جمعیۃ علماء سکرہنا ڈھاکہ کے زیر اہتمام ’’ یوم عاشورہ اور اس کی رسومات ،، کے عنوان سے علاقہ کی مشہور بستیوں میں دس روزہ اصلاحی اجلاس کا انعقاد
موتیہاری: ( فضل المبین ) جمعیۃ علماء سکرہنا ڈھاکہ ( مشرقی چمپارن ) کے زیر اہتمام ’’ یوم عاشورہ اور اس کی رسومات ،، کے عنوان سے علاقہ کی مشہور بستیوں میں دس روزہ اصلاحی اجلاس کا انعقاد کیا جارہا ہے ۔ اسی مناسبت سے گزشتہ شب یعنی یکم ستمبر بروز اتوار کو علاقہ کی مشہور بستی بہلول پور میں پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔ جس میں علاقہ کے علماء ، سماجی کارکنان و دانشوران سمیت کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔
اس موقع پر اجلاس کے مہمان خصوصی ، معہد الدراسات العلیا ہارون نگر پٹنہ کے صدر مفتی و دارالعلوم الاسلامیہ مجھولیا کے سیکریٹری مولانا مفتی محمد جنید عالم ندوی قاسمی نے مذکورہ عنوان سے تفصیلی خطاب فرمایا ۔ اپنے خطاب کے درمیان جہاں انہوں نے برے اعمال کرنے والوں کے لئے جہنم کی ہولناکیاں سے گوش گزار کرایا وہیں دوسری طرف اللہ کے نیک بندوں کے لیے ان کی جانب سے عطا ہونے والا جنت کی نعمتوں سے بھی واقف کرایا ۔ اپنے جاری خطاب میں انہوں نے فرمایا کہ: اسلامی سال کا پہلا مہینہ جسے محرم الحرام کہا جاتا ہے اپنے گوناگوں پیچ و خم، عشق و وفا، ایثار و قربانی اور بے شمار فضیلت مرتبت کی دولتِ بے بہا سے معمور و سربلند ہے۔ ماہ محرم ایک مقدس اور مبارک مہینہ ہے، اس کی دسویں تاریخ ابتدائے آفرینش سے ہی بڑی قدر و منزلت اور غیر معمولی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ اس تاریخ کو بہت سے انبیاء کرام کی توبہ قبول ہوئی، بہتوں کی دعائیں مقبول ہوئیں، اور رب العالمین کی طرف سے بہت سے فیصلے صادر ہوئے ، ماہ محرم اور اس کی دسویں تاریخ کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی احادیث وارد ہیں، ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودیوں بنسبت عاشورہ کے روزہ کے زیادہ حقدار ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے کی تاکید فرمائی۔ اور یہودیوں سے مشابہت نہ رہے اس لیے انہوں نے نے ایک دن زیادہ روزہ رہنے کا حکم دیا ۔
اپنے جاری بیان میں فرمایا کہ: عاشورہ کے دن سخاوت کرنا یعنی غریب پروری کرنا، اپنے گھر کے دسترخوان کو وسیع کرنا، گھر والوں پر خرچ کرنا رزق کے اندر وسعت و فراخی کا باعث بنتا ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: بے حد افسوس ہے کہ آج مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اپنے اسلامی سال کا آغاز برے عقائد ، سبائی تحریک کی منظم کردہ داستانِ کربلا اور ایسی گھناؤنی حرکات کے ذریعہ کرتا ہے جنہیں اسلام دشمنوں نے ناخواندہ اور جاہل عوام کے لئے مزین کررکھا ہے جسے ہم اپنے باپ دادا کی سنت سمجھ کر کرتے آرہے ہیں ۔ اسی طرح اسلام نے میت پر سوگ کے لئے ایک حد مقرر کررکھی ہے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
”جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لئے جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر عورت اپنے شوہر کے انتقال پر چار مہینے اور دس دن سوگ کرے ،،
کہیں تعزیہ کہیں سیاہ جھنڈے تو کہیں حسین کے نام کی سبیلیں بنائی جاتی ہیں، کہیں نوحہ خوانی تو کہیں سینہ کوبی، کہیں یا علی کی صدا ہے تو کہیں یا حسین کی۔ الغرض بانس اور کاغذ کا ٹھاٹھ تقدس و عظمت کا محور بنا ہوا ہے ۔
جبکہ تعزیہ بنانا اور اس کے چکر لگانا یہ شرکیہ عمل ہے جسے اللہ کبھی معاف نہیں کرتا ۔
تاریخ کے مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ تعزیۂ حسین کی بدعت کا آغاز واقعہ کربلا کے تین سو سال بعد ١٨ ذی الحجہ ٣٥١ ہجری میں ہوا جس کی ابتدا ایک شیعہ امیر معز الدولہ نے حضرت عثمان کے کا یوم شہادت پر خوش ہوکر منایا تھا ۔ وہیں ہندوستان میں شیعہ بادشاہ تیمور لنگ کے زمانے میں ٨٠١ ہجری میں رائج ہوا ۔ جبکہ کہ آصف الدولہ نے ١٣١٣ ہجری میں امام باڑہ کی بنیاد سب سے پہلے لکھنؤ میں رکھا ۔
اخیر میں نوجوانوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ: جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ : لاٹھی ، ڈنڈے بھالہ ، تلوار کے ساتھ جلوس میں جانے سے ہمارا رعب غیروں پر طاری ہوتا ہے تو یہ محض حماقت کے سوا کچھ نہیں ہے کیونکہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کر کے ہم غیروں پر رعب نہیں ڈال سکتے ۔کیونکہ جلوس میں بہت سے لوگ تو نشہ کی حالت میں ہوتے ہیں اور اکثر و بیشتر سنت و شریعت کی دھجھیاں اڑا رہے ہوتے ہیں ۔
مذکورہ بالا اجلاس کی صدارت مولانا عبد السلام قاسمی نے کی جن کی دعاؤں پر اجلاس کا اختتام ہوا ۔ جبکہ موقع پر ڈھاکہ جامع مسجد کے امام و خطیب مولانا نذر المبین ندوی ، مولانا صدر عالم ندوی ، مولانا امان اللہ مظاہری ، مولانا بہاؤ الدین قاسمی ، مولانا عبد اللہ مظاہری ، مولانا جاوید مظاہری ، مفتی طارق انور قاسمی ، فضل حق ، حاجی اسید ، مولانا سعد قاسمی ، قاری فاروق احمد و غیرہ موجود تھے ۔
واضح ہو کہ : جمعیۃ علماء سکرہنا کے زیراہتمام ڈھاکہ علاقہ کی مشہور بستیوں میں دس روزہ اصلاحی پروگرام منعقد ہو رہے ہیں جس کی شروعات ڈھاکہ نگر پریشد کے ڈھاکہ لہن سے ہوئی تھی وہیں اس کا اختتام چریا بلاک کی مردم خیز بستی مادھوپور میں آئندہ جمعرات کو ہوگا ۔

Leave a Reply