سیتارام یچوری نے کشمیر کے حالات پر اٹھائے سوالات، زمینی حقائق اور حکومت کے دعوؤں میں بہت فرق ہے




سری نگر: (ملت ٹائمز) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم) کے قومی جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے وادی کشمیر کی صورتحال پر کہا کہ ‘مرکزی حکومت اور گورنر انتظامیہ کے دعوؤں اور کشمیر کی زمینی صورتحال میں بہت فرق ہے۔’

سیتارام یچوری نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر گذشتہ روز سرینگر کا دورہ کیا اور وہاں نظر بند کیے گئے سابق رکن اسمبلی اور پارٹی کے رہنما محمد یوسف تاریگامی سے ملاقات کرکے ان کا حال احوال پوچھا۔سیتارام یچوری نے دہلی ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمیں گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرایا گیا جہاں ہمیں کسی سے ملنے نہیں دیا گیا اور نہ ہی کسی کو ہم سے ملنے دیا گیا۔ ‘یچوری نے محمد یوسف تاریگامی کی صحت سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ‘ان کو گھر میں نظر بند رکھا گیا ہے اور آج صبح ڈاکٹر کو بلایا گیا جنہوں نے تاریگامی کی طبیعت کی جانچ کی۔ ‘انہوں نے کہا کہ ‘جو بھی ڈاکٹر نے ان کی صحت کے بارے میں کہا وہ ہم سپریم کورٹ میں کل پیش کریں گے۔ ‘قبل ازیں یچوری کو دو بار انتظامیہ نے سرینگر ہوائی اڈے

یوسف تاریگامی سے سیتارام یچوری ملاقات کرتے ہوئے

سے واپس بھیج دیا تھا اور اس بار وہ سپریم کورٹ کے حکم پر سرینگر گئے تھے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ ان کے کشمیر جانے سے جموں و کشمیر کی صورتحال مزید خراب ہوگی۔ دورہ کشمیر پر یچوری کے تاثرات سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یچوری جمعرات کی صبح سرینگر بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچے اور سیدھے تاریگامی سے ملنے چلے گئے۔ انہوں نے کسی بھی صحافی سے بات چیت نہیں کی اور نہ ہی سرینگر میں کوئی بیان دیا۔ یچوری نے پہلے سرینگر جانے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں سرینگر ہوائی اڈے سے واپس بھیج دیا گیا تھا، اس کے بعد وہ کانگریس قائد راہل گاندھی کی سربراہی میں کل جماعتی وفد کے ساتھ سرینگر آئے تھے لیکن انہیں پھر باہر جانے سے روک دیا گیا اور وفد کے تمام لوگ ہوائی اڈہ سے واپس دہلی بھیج دئے گئے تھے۔ اس کے بعد وہ سپریم کورٹ گئے جہاں سے انہیں سرینگر جانے اور تاریگامی سے ملنے کی اجازت ملی۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *