نئی دہلی: (ملت ٹائمز) تین طلاق قانون منظور ہوجانے کے بعد اب بی جے پی حلالہ پر قانون لانے کا منصوبہ بنارہی ہے ۔ اس منصوبہ کے تحت بی جے پی کی مسلم خواتین اراکین نے مہم شروع کردی ہے اور تین طلاق کے بعد حلالہ کے مسئلہ پر بھی قانون لانے کیلئے تحریک زور پکڑ رہی ہے ۔
اسی سلسلے میں گذشتہ دنوں مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد سے بی جے پی لیڈر ایڈوکیٹ نازیہ الہی خان نے ملاقات کی۔ پہلے انہوں نے روی شنکر پرساد کا تین طلاق کے خلا ف قانون بنانے کیلئے شکریہ ادا کیا اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ سرکار حلالہ کے خلاف بھی قانون بنائے ۔ نازیہ الہی خان نے وزیر قانون روی شنکر پرساد سے بتایاکہ مسلم سماج میں تین طلاق کی طرح حلالہ بھی ایک لعنت اور گناہ ہے جس سے مسلم خواتین کو دوچار ہونا پڑتاہے ۔ یہ عمل سراسر غیر اسلامی اور شریعت کے خلاف ہے لیکن کچھ لوگوں نے حلالہ کو شریعت سے جوڑ کر مسلم سماج میں گمراہی پھیلارکھی ہے جس کی شکار مسلم خواتین کو ہوناپڑتاہے ۔ مسلم خواتین کے ساتھ حلالہ زیادتی اور ظلم ہے ۔ بی جے پی سرکار سے مسلم خواتین کا مطالبہ ہے کہ جس طرح اس تے تین طلاق کے خلاف قانون بناکر جرات مندی کا کام کیاہے اس طرح حلالہ پر بھی قانون بنائے اور اس کو مکمل طور پر بین کرے ۔ حلالہ کے نام پر دکان چلانے والوں کے خلاف ایکشن لے ۔ عورتوں کے ساتھ یہ بہت زیادتی اور شرمناک عمل ہے ۔
ایڈوکیٹ نازیہ الہی خان بنگال بی جے پی اقلیتی مورچہ میں اہم ذمہ داری سنبھالتی ہیں اور ترجمان بھی ہیں ۔ تین طلاق کے خلاف شروع سے نازیہ الہی خان مہم چلاتی رہی ہیں۔ مبینہ تین طلاق کی متاثرہ عشرت جہاں کی وکیل بھی نازیہ الہی خان رہی ہے اور وہی اسے سپریم کورٹ لیکر گئی تھی ۔نازیہ الہی خان نے ملت ٹائمز سے بتایاکہ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے انہیں تسلی دلائی ہے اور کہاہے کہ ان کی سرکار بہت اس بارے میں بھی کوئی فیصلہ لے گی ۔
واضح رہے کہ حلالہ ایک غیر شرعی اور غیر اسلامی عمل ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی اسے حرام قرار دے رکھاہے ۔ تاہم کچھ علماءحلالہ کے جواز کے بھی قائل ہیں ۔ ماہرین کا ماننایہی ہے کہ قرآن میں جس حلالہ کا تذکرہ ہے وہ اتفاقی عمل ہے کہ کسی خاتون کو اس کے شوہر نے تین طلاق دے دیا ،اس نے دوسرے مرد سے شادی کرلی ،اتفاق سے دوسرے شوہر نے بھی اسے تین طلاق دے دیا تو اب پہلے والے شوہر سے اس کا نکاح جائز ہے ۔ تاہم موجودہ دور میں جان بوجھ کر تین طلاق دینے کے بعد کچھ شوہر اپنی بیوی کی دوسرے مرد سے شادی کراتے ہیں ، جماع کرنے پر مجبور کرتے ہیں پھر طلاق کرواکر خود شادی کرتے ہیں ،اس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ایک حرام عمل ہے ۔

Leave a Reply