آسام کے 19 لاکھ لوگ جن کا نام این آر سی فہرست میں نہیں آسکا ان کے پاس شہریت ثابت کرنے کیلئے یہ متبادل

آسام میں این آر سی کی فائنل لسٹ میں جن کے نام شامل ہیں وہ اب ملک کے شہری مانیں جائیں گے اور جن افراد کے نام اس لسٹ میں نہیں ہیں ان کا ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا ہے
گوہاٹی (ایم این این )
آسام میں گزشتہ دس سال سے جاری این آر سی (شہریوں کا قومی رجسٹریشن) کا عمل آج اختتام پذیر ہو گیا۔ این آر سی کے کنوینر پرتیک ہزیلا نے بتایا کہ حتمی این آر سی میں تین کروڑ گیارہ لاکھ لوگوں کے نام شامل کیے گئے ہیں جبکہ قریب 19 لاکھ لوگ اس میں اپنے لئے جگہ نہیں حاصل کر پائے ہیں۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنا نام رجسٹر کرانے کے لئے کوئی دعویٰ بھی نہیں کیا ہے۔
آسام میں این آر سی کی فائنل لسٹ میں جن کے نام شامل ہیں وہ اب ملک کے شہری مانیں جائیں گے اور جن افراد کے نام اس لسٹ میں نہیں ہیں ان کا ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا ہے، ان کے پاس اپیل کرنے کے علاوہ کئی متبادل موجود ہیں۔ جن افراد کے نام لسٹ سے باہر رہ گئے ہیں ان کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ابھی چار ماہ تک وہ اپنے دستاویزات فارن ٹریبیونل میں پیش کر سکتے ہیں۔ فارن ٹریبیونل ان کے کاغذات کی جانچ کر کے ہی ان کی شہریت کے تعلق سے فیصلہ لے گا۔
واضح رہے فارن ٹریبیونل کے فیصلہ کے بعد بھی متاثر افراد ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں اور اگر ہائی کورٹ سے بھی انہیں انصاف نہیں ملتا ہے تو وہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ اس بات کے بہت امکان ہیں کہ ان 19 لاکھ افراد میں سے ایک بڑی تعداد کو لسٹ میں شامل کر لیا جائے تاکہ وہ ہندوستانی شہریت حاصل کر سکیں۔ پچھلی لسٹ میں 41 لاکھ افراد این آر سی کی لسٹ میں شامل نہیں تھے لیکن ان میں سے تقریباً 22 لاکھ افراد کا نام اب این آر سی میں شامل ہو گیا ہے۔ آسام کے سابق وزیر اعلی ترون گگوئی نے بھی ٹوئٹ کے ذریعہ کہا ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کریں گے جن کا نام این آر سی کی فہرست میں نہیں ہے، انہوں نے اپیل کی ہے کہ اس معاملہ سے سیاست کو دور رکھا جائے۔