قانونِ طلاق کے پس منظر میں! قسط (اول) 

شمع فروزاں: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی 

ہندوستان کے معماروں نے خواب دیکھا تھا کہ یہ دنیا کا ایک منفرد ملک ہوگا، جو مذاہب اور تہذیبوں کا گلدستہ ہوگا، جس کی پہچان یک رنگی سے نہیں ہمہ رنگی سے ہوگی، جو پوری دنیا کے لئے کثرت میں وحدت کی مثال بنے گا، اسی اصول کے مطابق ملک کا دستور بنایا گیا، اور تمام مذاہب، تہذیبوں، زبانوں اور نسلوں کو اپنی انفرادی شناخت کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع دیا گیا؛ مگر افسوس کہ کچھ لوگوں کو یہ خوبصورت تصور پسند نہیں آیا، اور وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کا ایک ہی رنگ ہو، ایک ہی بو ہو اور ایک ہی شکل ہو، یہ مختلف پھولوں کا خوبصورت اور خوش رنگ گلدستہ نہ ہو، انھوں نے فرقہ پرستی کا بیج بونا شروع کیا اور آخر یہ اتنا تناور درخت بن گیا کہ آج اقتدار کے بام ودر اسی نفرت پھیلانے والی طاقت کے ہاتھ میں ہے۔

ان کا سب سے زیادہ نشانہ مسلمان اور مسلمانوں کی شریعت ہے؛ اس لئے کوشش کی جا رہی ہے کہ قانون شریعت کے بچے کھچے حصہ سے بھی مسلمانوں کو محروم کر دیا جائے، اسی ناخوش گوار جذبہ کا ایک مظہر تین طلاق سے متعلق حکومت کا لایا ہوا حالیہ قانون ہے، یہ نہایت نامعقول ہے، جس کے مطابق ایک طرف تین طلاق واقع نہیں ہوتی اور بے اثر قرار پاتی ہے، دوسری طرف اس پر جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے اور تین سال قید کی سزا بھی دی جاتی ہے، نیز اس دوران بیوی کا نفقہ بھی عائد کیا جاتا ہے، غور کیا جائے کہ جب طلاق ہوتی ہی نہیں ،تو اس پر سزا دینے کا کیا جواز ہے؟ اور جب شوہر جیل میں رہے گا تو وہ بیوی کا نفقہ کیسے ادا کرے گا؟ لیکن اس وقت ملک میں اکثریتی ڈکٹیٹر شِپ قائم ہے؛ چنانچہ حکومت نے مسلمانوں کی رائے کے علی الرغم دستوری اقدار کو نظر انداز کرتے ہوئے قانون پاس کر دیا، اور یہ بھی کچھ کم باعث افسوس نہیں کہ جو پارٹیاں اپنے آپ کو سیکولر کہتی ہیں، ان میں سے بھی متعدد جماعتوں نے واک آؤٹ کر کے یا رائے شماری میں حصہ نہ لے کر بالواسطہ طور پر حکومت کی تائید کی ہے، اب اس کے بعد آگے کیا کارروائی ہوگی، اس پر تو مسلم پرسنل لا بورڈ اور دوسری ملی تنظیمیں غور کریں گی؛ لیکن عام مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے؟ وہ کس طرح ان سازشوں کے باوجود اپنی شناخت کو بچائیں ، اور اپنے آپ کو اور دوسرے مسلمانوں کو اپنی شریعت پر قائم رکھیں ؟ اس وقت اس سلسلے میں چند ضروری نکات پیش کئے جاتے ہیں:

۱ – طلاق اور بالخصوص تین طلاق کو روکنے کے لئے مسلمانوں کو طریقۂ طلاق سمجھانے کی ضرورت ہے، طریقۂ نکاح پر تو آج کل کافی گفتگو کی جاتی ہے؛ لیکن طریقۂ طلاق پر بات نہیں ہوتی ، لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ کن حالات میں طلاق دینے کی اجازت ہے؟ اور اگر ایسے حالات پیدا ہو جائیں تو اس وقت کس طرح طلاق دی جائے؟ بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی سمجھتے ہیں کہ جب تک تین بار طلاق نہ دی جائے، طلاق واقع ہی نہیں ہوتی، حد تو یہ ہے کہ بہت سے وکلاء اور قانون دانوں کے ذہن میں بھی یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ جب تک تین طلاق نہ دی جائے مکمل طور پر نکاح ختم نہیں ہوتا؛ حالاں کہ یہ غلط فہمی ہے۔

طلاق دینے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر کسی بات پر میاں بیوی کے درمیان اختلاف ہو تو پہلے آپسی مفاہمت کے ذریعہ مسئلہ کو حل کیا جائے، اگر آپسی گفت و شنید کافی نہ ہو پائے تو خاندان اور سماج کے بزرگ حضرات کے ذریعہ مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی جائے، اگر اس سے بھی کام نہ چلے تو پھر پاکی کی حالت میں لفظ طلاق کے ذریعہ ایک طلاق دی جائے، حالت حیض میں طلاق دینا جائز نہیں ہے، اسی طرح ایسی پاکی میں بھی طلاق دینا جائز نہیں ہے، جس میں بیوی سے صحبت کر چکا ہو، ان دونوں باتوں کا لحاظ کرتے ہوئے ایک دفعہ طلاق دے، طلاق کے بعد عدت واجب ہوتی ہے، جو حاملہ عورتوں کے لئے بچہ کی ولادت ہے اور غیر حاملہ خواتین کے لئے تین حیض ہے، اگر عدت کے درمیان اپنے عمل پر پچھتاوا ہو اور سوچ میں بدلاؤ آئے، یا بیوی کے جس رویہ کی وجہ سے طلاق دینا چاہتا تھا، اس میں تبدیلی کے آثار ظاہر ہوں، تو ابھی گنجائش ہے کہ بیوی کو لوٹالے، لوٹانے کے لئے زبان سے کہہ دینا کافی ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو لوٹایا، ایسی صورت میں رشتۂ نکاح باقی رہے گا، اور دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، اگر اس کے بعد بھی تعلقات میں استواری نہیں آئی تو پھر آپس میں مفاہمت یا دیگر سمجھ دار لوگوں کے ذریعہ مصالحت کی کوشش کی جائے، پھر بھی بات نہ بن سکے تو ایسی پاکی کی حالت میں — جس میں صحبت کی نوبت نہیں آئی ہو — دوسری طلاق دی جائے، ایک طلاق دی جائے یا دو طلاق، دونوں کا حکم ایک ہی ہے، عدت کے اندر بیوی کو لوٹا سکتا ہے، اور عدت گزرنے کے بعد ہر دو صورت میں رشتۂ نکاح ختم ہو جائے گا، عورت بائنہ ہو جائے گی؛ البتہ یہ گنجائش باقی رہے گی کہ عدت کے اندر یا عدت کے بعد آپسی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرلے، پہلی صورت طلاق احسن کی ہے اور دوسری صورت طلاق حسن میں شامل ہے۔

 اور اگر چاہتے ہیں کہ واپس لوٹانے کی گنجائش نہ رہے، رشتۂ نکاح مکمل طور پر ختم ہو جائے، تو اس کے لئے بھی تین طلاق دینے کی ضرورت نہیں، یا تو لفظ طلاق کے ذریعہ طلاق دے اور عدت گزر جانے دے، یا ایک طلاق بائن دے دے، رشتہ مکمل طور پر ختم ہو جائے گا، رشتہ کو ختم کرنے کے لئے تین طلاق دینا ضروری نہیں ہے، اگر ایک طلاق دی، کچھ عرصہ کے بعد دوسری طلاق دی اور یہ طلاق دینا بیوی کی غلطی کی بنیاد پر ہو اور وہ اپنے اندر تبدیلی لانے کے لئے تیار نہ ہو تو اس صورت میں خوب سوچ سمجھ کر آخری چارۂ کار کے طور پر تیسری طلاق دی جا سکتی ہے، طلاق دینے کا یہ بہتر طریقہ ہے، جمعہ کے بیانات، سیرت اور اصلاح معاشرہ کے جلسوں اور دوسرے دینی پروگراموں میں اس بات کو وضاحت سے بیان کرنا چاہئے؛ تاکہ ایک ایک آدمی تک یہ بات پہنچ جائے؛ کیوں کہ زیادہ تر لوگ ناواقفیت کی وجہ سے اس طرح طلاق دیتے ہیں، اور بعد میں پچھتاتے ہیں، جس کے تدارک کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔

۲ – یہ تو تین طلاق کے واقعات کو روکنے کی تدبیر ہے، خود طلاق کے واقعات کو کم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ رشتے طے کرنے میں سرپرست کا مشورہ اور اس سے بڑھ کر عاقدین کی رضامندی کو اہمیت دی جائے، جب تک لڑکے اور لڑکیاں نابالغ ہوں، اس وقت تک تو تعلیم و تربیت کے علاوہ دیگر معاملاتِ زندگی میں بھی گارجین اہم کردار ادا کرتے ہیں، معاملہ خریدوفروخت کا ہو یا ہبہ کا، یا بچوں کی تعلیم و تربیت کا، ان سب کو طے کرنا گارجین کا حق بھی ہے اور اس کی ذمہ داری بھی؛ لیکن جب یہ بالغ ہو جائیں تو گارجین کا رول مشورہ تک محدود ہو جاتا ہے، بعض مخصوص صورتوں کے سوا باپ، دادا اولاد پر اپنا فیصلہ تھوپ نہیں سکتے ؛ لیکن کوئی تجربہ کار شخص اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ نوجوانوں کاجوش وخروش بڑوں کی رہنمائی کے بغیر اپنا سفر طئے کرے تو اکثر ناکامی ہی حصہ میں آتی ہے، خاص کر نکاح کے معاملہ میں عموماََ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شکل و صورت سے متأثر ہوتے ہیں، تعلیمی اداروں اور ملازمت گاہوں میں پروان چڑھنے والی دوستی کو دوسرے فریق کے خاندانی پس منظر اور اس کے مزاج کو سمجھے بغیر شادی میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، تجربہ ہے کہ یہ شادیاں پچانوے فیصد سے بھی زیادہ ناکام و نامراد ثابت ہوتی ہیں؛ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت تاکید کے ساتھ یہ بات فرمائی کہ رشتۂ نکاح میں ولی کے کردار کو قبول کیا جائے، اور فرمایا کہ ولی کو شامل کئے بغیر نکاح نہیں کرنا چاہئے: لا نکاح إلا بولي ( ترمذی عن ابی موسیٰ، حدیث نمبر: ۱۱۰۱) قرآن مجید میں بھی اس کا اشارہ فرمایا گیا ہے؛ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اولیاء کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے زیر ولایت لڑکوں اور لڑکیوں کا نکاح کریں اور اس ذمہ داری سے غافل نہ ہوں: وأنکحوا الأیامیٰ منکم والصالحین من عبادکم وإمائکم (نور: ۳۲) ؛ اس لئے نوجوانوں کو چاہئے کہ رشتۂ نکاح طے کرنے میں اپنے بزرگوں کی رائے کو اہمیت دیں؛ کیوں کہ شکل و صورت کی کشش تو چند سال انسان کو متأثر کرتی ہے؛ لیکن اخلاق کی مٹھاس، مزاج کی ہم آہنگی اور دونوں خاندانوں کی روایات میں توافق ایسی چیزیں ہیں، جو تا عمر زندگی کو خوش گوار بنا کر رکھتی ہیں۔

 میرا ایک ذاتی تجربہ ہے کہ ایک جوڑا جو امریکہ میں مقیم تھا اور جس کے دو بچے بھی تھے، کا ازدواجی مسئلہ میرے سامنے آیا، شوہر و بیوی دونوں ہی بہت ہی خوش شکل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے؛ لیکن شوہر طلاق دینے پر مُصر تھا، میں نے طلاق کو روکنے کے لئے اس کو کئی پہلوؤں سے سمجھایا اور اخیر میں ایک بات یہ بھی کہی کہ تم جس عمر میں ہو، اس میں طبعی طور پر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی شریک حیات شکل و صورت میں ممتاز ہو، تمہاری بیوی اس معیار کو پورا کرتی ہے، اگر تم نے طلاق دے دی اور دوسرا نکاح کیا تو نہ معلوم تم کو ایسی بیوی ملے یا نہیں؟ اس نے برجستہ کہا کہ خوبصورت تو سانپ بھی ہوتا ہے تو کیا میں اس کو گلے کا ہار بنا لوں؟ اس سے وہ لوگ سبق حاصل کرسکتے ہیں، جو صر ف حسن و جمال اور مال و زر پر ریجھنے لگتے ہیں اور اسی کی وجہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں؛ اس لئے شروع سے نوجوانوں کی ایسی تربیت کرنی چاہئے کہ ان کے اندر رشتۂ نکاح کے سلسلہ میں اپنے بڑوں کی بات ماننے کا جذبہ پیدا ہو، جب بچوں میں یہ جذبہ پیدا نہیں کیا جاتا، تو اسی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ مسلمان لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے گھر چلی جاتی ہیں، اور مسلمان لڑکے غیر مسلم لڑکیوں کو اپنے گھر لے آتے ہیں۔

یہ ایک پہلو ہے، دوسرا پہلو یہ ہے کہ ولی کی اہمیت کے باوجود جب لڑکے اور لڑکیاں بالغ ہو جائیں تو رشتۂ نکاح کے معاملے میں شرعاً ان ہی کی رائے کو ترجیح حاصل ہے؛ اسی لئے قرآن مجید نے خود عاقدین کی طرف نکاح کی نسبت کی ہے، مرد ہوں یا عورت، جیسے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: جب مطلقہ عورتوں کی عدت گزر جائے اور وہ اپنی رضامندی سے نکاح کرنا چاہیں تو تم کو حق نہیں ہے کہ ان کو روکو: فلا تعضلوھن أن ینکحن أزواجھن اذا تراضوا بینھم (بقرہ: ۲۳۲) اور آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اپنا نکاح کرنے کے سلسلے میں عورت بمقابلہ اپنے ولی کے زیادہ بااختیار ہے: الأیم أحق بنفسھا من ولیّھا (مسلم، حدیث نمبر: ۱۴۲۱) چوں کہ تقاضۂ حیا کے تحت عورتیں خود اپنے نکاح کے بارے میں بات نہیں کرتی ہیں؛ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی کہ لڑکی سے اجازت لی جائے، اگر وہ خاموش رہے تو عرف کی بناء پر اسے اس کی اجازت سمجھا جائے اور ولی کے لئے درست ہے کہ وہ اس سے نکاح کر دے، اور اگر اس نے اس رشتے سے انکار کر دیااور اس پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تو وہ رشتہ کرنا قطعاً جائز نہیں اور اظہار ناراضگی کے باوجود ولی نکاح کر دے، تو نکاح منعقد نہیں ہوگا (ابوداؤد، حدیث نمبر: ۳۲۷۰) 

آج کل اس معاملہ میں افراط وتفریط ہے، ایک طرف نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں ولی کو اعتماد میں لئے بغیر خود اپنا نکاح کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جو اکثر ناخوشگواری کے ساتھ طلاق یا خلع پر ختم ہوتا ہے، دوسری طرف بعض سرپرست بھی بہت ہی ناسمجھی سے کام لیتے ہیں، پیسوں کی لالچ اور رشتہ داری اور دوستی کے لحاظ میں لڑکے یا لڑکی کو مجبور کرتے ہیں اور ان کی پسند کے بغیر شادی کر دی جاتی ہے، یہ رشتہ بھی بہت سی دفعہ ناپائیدار ثابت ہوتا ہے، اور رشتہ باقی بھی رہے تو زوجین کے لئے سکون کی بجائے تناؤ کا باعث بن جاتا ہے، اگر نکاح میں عاقدین کی رضامندی شامل رہی ہو اور بعد کو کچھ اونچ نیچ پیدا ہوئی تو عاقدین یہ سمجھ کر اسے قبول کر لیتے ہیں کہ اس میں ہماری رضامندی شامل تھی؛ لیکن جب ان کی ناراضگی کے باوجود کوئی رشتہ ان کے سرپر تھوپا گیا ہو تو ان میں جذبۂ بغاوت پیدا ہوتا ہے، دوسرے فریق کے ساتھ ان کا رویہ خراب ہو جاتا ہے اور اپنے گارجین سے بھی ان کو نفرت پیدا ہو جاتی ہے؛ اس لئے طلاق کے واقعات کو روکنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ عاقدین گارجین کی رائے کو اہمیت دیں اور سرپرست اپنا فیصلہ عاقدین پر تھوپنے سے بچیں، صرف مشورہ دیں، سمجھانے اور نفع ونقصان بتانے پر اکتفاء کریں؛ لیکن عاقدین ہی کی رائے کو آخری رائے سمجھیں، اس طرح طلاق کے واقعات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

(جاری)

SHARE
جناب ظفر صدیقی ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر اور ملت ٹائمز گروپ کے بانی رکن ہیں