مودی حکومت میں ملک کی معاشی حالت لگاتار خراب ہو رہی ہے اور ماہرین معاشیات اس کو لے کر فکرمند بھی ہیں۔ اس درمیان ملک کے سینئر وکیل ہریش سالوے نے موجودہ معاشی مندی کے لیے سپریم کورٹ کو ذمہ دار ٹھہرا دیا ہے۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 2012 میں عدالت عظمیٰ نے 2 جی اسپیکٹرم کیس میں 122 لائسنسوں کو رد کر دیا تھا اور اس کے علاوہ سال 2012 میں ہی کوئلہ کی کانوں کا الاٹمنٹ بھی رد کر دیا گیا تھا۔
ہریش سالوے کا کہنا ہے کہ ان دونوں فیصلوں نے ہندوستانی معیشت پر کافی گہرا اثر ڈالا ہے۔ سالوے کے مطابق ملک کی اکونومی پر اس کا جو منفی اثر ہوا ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ باتیں انھوں نے ایک لیگل نیوز ویب سائٹ ’دی لیف لیٹ‘ سے بات چیت کے دوران کہی۔ قابل ذکر ہے کہ یہ ویب سائٹ سینئر وکیل اندرا جے سنگھ چلاتی ہیں۔
ہریش سالوے نے سپریم کورٹ کے ذریعہ 2012 میں کیے گئے 2 جی اسپیکٹرم لائسنس اور کوئلہ کان الاٹمنٹ کو رد کیے جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں مانتا ہوں کہ جو لوگ 2 جی میں غلط طریقے سے لائسنس دینے کے لیے ذمہ دار ہیں ان پر کنٹرول لگایا جانا چاہیے۔ لیکن ایک ساتھ سارے لائسنس کو رد کرنا صحیح فیصلہ نہیں تھا۔ وہ بھی تب جب اس میں بیرون ملکی سرمایہ کاری بھی ہو۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’دیکھیے، جب کوئی بیرون ملکی کمپنی یا شخص سرمایہ لگاتا ہے تو یہ قانون ہے کہ اس کے ساتھ ایک ہندوستانی پارٹنر بھی ہونا چاہیے۔ لیکن غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ان کے ہندوستانی
پارٹنر کو لائسنس کیسے ملا۔ بیرون ملکی سرمایہ کاروں نے کروڑوں روپے سرمایہ کیے، لیکن سپریم کورٹ نے ایک جھٹکے میں لائسنس رد کر دیئے۔

Leave a Reply