مظفر پور میں بچوں کی اموات پر آر جے ڈی کا نتیش کمار اور مودی حکومت پر زور دار حملہ

کہاں ہے گڈگورننس،مرکزاورریاستی حکومت معافی مانگے،دلت اورپسماندہ طبقات متاثر
بے حس سرکارنے ہرسال کی وباکے باوجوداقدامات نہیں کیے، وزیرکووعدہ کیوں یادنہیں دلایا

نئی دہلی،19جون ( آئی این ایس انڈیا )
بہار کے مظفر پورمیں نامعلوم بیماری سے سو سے زائد بچوں کی موت اور اس پر حکومت کے رویے کو لے کر راشٹریہ جنتا دل کے سینئر لیڈر شیوانند تیواری نے نتیش کمار اور مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔یہ بیماری جسے ’چمکی بخار‘ کہا جا رہا ہے، اس کے وجوہات اور تشخیص نہ ملنے پر تیواری نے نتیش کمار کے ’گڈ گورننس‘ پر سوال اٹھائے ہیں۔انہوں نے مرکز اور بہار حکومت سے کہا ہے کہ وہ مردہ بچوں کے ماں باپ سے معافی مانگیں۔آر جے ڈی کے لیڈر شیوانند تیواری نے کہا کہ ابھی تک مظفر پورمیں133 بچوں کی موت ہو چکی ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ اس جان لیوا بیماری میں مبتلا دیگر 151 بچے اسپتال میں داخل علاج ہیں۔یہ بیماری نہیں بلکہ بہت بڑی ہلاکت ہے۔حیرت کی بات ہے کہ برسوں سے یہ بیماری بچوں کی جان لے رہی ہے۔ لیکن یہ بیماری ہے کیا، یہ ہوتی کیوں ہے اور اس کا علاج کیا ہے، ابھی تک اس کی معلومات نہیں مل پائی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک تحقیق کے مطابق اس نامعلوم بیماری سے مرنے والے اکثر تمام بچے دلت اور پسماندہ معاشرے کے خاندانوں کے ہیں۔شاید اس لئے بھی اس معاملے میں نہ تو بہار حکومت اور نہ ہی حکومت ہند حساس دکھائی دے رہی ہے۔ تیواری نے کہا ہے کہ وزیر اعلی نتیش کمار جی نے کہا ہے کہ ہر سال برسات کے پہلے یہ جان لیوا بیماری آتی ہے اور بچوں کی جان لیتی ہے۔ابھی تک اس بیماری کے وجوہات کا پتہ نہیں چل سکاہے۔ نتیش جی اس بیان کے ذریعے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں! تیرہ برسوں سے بہار کے وزیر اعلیٰ ہیں۔اس دوران ہر سال برسات کے پہلے اس نامعلوم بیماری سے بچوں کے مرنے کا رواج سا بن گیا ہے۔حیرت ہے کہ اتنا طویل وقت گزر جانے کے باوجود نہ تو اس بیماری کا پتہ لگ سکاہے اور نہ ہی اس کے علاج کا بندوبست ہوسکا۔اس کے باوجود نتیش جی کے حکومت کو اگر کوئی گڈ گورننس کہتا ہے تو بدانتظامی کی نئی تعریف گڑھنی ہو گی! انہوں نے کہا ہے کہ حکومت ہند کے وزیر صحت بھی اس درمیان مظفر پور آکرغور وخوض مکمل کر گئے ہیں۔غوروخوض ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کہ 2014 میں بھی یہی وزیر صحت تھے اور بچوں کی موت کا جائزہ لینے اس وقت بھی مظفر پور آئے تھے۔انہوں نے اس وقت وعدہ کیا تھا کہ مظفر پور اسپتال میں 100 بستروں والی نئی یونٹ اس بیماری سے دوچار بچوں کے لئے بنائی جائے گی اور بہتر علاج کے لئے مزید انتظامات کئے جائیں گے۔پانچ برس کے بعد دوبارہ ان کی مظفر پور آمد ہوئی اور تقریبا انہی وعدوں کو انہوں نے پھر دہرایا جو 2014 میں کیا تھا۔ ہمیں اس بات پر بھی حیرت ہے کہ نتیش جی نے حکومت ہند کے وزیر صحت کو ان کی طرف سے کئے گئے وعدوں کو یاد کراکر اسے پورا کرنے میں کوئی دلچسپی کیوں نہیں دکھائی۔شیوانند تیواری نے کہا ہے کہ آج سائنس کا زمانہ ہے۔آج کے زمانے میں اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ سالوں سال سے بچوں کی جان لینے والی اس بیماری کی وجوہات اور تشخیص کی معلومات نہیں مل رہی ہے تو اس کو قابل اور موثر حکمران تو بلکہ نہیں تصور کیا جائے گا۔دنیا بھر میں مہاماریوں کا سامنا کرنے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی روایت رہتی ہے۔اگر آپ کے ملک میں اس بیماری کی وجہ کا پتہ نہیں چل پا رہا ہے تو دنیا کے دیگر ملکوں سے اس موضوع میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔دنیا بھر کی لیبارٹریوں کے دروازے اس طرح کی قدرتی آفات کا سبب کا پتہ لگانے کے لئے کھلے رہتے ہیں۔آر جے ڈی لیڈر نے کہا ہے کہ مظفر پور میں اب تک ہوئی سینکڑوں بچوں کی موت پر نہ صرف بہار حکومت بلکہ حکومت ہند بھی مجرمانہ غفلت اور بے حسی کی مجرم ہے۔اس لئے دونوں حکومتوں کو اب تک ہوئی لاپرواہی کے لئے عوام میں افسوس کا اظہار کرکے مرنے والے بچوں کے والدین سے معافی مانگنی چاہئے۔