مشرق وسطی کے ممالک میں طیب اردگان سب سے زیادہ مقبول عالمی رہنما ۔ ٹرمپ اور پوتین بہت پیچھے

139

بی بی سی کے سروے کے مطابق مشرق وسطی میں پوتن دوسرے نمبر پرمقبول ہیں ہیں اور ٹرمپ تیسرے نمبر پر ہیں لیکن دونوں مل کر بھی رجب طیب اردگان سے آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں

نئی دہلی (ملت ٹائمز)
بی بی سی نے عرب ممالک میں مذہب سے دوری ، ہم جنسی پرستی ، قتل ، زنا، خواتین سمیت متعدد ایشوز پر ایک سروے کیاہے۔ اس سروے میں میں ایک سوال عالمی رہنما ﺅں کی مقبولیت کے بارے میں بھی تھا کہ مشرق وسطی کے بارے میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن ، امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان میں سے کسی کی پالیسی بہتر ہیں اور وہاں کے عوام کس کی حکمت عملی اتفاق رکھتے ہیں ۔اس موضو ع پر ہوئے سروے میں ترکی کے صدررجب طیب اردگان عر ب ممالک میں سب سے آگے ہیں اور روس کے صدر ولادیمر پوتین اور امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ دونوں مل کر بھی تنہا ترکی کے صدر رجب طیب اردگان سے بہت پیچھے ہیں ۔
بی بی سی نے یہ سروے مشرق وسطی کے گیارہ ممالک میں کیاہے ۔ الجزائر ، مصر ،سوڈان ،لیبیا ، فلسطین ،اردن ، عراق ، یمن ،لبنان ،تیونس اور مراکش میں ۔ مجموعی طور پر ان ممالک کے 51 فیصد عوام ترکی کے رجب طیب اردگان کی پالیسی اتفاق کرتے ہیں اور اسے خطے کی بھلائی کیلئے بہتر سمجھتے ہیں ۔ جبکہ 28 فیصد عوام روسی صدر ولادیمیر پوتن کی پالیسی سے اتفاق رکھتے ہیں اور صرف 12 فیصد عوام امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسی سے متفق ہیں ۔
مشرق وسطی کے 11 ممالک میں سات جگہوں میں نصف یا اس سے زائد افراد نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی حکمتِ عملی سے اتفاق کیا۔لبنان، لیبیا اور مصر میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی پالیسیوں کی قبولیت اردوان کی پالیسیوں کے مقابلے میں زیادہ پائی گئی ہے۔
بی بی سی کے اس سروے میں جنسی رویوں، تحفظ، ہجرت اور خواتین کے حقوق سے لے کر کئی معاملات پر عرب عوام کے خیالات جاننے کی کوشش کی گئی تھی۔بی بی سی نیوز عربی کے لیے عرب بیرومیٹر ریسرچ نیٹ ورک کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں 2018 کے اواخر اور 2019 کے موسمِ بہار کے درمیان 10 ممالک اور فلسطینی علاقوں میں 25 ہزار سے زائد افراد کا انٹرویو کیا گیا۔