جسم کا 80فیصد حصہ مفلوج۔ لیکن کبھی قضا نہیں ہوتی نماز۔جانیئے جے پورکے شمشاد کی کہانی

شمشاد لوگوں اور خاص طور پر نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جب ان مخالف حالات کے باوجود وہ روزے رکھ سکتے ہیں اور نماز پڑھ سکتے ہیں تو پھر دوسرے لوگ کیوں چھوٹے چھوٹے بہانے بنا کر نماز و روزہ جیسے فرائض کی ادائیگی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جے پور (ایم این این )
جے پور کے شمشاد جسمانی طور پر 80 فیصد معذورہیںلیکن وہ نہ صرف یہ کہ پورے روزے رکھ رہے ہیں بلکہ وہ نماز ادا کرنے کے لئے جامع مسجد بھی جاتے ہیں۔
نیوز 18 اردو کے مطابق جسمانی طور پر 80 فیصد معذور شمشاد دل کے بھی مریض ہیں۔ لیکن ان کا حوصلہ ان تمام پریشانیوں پر حاوی ہے۔ پچھلے 14 برسوں سے شمشاد اینکولوجنگ اسپانڈولائٹس جیسی بیماری سے دوچار ہیں۔ عموما اس بیماری کا علاج بھی آسانی ہو جاتا ہے لیکن ان کا معاملہ زیادہ نازک اور نادر ہے۔ ان کا جسم اب بالکل کام نہیں کر پاتا ہے۔ بڑی مشکل سے لڑکھڑاتے ہوئے وہ کچھ قدم کسی اور کے سہارے چل پاتے ہیں۔ لیکن شمشاد ان حالات میں بھی پورے روزے رکھ رہے ہیں۔ وہ نماز کبھی بھی قضا نہیں کرتے ہیں۔
حالانکہ ڈاکٹروں نے شمشاد کو روزے رکھنے اور نماز پڑھنے سے منع کر رکھا ہے لیکن اس کے باوجود وہ روزے رکھ رہے ہیں اور نماز پڑھ رہے ہیں۔ بی پی اور ہارٹ کے مریض بھی ہیں اور ان حالات میں بھی اپنی تین بیٹیوں کے ساتھ اپنے کنبہ کی پرورش کر رہے ہیں۔ شمشاد کہتے ہیں کہ مجھے روزہ رکھنے اور نماز پڑھنے سے بڑی ہمت ملتی ہے، حوصلہ ملتا ہے۔
شمشاد لوگوں اور خاص طور پر نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جب ان مخالف حالات کے باوجود وہ روزے رکھ سکتے ہیں اور نماز پڑھ سکتے ہیں تو پھر دوسرے لوگ کیوں چھوٹے چھوٹے بہانے بنا کر نماز و روزہ جیسے فرائض کی ادائیگی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

SHARE