں روزہ کے قوانین اور شرائط کو ماننے کا جذبہ پید ا ہوجاتاہے تو یہیں سے زندگی کے ہر میدان میں قانون کی بجا آوری احکامات کی فرماں برداری کا سبق ملتاہے ۔ انسانی ذہن ودماغ یہ سیکھتاہے کہ قانون سب سے اہم ۔ دستور اور آئین کی بالادستی ضروری ہے ۔اسی سے انسانی زندگی میں ڈسپلن آتاہے ۔ملک ،ریاست اور سماج میں امن وسلامتی اور خوشحالی بحال ہوتی ہے ۔ انسان یہ سبق سیکھتاہے کہ آئین پر عمل کرنے کیلئے کسی لاٹھی اور ڈنڈے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیئے بلکہ آئین ،اصول اور دستور کی پابندی اس کی اخلاقی ،روحانی اور شہری ذمہ دار ی ہے ۔

روزہ وقت کی پابندی سکھاتا ہے ۔ روزہ یہ بتاتاہے کہ کب آپ کو کیا کرناہے ۔ روزہ رکھنے کی وجہ سے ایک انسان پانچ وقت کی نمازوں کا پابند بنتاہے ۔ صبح کے وقت میں پیاری اور میٹھی نیند سے بیدا ر ہوکر سحری کا اہتمام کرتاہے ۔ دن کے اوقات کو غیر ضروری اور لایعنی کاموں سے بچاتاہے ۔ عبادات اور ذکر واذکار میں مشغول رہتا ہے ۔ افطار کے وقت کا انتظار کرتاہے ۔ الغر روزہ رکھنے والاوقت کا پابند ہوجاتاہے ۔ ہر کام کو اس کے وقت کے مطابق انجام دیتاہے اور اس طرح روزہ رکھنے کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوتاہے کہ انسان وقت کا پابند بن جاتاہے ۔ شب روزگزارنے کا طریقہ سیکھ لیتاہے وقت کا تحفظ اور اس کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا جان لیتاہے ۔

روزہ خدمت خلق اور دوسروں سے ہمدردی ،غمگساری سکھاتاہے ۔ روزہ بتاتا ہے کہ بھوک کیا چیز ہوتی ہے ۔پیاس کی شدت کیسی ہوتی ہے ۔ یہیں سے انسان میں غریبوں ، کمزوروں ، بھوکوں اور پیاسوں کے تئیں دل میں ہمدردی پیدا ہوتی ہے ۔انسان سوچتا ہے کہ وہ لوگ کیسے برداشت کرتے ہیں جن کے پیاس دووقت کی روزی روٹی کا انتظام نہیں ہوتاہے ۔ وہ کیسے اپنی زندگی گزارتے ہیں جنہیں پینے کا پانی میسرنہیں ہوتاہے پھر انسان ان کی بھلائی کرنے کے بارے میں سوچتاہے ۔ان سے ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوتاہے ان کیلئے کچھ کرنے کی کوشش کرتاہے او راس طرح انسانی زندگی کو سمجھنے کا موقع ملتاہے ۔

روزہ رکھنے سے قربانی ،ایثار اور دوسروں کی خدمت کا جذبہ پیدا ہوتاہے ۔روزہ میں انسان دوسروں کو ترجیحات دیتاہے ۔دوسرے کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتاہے جس سے معاشرہ اور سماج میں خوشگوار ماحول پیداہوتاہے ۔ 

بیس دنوں تک کوئی کام مسلسل کرنے کے بعد انسانی زندگی کا وہ عمل مستقل حصہ بن جاتاہے ۔ ماہ مبارک میں مسلسل بیس دنوں کی عبادت کے بعد شب قدر مرحلہ آتاہے جو صرف امت محمدیہ کیلئے خاص ہے جس میں عبادت کی اہمیت او ربڑھ جاتی ہے ۔ اجرثواب بے پناہ ہیں اوراس طرح انسان عبادات میں اعلی مراحل تک پہونچ جاتاہے ۔

روزہ انسان کو اخلاق کے اعلی مقام تک پہونچاتاہے ۔ لڑائی جھگڑے سے بچاتاہے ۔ غلط کاموں سے روکتاہے ۔ عفو و درگزر کا مادہ پیدا کرتاہے ۔انسان میں دوسروں کے تئیں صلہ رحمی اور محبت کا جذبہ ابھرتاہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ”روزہ ایک ڈھال ہے، جب تم میں سے کسی کا روزہ ہوتو دل لگی کی باتیں کرے نہ شورو شغب۔اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے لڑنے کی کوشش کرے تو کہہ دے،بھئی ! میں تو روزے دار ہوں۔“ اس حدیث میں روزے کو ڈھال قرار دیا گیا ہے ،کس چیز سے؟ گالی گلوچ سے، شور و شغب اور دل لگی کی باتوں سے، حتی کہ کوئی گالی بھی دے تو کہہ دیاجائے کہ، میں تو روزے دار ہوں، میں روزے کی حالت میں اپنی زبان کو گالی سے آلودہ نہیں کروں گا،لڑائی کا جواب لڑائی سے نہیں، عفو و در گزر سے دوں گا۔یہ اخلاق و کردار کی وہ بلندی ہے جو روزے سے پیدا ہوتی ہے۔

روزہ ایک طرح جہاں اخلاقی ،روحانی اور نفسیاتی تربیت کرتا ہے۔ گناہوں سے روکتاہے ۔ انسان کو متقی اور پر ہیز گار بناتاہے وہیں روزہ حفظان صحت کا بھی ضامن بنتاہے ۔ انسان کو بہت ساری بیماریوں سے نجات دلاتاہے ۔صحت میں توانائی پیداکرتاہے ۔ رسول اللہ کا ارشاد ہے: ” روزہ رکھو صحت یاب ہو جاؤگے۔“ حکماءنے لکھاہے کہ روزہ آنتوں کی صفائی، معدے کی درستگی، فضلات سے بدن کی تطہیر ، موٹاپے اور وزن کی کمی کا سبب ہوتا ہے جو کہ صحتمند رہنے کے لیے ضروری ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ”انسان نے اپنے شکم سے بد تر ظرف کو پر نہیں کیا، آدمی کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کے پیٹھ کو کھڑا رکھ سکیں۔ پس اگر ناچار ہو تو اس کی ایک تہائی کو کھانے کے لیے، ایک تہائی کو پینے اور ایک تہائی کو سانس لینے کے لیے خالی رکھے۔“ (ترمذی، نسائی ،ابن ماجہ) اس حدیث میں پیٹ خالی رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ اس لیے کہ پیٹ خالی رکھنا اور کم کھانا جیسا کہ روزہ میں ہوتا ہے انسان کے لیے بہت سی جسمانی بیماریوں جیسے بلڈ پریشر، ذیابیطس، آنتوں کے عوارض، گردوں اور دل کے امراض سے حفاظت کا سبب ہے۔ 

رمضان المبارک میں خرچ کرنے ،دوسروں کے کام آنے اور محتاجوں کی ضروریات پوری کرنے کا جذبہ پیدا ہوتاہے ۔انسان دوسروں کی بھلائی کا کام بصدشوق کرتاہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:”جو شخص رمضان میں نفلی عبادت کے ذریعے تقرب الٰہی کا طلب گار ہوگاتو اس کو اس شخص جیسا ثواب ملے گا جس نے رمضان کے علاوہ میں فرض ادا کیا اور جس نے اس میں فرض ادا کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے رمضان کے علاوہ میں ستر فرض ادا کیے۔یہ مہینہ ہمدردی اور غمخواری کا ہے،جوشخص اس مہینے میں کسی کو روزہ افطار کرائے گاتو اس کا یہ عمل اس کے گناہوں کی مغفرت کا سبب اور دوزخ کی آگ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا،اور اس کو روزہ دار کے ثواب میں کمی کیے بغیر روزے دار کے برابر ثواب دیا جائے گا۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم میں سے ہر شخص کے اندر افطار کرانے کی گنجائش نہیں ہوتی۔آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کو یہ ثواب عطا فرمائے گا جو کسی روزہ دار کو ایک کھجور، پانی کا ایک گھونٹ یا تھوڑی سی لسی سے افطار کرادے۔“ (بیہقی ،ابن خزیمہ) ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”جو کسی روزہ دار کو پانی پلائے اللہ تعالیٰ میرے حوض سے اس کو ایسا پانی پلائیں گے کہ وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا۔“ (ابن خزیمہ) چناں چہ رمضان میں فقیر وںکی غمخواری۔ غریبوں کی امدادعام دنوں کے مقابلے میں زیادہ اجر کا باعث ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ”رسول اللہ سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان المبارک میں جب حضرت جبرئیل آپ سے ملاقات کرتے تھے تو آپ اور زیادہ سخی ہوجاتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھلائی اور خیر کے کاموں میں تیز ہوا سے زیادہ فیاضی او ر سخاوت فرماتے تھے۔“ گویا کہ اس مہینے میں فقیروں کو کھانا کھلانا، روزہ دار کو افطار کرانا اور سخاوت کا مظاہرہ کرنا رمضان کا تقاضا ہے۔اس سے ایک طرف دلوں سے دنیا کی محبت نکلتی ہے تو دوسری طرف صدقہ و زکوٰکی ان رقوم سے غریب اور مفلوک الحال لوگوں کی مالی حالت بھی بہتر ہوتی ہے اور وہ معاشرے میں باعزت زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ اس طرح معاشرے میں معاشی عدم توازن میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ماہ رمضان میں صدقہ و خیرات کی رغبت دلاتے ہوئے اس کے اجر و ثواب میں بھی اضافہ کردیا جاتا ہے

روزہ امت مسلمہ میں ایک عالمگیر برادری کے احساس کو پختہ کرتا ہے۔ نسلی اور طبقاتی تفاخر کو ختم کرنے میں روزہ اہم ترین کردار ادا کرتا ہے کہ جب افطاری کے وقت امیر و غریب سب ایک دستر خوان پر جمع ہوکر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوکر خوشی و مسرت کی فضا میں روزہ افطار کرتے ہیں۔

روزہ میں بڑوں کے ساتھ بچوں کی بھی تربیت ہوتی ہے ۔بڑے حسن سلوک اور محبت کے ساتھ پیش آتے ہیں ،کھانے پینے سمیت دیگر امور میں بچوں کی بہترین تربیت کرتے ہیں جس سے گھر کا ماحول بہتر بنتاہے۔ بچوں کا اخلاق بہتر ہوتاہے اور اس طرح ایک خوبصورت ماحول تشکیل پاتاہے ۔

خلاصہ کلام یہ کے روزہ ایک عظیم عبادت اور فریضہ خداوندی ہے جو انسانوں کی ہر طرح سطح پر تربیت کرتاہے ۔سماجی زندگی گزار نے کا طریقہ بتاتاہے ۔ وقت کی پابندی سکھاتاہے ۔ قانون پر عمل کرنے کا جذبہ ابھارتاہے ۔ غریبوں سے ہمدردی اور غمسگاری کا مادہ پیداکرتاہے ۔ انسانی اخوت اور بھائی چارے کا پیغام دیتاہے ۔ اتحاد و یکجہتی کا در دیتاہے ۔ بہت سے جسمانی ، روحانی اور نفسیاتی بیماریوں سے حفاظت کرتاہے ۔

(مضمون نگار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ہیں )

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *