رضالائبریری میں اسٹاف کی جانچ پر زبردست ہنگامہ ، ملازمین میں آپس میں چلے جوتے !




تمام خدمات متاثر ، ڈائریکٹر نے بتایا سب بے بنیاد ، سیکورٹی انچارج کی ہائی کمان سے شکایت
رام پور: (صدام حسین فیضی) وزارت ثقافت ہند کا معروف ادبی و علمی ادارہ رام پور رضالائبریری میں صبح 9 بجے سے شروع ہونے والا زبردست ہنگامہ شام تک بھی نہیں نمٹ سکا۔ تمام تعلیمی و ادبی خدمات مکمل وقت تک معلق رہیں۔ رضالائبریری رام پورکے قیام کے بعد پہلی مرتبہ طول پکڑنے والا ہنگامہ اس وقت مزیدشدت اختیارکرگیاجب حفاظت کیلئے لگائی گئی سی آئی ایس ایف کے نوجوانوں نے سینئرایڈمنسٹر یٹوآفیسرارون کمارسکسینہ کوروک کران کا آئی ڈی کارڈچیک کرنے کی بات کہی اور یہاں موجود لیڈی اسٹاف کے ساتھ نوجوا نوں نے چیکنگ کے نام پراس سے بداخلاقی کرتے ہوئے ساز وسامان چیک کرلیا۔ اسی تنازع کے بیچ رضالائبریری کے ایک ملازم فہیم خاں نے فیصل خاں اور ہمانشوسنگھ کے بیچ چلنے والی لڑائی ،زبان درازی اورگالم گلوج کے درمیان جوتا اٹھالیا۔ رضالائبریری رام پورکے تمام اسٹاف ارون کمارسکسینہ کی قیادت میںاحتجاج پرآمادہ ہوگیاجبکہ طارق اظہراورہمانشوسنگھ نے لائبریری کے وقارکے مجروح ہونے کی بات کہتے ہوئے ہنگامہ رفع کرنے کی بات کہی تواس پربھی مزیدہنگامہ برپاہوگیا۔ ارون کمارسکسینہ کاکہناتھاکہ تحفظ کے نام پرلائبریری میں لگائی گئی سی آئی ایس ایف کاانچارج وشال کماراسٹاف سے ہمیشہ بداخلاقی وبدکرداری کارویہ اختیارکررہاہے۔ منع کئے جانے پرکوئی بات مانے کوراضی نہیں ہے۔کارڈچیکنگ کے نام پرجواستحصال کیاجارہاہے وہ قابل برداشت نہیں ہے۔ کیونکہ لائبریری ایک علمی ادارہ ہے اورعلمی ادارہ میں اس طرح کی بیہودہ گوئی اچھی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب تک سی آئی ایس ایف کے نوجوان اپنے گلوں میں آئی ڈی کارڈ نہیں ڈالیں گے کوئی بھی ملازم اپنی جانچ نہیںکرائے گااورنہ بات سنے گا۔سوال کیاہے کہ آتنک وادی حملے کے تحفظ کی طرح لائبریری کے گیٹ پر6پولیس اہلکاروںکوگولی چلانے کیلئے کیا کھڑاکیاگیاہے۔ سی آئی ایس ایف ہمارے لئے ہے ہم سی آئی ایس ایف کیلئے نہیں ہیں۔ کہا ڈائریکٹرنے ہمیں اپنی بات ہائی کمان تک پہنچانے کاحکم دے دیاہے۔ہمیں دیکھ کرلائبریری میں تالا لگایا گیا۔منمانی نہیں چلے گا۔ کہاکہ کیالائبریری میں آتنک وادی ہیں جو لائبریری میں ملازمین کو دیکھ کر تالا لگایا جارہا ہے۔ نیز ایکسپائر تاریخوں کے کارڈ والوں کو کیوں چھوڑا گیا؟ سی آئی ایس ایف انچارج وشال کمار کا کہنا ہے کہ ہرملازم کے پاس آئی ڈی کارڈ ضروری ہے۔ متواترسبھی کوآئی ڈی لانے کیلئے بولا جارہا ہے لیکن یہ لوگ آئی ڈی کارڈ نہیں پہن رہے ہیں۔ 15اگست کو لیکربھی ہائی الرٹ جاری ہے، لوگوں کوسمجھایاجائے جن کے پاس کارڈ نہیں تھا انہیں روکا گیا، چیکنگ ہرجگہ ہوتی ہے۔لیڈیزکے ساتھ ہونے والی بدتمیزی کے بارے میں سب غلط بات ہے ۔ لائبریری میںجوبھی آئے گاوہ فلٹرہوکرہی جائے گا۔ڈائریکٹررضالائبریری پروفیسرحسن عباس کاکہناہے کہ کوئی تنازع نہیں ہے۔ تمام لائبریری کے ملازمین کوآئی کارڈ دیا گیاہے۔ وہ پہن کرآتے ہیں اگرکسی کے پاس نہیں رہا ہوگا توسی آئی ایس ایف نے انہیںگیٹ پر روکا ہو گاتواس میںتنازع کی کوئی بات نہیں ہے۔ ان کاکہناہے کہ ہم سب کے ساتھ ہیں۔ دوسری جانب دوپہر بعد گورنر اترپردیش آنندی بین پٹیل سمیت تمام دیگراعلیٰ عہدیداروں سے اس پورے واقعہ کی شکایت کی گئی ہے۔ کہاہے کہ کوئی نوٹس نہیں دیا گیا تھا مگرپھربھی چیکنگ کے نام پراستحصال بدستورجاری ہے۔ سی آئی ایس ایف کاانچارج اسٹاف کوبے شرم کرکہہ مخاطب کررہے ہیں۔ ملازمین جب تک کام نہیں کریں گے جب تک سی آئی ایس ایف ان سے معافی نہیں مانگے گی۔ مظاہرین میں اصباح خاں ، مرزا راشدحسین، احداللہ خاں، فیصل خاں،اوم پرکاش، موہنی رانی،بلقیس فاروقی، شاذیہ حسن، ضہیب علی خاں، شہامت علی، رمیش کمار، شبانہ افسر ، مختارعلی، فہیم خاں، ہدایت اللہ، ناظمہ بی، ارشاد ندوی، ساجدہ شیروانی، پریتی اگروال، مشکور احمد، نظیرالظفر، کمال خاں، ساجدہ شیروانی موجود رہیں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *