ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں پی یو سی ایل بہار کے زیر اہتمام منعقد سیمینار میں موجود دانشوروں نے کہا کہ ‘آئین اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے، دفعہ 370 کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اور اسے ختم کرنے کے بارے میں طرح طرح کا دلیلیں دی جا رہی ہیں۔’
سی پی آئی کے رہنما نیلیش نے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 370 کے خلاف ورزی آر ایس ایس کا پرانا ایجنڈا ہے۔ یہ لوگ دفعہ 371 کے بارے میں کچھ نہیں بول رہے ہیں جس کے تحت کچھ ریاستوں کو خصوصی درجہ دیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں بی جے پی کی حکومت اور نریندر مودی کچھ نہیں بول رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر ہی کیوں، کیونکہ کشمیر میں اکثریت میں مسلمان ہیں کشمیر سے دفعہ 370 کو ہٹا کر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دراڑ پیدا کر ملک میں نئے سرے سے بٹوارہ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے تحت عام عوام کے بیچ میں جو اتحاد ہے اسے ختم کرنے کی کوشش اور سیاست ہو رہی ہے حکومت ہزاروں ہزار بیروزگاروں کے بارے میں کچھ نہیں کہہ رہی ہے۔ ابھی 2018 میں کچھ اعدادوشمار آئے تھے جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ ایک کروڑ دس لاکھ لوگوں نے اپنی نوکری سے ہاتھ دھویا۔
پروفیسر محترمہ ڈیزی نارائن نے کہا کہ ہم شروع سے ہی آئین کو اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں اگر کوئی تبدیلی کرنی ہے تو آپ کو آئینی انتظامات کے تحت کرنی ہوگی۔ دفعہ 370 کیسے آیا اور کشمیر ہندوستان کے ساتھ ملنے کو کن شرائط پر تیار ہوا اس کا تاریخی پہلو جب تک نہ جانے گے تو لوگوں کو آسانی سے ورغلایا جاسکتا ہے۔
پروفیسر محترمہ ڈیزی نارائن نے کہا کہ دفعہ 370 کو جس طرح سے انہوں نے ختم کیا وہ حیرت انگیز ہے۔ پانچ تاریخ کی صبح میں بل پاس کیا گیا اور فورا اسے منظور بھی کر لیا گیا اس طرح سے جو آئینی کاروائی ہے اس پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ ہمارے ملک کے جو بھی سیاستداں وہاں بیٹھے ہیں ان لوگوں نے اس پر عمل نہیں کیا۔
یہ لوگ 370 کے پیچھے جو مثال پیش کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہاں پر جو مسلم آبادی ہے وہ ہمیشہ پاکستان کی ہمایتی بنی رہے گی۔ کبھی ہندوستان کی حمایت میں نہیں آ سکتی۔
انہوں نے کہا کہ کئی مثالیں ملتی ہیں جب بھی ہندوستان پاکستان کے درمیان جنگ ہوئی اس آبادی نے کبھی کسی طرح کا کوئی مسئلہ کھڑا نہیں کیا اور نہ ہی پاکستان کی حمایت کی۔
پروفیسر محترمہ ڈیزی نارائن نے کہا کہ وہاں علیحدگی کا ماحول بنتا ہے کیونکہ آپ نے وہاں شفاف طریقے سے انتخاب ہونے ہی نہیں دیا۔ سارے انتخاب میں بدنظمی ہوتی تھی کیونکہ آپ نے جس جگموہن کو جموں کشمیر میں بھیجا تھا، جو آپ ہی کے پارٹی کے نمائندہ تھے۔ انہوں نے جس طرح کی دہشت کشمیر کے برہمنوں کے درمیان پھیلا دی تھی انہیں ٹرکوں میں بھر بھر کے باہر بھیجا گیا۔ اس سے پورے ملک میں یہ بات پھیلی کے کشمیر کے لوگ برہمنوں کے خلاف ہیں۔ 370 کی دوسری وجہ بتائی کہ یہ بہت پسماندہ ریاست ہے۔ 370 ہٹنے کے بعد اب راستہ کھل گیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر طرح کی ترقی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی منشا دوسری ہے اسے لوگوں کے درمیان اسے واضح کرنا چاہیے۔
انیس انکور کہا کہ حکومت نے فوج کے ذریعے کشمیر میں قبضہ کر لیا ہے۔ کشمیر کو ہندوستان سے جوڑنے والا جو پل تھا وہ تھا دفعہ 370 اس پل کو حکومت نے مسمار کر دیا۔ یہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔ وہ اس لئے کہ وہاں کے عوام سے نہرو پٹیل راجندر پرساد اور تمام لوگوں نے یہ وعدہ کیا تھا وعدہ کرنے کے بعد حکومت نے وہاں کی عوام سے وہاں کی اسمبلی سے مشورہ کئے بغیر اسے ختم کردیا گیا۔ یہ غیر آئینی ہے۔
انیس انکور نے کہا کہ دفعہ 370 ہٹانے کے بعد سب سے زیادہ خوش وہ لوگ ہیں جو کشمیر میں رہ کر ہندوستان کے خلاف پاکستان نوازی کا دم بھرتے ہیں اور سب سے زیادہ وہ لوگ ٹھگا محسوس کر رہے ہیں جو 70 سالوں سے ہندوستان کا علم بلند کیے ہوئے ہیں۔ جو یہ مانتے تھے کہ کشمیر ہندوستان کا انٹیگرل حصہ ہے اور یہ ہندوستان کی حکومت ہندو عوام کے ساتھ فریب کر رہی ہے لگاتار جھوٹ بول رہی ہے۔

Leave a Reply