ہندو راشٹرپر آر ایس ایس اپنانظریہ بدل سکتا ہے، سنگھ ہمارے ساتھ نرمی برتے گا تو ہم بھی نرمی برتیں گے، تین طلاق اور این آر سی پر کوئی بات نہیں ہوئی: مولانا ارشد مدنی




میٹنگ کا مقصد امن و امان لانے کے طریقوں پر غور کرنا تھا، آر ایس ایس جیسی مضبوط تنظیم کوئی اور ملک میں نہیں ہے، ملاقات کسی نتیجے پر پہنچے گی تو کمیونٹی کو آگاہ کروں گا، ہم آگے بھی ملیں گے: مولانا ارشد مدنی
نئی دہلی: (آر کے بیورو) جمعیۃ علماء ہند کے صدر اور بزرگ رہنما مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ انہیں امید ہے کہ آر ایس ایس ہندو راشٹر کے بنیادی نظریہ کو نظرانداز یا مسترد کرسکتا ہے۔ انگریزی نیوز پورٹل ’دی کوئنٹ‘ کودیوبند میں انٹریو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک کی معیشت پہلے ہی تباہ ہوچکی ہے یا تباہی کی طرف جارہی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس منظر نامہ میں کسی کی سوچ میں تبدیلی ہو جو کل تک تھی۔
گزشتہ دنوں مولانا ارشد مدنی اور سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کے درمیان ملاقات نے ملک میں ہلچل مچادی ہے ایسے وقت میں جب کہ فرقہ وارانہ منافرت اور پولرائزیشن عرج پر ہے یہ ملاقات کافی اہمیت رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ مولانا مدنی نے 2015 میں آر ایس ایس پر پابندی لگانے کامطالبہ کرتے ہوئے اسے فاشسٹ گروپ کہا تھا ۔ وہ مودی سرکار کے بھی نقاد رہے ہیں۔ دی کوئنٹ کے ساتھ انٹریو میں مولانا مدنی نے تفصیل کے ساتھ میٹنگ کے پس منظر سے آگاہ کیا اور اپنی توقعات بھی بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ درمیان میں کچھ لوگ تھے جنہوں نے پوچھا کہ میں بھاگوت سے ملنا چاہتا ہوں میں نے کہاکہ یہ خیال اچھا ہے ،میرے خیال میں یہ بہت مضبوط تنظیم ہے اور اس وقت ملک کے اندر اس جیسی کوئی دوسری نہیں۔وہ چاہتے تو میٹنگ کے بارے میں تردید کرسکتے تھے اس کے برعکس انہوں نے اشارہ کیا کہ ہم مستقبل میں رابطے میں رہیں گے اور بات چیت جاری رہے گی۔
اس سوال پر کہ آر ایس ایس کا بنیادی نظریہ ہے کہ یہ ہندو راشٹر ہونا چاہئے، بھاگوت نے کئی مرتبہ یہ بات کہی؟ آپ اس سے متفق ہیں۔ مولانا ارشد مدنی نے کہاکہ نہیں بالکل نہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ملک ایسا ہونا چاہئے جہاں ہر کسی کو اپنے مذہب کے دائرے میں مکمل آزادی ہو۔ میرے سامنے بھاگوت جی نے ایسا کچھ نہیں کہا کہ ملک کا سربراہ ہندو راشٹر چاہے گا، نہ ہی میٹنگ کے دوران ایسی کوئی بات آئی۔
دی کوئنٹ کے سوال پر کہ آر ایس ایس ہندو راشٹر کے اپنے کور ایشو اور آئیڈیا لوجی کو نظرانداز یا مسترد کرسکتا ہے؟ مولانا مدنی نے کہا کہ ہاں،یہ ممکن ہے ۔ وہ اس کے اہل ہیں۔ اس بات کاامکان مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ حالات کے تناظر میں کل کی جو سوچ ہے وہ آج بدل جائے،لیکن یہ تو ان کا بنیادی اعتقاد ہے ،مولانا مدنی نے اس سوال کے جواب میں کہاکہ نہیں میں نے اس بارے ان سے بات کی ہے۔ یہ معلوم کرنے پر کہ انہوں نے کیا کہا؟ میں نے ان کو توجہ دلائی کہ آر ایس ایس کے لوگ مسلمانوں اور سیکولرزم کے خلاف لکھتے ہیں ۔ موہن بھاگوت نے کہاکہ اب آر ایس ایس ان خیالات پر غور نہیں کرتا ۔ جمعیۃ کےصدر سے اس سوال پر کہ کیا آپ اب آرایس ایس پر اپنی تنقید میں نرمی لائیں گے؟ انہوں نے کہاکہ ہاں بالکل ضرور، اگر آر ایس ایس ہمارے ساتھ نرم ہوگا ہو ہم کیوں نہیں ہوں گے۔
مولانا مدنی سے دی کوئنٹ نے سوال کیاکہ کیا آپ نے لنچنگ کا مسئلہ اٹھایا؟ ہاں ، میں نے اس بارے میں بھی اچھی گفتگو کی ،لیکن اس گفتگو کے نتائج آنے والے چند ماہ میں سامنے آئیں گے۔ یہ کہنے پر کہ آپ جانتے ہیں کہ لنچنگ کے مقدمات میں ملوث ملزم دائیں بازو سے وابستہ تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ مولانا مدنی نے کہاکہ آئیے وقت کے ساتھ دیکھتے ہیں کہ کوئی بہتری آئے گی یا نہیں۔
تین طلاق ایکٹ اور این آر سی کے بارے میں خدشات کے حوالہ سے مولانا مدنی نے کہاکہ اس میٹنگ میں اس پر کوئی بات نہیں ہوئی ۔ دی کوئنٹ نے پوچھا کہ آپ تین طلاق ایکٹ پر تنقید کرتے ہیں اب یہ قانون بن گیا ہے اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟ انہوں نے کہاکہ میں چاہوں گا کہ اس پر مزید غور وخوض کیا جائے۔ ایکٹ کی کوتاہیوں کو دور کیا جائے۔ آپ کہتے ہیں کہ ہم ایک ساتھ تین طلاق پر اتفاق نہیں کرتے ،مگر ایک مانیں گے، اس پر راضی ہوسکتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ تین طلاق دینے والا کریمنل ہے ،ہم اس کو بھی مان سکتے ہیں، مگر جب آپ یہ کہتے ہیں کہ طلاق ،طلاق نہیں اس سے علیحدگی نہیں ہوتی ہم اسے منظور نہیں کرتےہیں۔ اس سوال پر کہ کیا آپ نے اسے میٹنگ میں اٹھایا ؟ انہوں نے کہاکہ نہیں ہم نے اسے عدالت میں پیش کیا ہے، اگر عدالت قبول کرتی ہے تو ہمارے وکیل لڑنے کو تیار ہے۔ مولانا مدنی نے کہاکہ انہوں نے این آر سی کے مسئلہ پر کوئی بات نہیں کی۔ میٹنگ کامقصد ملک میں امن وامان لانے کے طریقوں پر غور کرنا تھا۔ دی کوئنٹ نے معلوم کیا کہ آپ اپنے مریدوں کیا بتائیں گے، آگے کیا امید کی جانی چاہئے؟ مولانامدنی نے کہاکہ جب ہم مزید بات کریں گے اور کسی نتیجے پر پہنچیں گے تو اس بارے میں اپنے کمیونٹی کو آگاہ کروں گا اور بھاگوت بھی ایسا کریں گے۔
(بشکریہ روزنامہ خبریں)

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *