یوم آزادی پر شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی کا مسلمانان ہند کے نام پیغام
بنگلور: (محمد فرقان) جشن یوم آزادی کے موقع پر نزد مسجد عمر فاروقؓ، ڈی جے ہلی، بنگلور میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی۔ممتاز عالم دین، شیر کرناٹک، شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے ترنگا لہرایا اور شرکاء محفل سے مختصر، جامع اور ولولہ انگیز خطاب کیا۔ شاہ ملت نے فرمایا کہ جو قوم اپنے آبا و اجداد کی تاریخ بھول جاتی ہے اسکا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ آج 73/ویں یوم آزادی کا جشن منایا جارہا ہے لیکن کسی مسلمان کو اپنے آبا و اجداد کی تاریخ یاد نہیں۔آج جن مدارس عربیہ اور مسلمانوں پر دہشت گردی کا لیبل لگایا جارہا ہے۔ انہیں مدارس عربیہ اور مسلمانوں کی بدولت ہمارا ملک آزاد ہوا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ جو ناانصافی ہوئی ہے اسکے ذمہ دار ایک طرف جہاں اغیار ہیں تو دوسری طرف ہم خود مسلمان ہیں۔ جب ہماری تاریخ کو مٹایا جارہا تھا تو ہم تماشا دیکھتے رہے اور اپنی نسلوں کو کبھی حقیقت پر مبنی اپنی سنہری تاریخ سے واقف کرانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ آج ہر طرف یہ جھوٹی تاریخ پھیلا دی گئی ہے کہ آزادی کی جنگ 1857ء سے شروع ہوئی ہے جبکہ یہ سراسر تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے۔ دراصل آزادی کی جنگ 1757ء سے شروع ہوئی تھی اور نواب سراج الدولہؒ اور ٹیپو سلطان شہیدؒ جیسے بہادروں نے اس ملک کی آزادی کیلئے سب سے پہلی آواز بلند کی تھی۔ مولانا نے فرمایا کہ 1757ء سے لیکر 1857ء تک مسلمان تنہے تنہا انگریزی حکومت سے ہندوستان کی آزادی کیلئے جنگ لڑتے رہے۔ مولانا نے بتایا کہ برادران وطن کے دل و دماغ میں آزادی کا تو کوئی تصور ہی نہیں تھا وہ تو ہمارے اکابرین تھے جنہوں نے ان لوگوں کو آزادی کا درس دیا۔ مولانا نے فرمایا ہندوستان کی آزادی کیلئے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانیں آفرین کے حوالے کردیں۔ اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہندوستان کی آزادی مسلمانوں کی ہی مرہون منت ہے۔اگر مسلمان نہ ہوتا تو ہندوستان کبھی آزاد نہ ہوتا۔ مولانا شاہ قاسمی نے فرمایا کہ اغیار تو دور آج ہماری قوم کے سامنے جب آزادی کا ذکر ہوتا ہے تو گاندھی جی، جواہر لال نہرو، وغیرہ کا نام لیتے ہیں۔مولانا نے دوٹوک کہا کہ گاندھی جی تو آفریقہ میں زیر تعلیم تھے شیخ الاسلام حضرت حسین احمد مدنیؒ نے انہیں ہندوستان بلایا اور مولانا فرنگی محلیؒ نے انہیں ایک تقریب میں ”مہاتما“ کا لقب دیا، جواہر لال نہرو کی ٹوپی بھی مسلمانوں کی ہی دَین ہے۔شاہ ملت نے فرمایا کہ ہمارے اکابرین نے اس ملک کی آزادی کیلئے ہر طرح کی قربانی پیش کی دہلی کی چاندنی چوک سے لیکر شاملی کے میدان تک ہر درخت پر ہمارے آبا و اجداد کو پھانسی دیکر جام شہادت نوش کرنے پر مجبور کیا گیا۔1866ء میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد اسی ملک کی آزادی کیلئے رکھی گئی جہاں سے نہ جانے کتنے ہزار مجاہدین آزادی پیدا ہوئے۔ لیکن افسوس کہ آج جس قوم ِمسلم کی بدولت ہندوستان کو آزادی ملی انہیں پر دہشت گردی اور ملک غداری کا لیبل لگایا جارہا ہے۔مولانا قاسمی نے کہا کہ آج ضرورت ہیکہ ہم اپنی نسلوں کو اپنی تاریخ یاد دلائیں کیونکہ جو قوم اپنی تاریخ ماضی فراموش کردیتی ہے اسکا وجود ختم ہوجاتا ہے۔ مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے اس 73/ویں یوم آزادی کے موقع پر تمام اہل وطن کو مبارکبادی پیش کی اور انہیں کی دعا سے جشن آزادی کی پر وقار تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

Leave a Reply