دہلی: سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر کے جنوبی ضلع اننت ناگ کے رہنے والے ایک قانون کے طالب علم کو والدین کے ساتھ ملاقات کیلئے کشمیر جانے کی اجازت دی ہے اور پولیس کو انہیں تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں زیر تعلیم محمد علیم سید نے عدالت عظمیٰ میں ایک عرضی دائر کی تھی جس میں کہا گیا کہ انہیں 4 اگست سے انکے والدین کے بارے میں کوئی علمیت نہیں ہے ۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انکے والدین کو حکام نے نظر بند کر رکھا ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے 5 اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کئے جانے اور ریاست میں کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں بانٹنے کے فیصلے کے بعد کشمیر میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ حکام نے مواصلاتی نظام پر پابندی عائد کی ہے اور عام لوگوں کو فون اور انٹرنیٹ تک رسائی نہیں دی جارہی ہے۔
سرینگر کے بعض علاقوں میں لینڈ لائن فون بحال کئے گئے ہیں جبکہ متعدد سرکاری اہلکاروں کے موبائل فون چل رہے ہیں۔عدالت عظمیٰ نے طالب علم کو والدین سے ملاقات کے بعد عدالت میں بیان حلفی دائر کرنے کی ہدایت دی ہے جبکہ پولیس سے کہا گیا ہے کہ وہ اس طالبعلم کے گھر تک کے سفر کو آسان بنانے کے اقدامات اٹھائے۔
عدالت عظمیٰ کے بینچ نے سماعت کے دوران سینئر جج سنجے ہیگڈے کو بتایا کہ اگر مذکورہ طالبعلم جمعرات کو اننت ناگ جانے کی خواہش رکھتے ہیں تو عدالت اس سلسلے میں ایک گھنٹے کے اندر حکمنامہ جاری کرے گی۔
سید نے اپنے وکیل مرگانک پربھاکر کے ذریعے دائر کی گئی عرضداشت میں کہا تھا کہ وہ جموں و کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے پشتنی باشندے ہیں اور انہیں 4 اور ۵ اگست سے اپنے والدین کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔انہوں نے اپنے عرضداشت میں خدشہ ظاہر کیا کہ انکے والدین حراست میں لئے گئے ہیں اور انٹرنیٹ اور فون خدمات پر پابندی کے نتیجے میں والدین کے ساتھ کوئی رابطہ قائم نہیں کرپارہے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ عام لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی اور اطلاعات کی عدم فراہمی جیسے حکومتی اقدامات، آئین کے تحت فراہم کی گئی شہری آزادی کے منافی ہیں۔

Leave a Reply