مسجد کی تعمیر کے لئے کسی مندر کو منہدم کئے جانے کا کوئی ثبوت نہیں، 1528 میں شرعی طریقہ سے ہوئی تھی مسجد کی تعمیر




نئی دہلی: (ملت ٹائمز) بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں روزانہ کی بنیاد پر چلنے والی سماعت کا آج 27 واں دن تھا۔ سماعت کے دوران سب سے پہلے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون کو چنئی کے پروفیسر شنمگم کی جانب سے بھیجے گئے دھمکی آمیز خط کے خلاف داخل توہین عدالت کی پٹیشن پر بحث کی اور عدالت کو بتایا کہ پروفیسر شنمگم کو عدالت کی جانب سے جاری کی گئی نوٹس مل گئی ہے جس پر اب عدالت کو کارروائی کرنی چاہئے، اسی درمیان پروفیسر شنمگم کے وکیل نے چیف جسٹس سے کہا کہ وہ عدالت اور ڈاکٹر راجیو دھون سے معذرت اور غیر مشروط معافی مانگنا چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے انہیں سخت لہجے میں کہا کہ یہ سب غیر ضروری باتیں خط میں لکھنے کی کیا ضرورت ہے ؟ کپل سبل نے عدالت سے کہا کہ ان کی منشاء یہ نہیں ہے کہ پروفیسر شنمگم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے لیکن مستقبل میں ایسا دوبارہ نہ ہو اس کے لئے انہوں نے عدالت سے رجوع کیا تھا ، اب جبکہ پروفیسر شنمگم نے عدالت اور ڈاکٹر راجیودھون سے معافی طلب کرلی ہے وہ معاملہ کو رفع دفع کرتے ہیں۔ عدالتی کارروائی کے بعدمسلم فریقوں کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کا شکریہ ادا کیاکہ عدالت نے ان کی جانب سے داخل کردہ عرضی پر مثبت کارروائی کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پروفیسر شنمگم کو معافی طلب کرنی پڑی۔راجیو دھون نے کہاکہ وہ بھی پروفیسر شنمگم کو معاف کرتے ہیں۔ ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ روز جسٹس چندر چوڑ کی جانب سے رام چبوترہ اور مسجد کے اندرونی صحن کے درمیان لگائی گئی ریلنگ کے تعلق سے پوچھے گئے سوال پر آج وہ عدالت کو مطمئن کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ گذشتہ عدالتی کارروائی کے اختتام کے بعد سے شب دیر گئے تک ان کی ٹیم نے تما م عدالتی ریکارڈ کا معائنہ اور مطالعہ کیا جس کے دوران انہیں ایک بھی ثبوت ایسا نہیں ملا جو اس بات کی تصدیق کرتا ہو کہ عقیدت مند ریلنگ کے پاس سے مسجد کے اندرونی صحن کی جانب دیکھ کر پوجا پراتھنا کیا کرتے تھے کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ رام کا جنم مسجد کے اندرونی صحن میں درمیانی گنبد کے نیچے ہوا تھا۔ اس معاملہ کی سماعت کرنے والی پانچ رکنی آئینی بینچ جس میں چیف جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس چندرچوڑ اور جسٹس عبدالنظیر شامل ہیں کو ڈاکٹر راجیو دھون نے مزید بتایا کہ 1885 سے قبل ہمیشہ سے ہندوؤں کا دعوی رہا ہے کہ رام کا جنم رام چبوترے کے پاس ہوا تھا جو مسجد کے باہری صحن میں تھا لہذا آج یہ نتیجہ اخذ کرلینا کہ عقیدت مند رام چبوترے کے پاس کھڑے ہوکر مسجد کے اندرونی صحن میں عبادت کیا کرتے تھے درست نہیں۔ ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کو مزید بتایا کہ وہ مکمل دیانتداری اور ذمہ داری سے آج عدالت میں یہ بیان دے رہے ہیں کہ مکمل عدالتی ریکارڈ کو کھنگالنے کے بعد بھی انہیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس پر جسٹس چندر چوڑ نے نتیجہ اخذ کرلیا تھا۔ دوران بحث جسٹس اشوک بھوشن اور ڈاکٹرر اجیو دھون میں اس وقت گرما گرم بحث ہوگئی جب جسٹس بھوشن نے ڈاکٹر راجیو دھون سے کہا کہ وہ گواہوں کی گواہیاں مکمل نہیں پڑھ رہے ہیں جس پر ڈاکٹر راجیو دھو ن نے عدالت کو بتایا کہ وہ فریق مخالف کا جواب دے رہے ہیں لہذا وہ عدالت میں اسی بات کا جواب دیں گے جو سوال فریق مخالف نے اٹھایا ہے نیز ان پر یہ الزام عائد کرنا کہ وہ گواہی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کررہے ہیں بے بنیاد ہے۔ ڈاکٹر راجیو دھون کو جسٹس بھوشن نے کہا کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ نہیں تھا بلکہ وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ جو گواہی ہندو فریقین نے نہیں پڑھی اس پر بھی عدالت غور کرسکتی ہے ۔ڈاکٹر راجیو دھون نے ریلنگ کے تعلق سے آج عدالت میں 13 صفحات پر مشتمل نوٹ بھی پیش کیا اور عدالت کو بتایا کہ ہندو فریق نے خود ان کی عرضداشتوں میں اس بات کا کہیں ذکر ہی نہیں کیا ہے کہ ریلنگ کے پاس کھڑے ہوکر عقیدت مند مسجد کے اندرونی صحن کی جانب دیکھ کر عبادت کیا کرتے تھے بلکہ ان کی 1885 کی عدالتی کارروائی میں رام کا جنم رام چبوترے پرہونے کا دعوی کیا گیا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ 19 جنوری 1885 کو مہنت رگھورداس کی جانب سے داخل کردہ مقدمہ میں درج کیا گیا تھا کہ ایودھیا میں رام کا جنم ہوا تھا نیز مسلمان مسجد کے اندرونی صحن میں نماز ادا کیا کرتے تھے اور باہری صحن میں چبوترے پر ہندو پوجا کیا کرتے تھے۔ڈاکٹر راجیو دھون نے آج عدالت میں ریلنگ کے تعلق سے دی جانے والی گواہی پڑھی جن میں گواہان شری رام ناتھ مشرائ، شری حوصلہ پی ڈی ترپاٹھی، شری رام تیواری، مہنت بھاسکر داس اور دیگر شامل ہیں، شری رام ناتھ نے اپنی گواہی میں اعتراف کیا تھا کہ مسجد کے باہری صحن میں واقع چبوترہ، سیتا کی رسوئی، گربھ گرہ یعنی کہ درمیان میں ریلنگ کی دوسری جانب پوجا کیا کرتے تھے ۔ ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کو بتایا کہ متذکرہ گواہوں کی گواہیوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتاہے کہ رام چبوترہ کو ہی ہمیشہ سے رام کی پیدائش کی جگہ مانا گیا ہے نیز ریلنگ کے پاس سے کھڑے ہوکر اندرونی صحن کی جانب دیکھ کر پوجا کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے لہذا جسٹس چندر چوڑ کو اپنے نظریہ پر نظر ثانی کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کو مزید بتایا کہ 1855 کے فساد کے بعد رام چبوترہ اور اندورنی صحن کے درمیان ریلنگ لگا دی گئی تھی جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ 1855 سے قبل مسجد میں نماز ادا کی جاتی تھی ۔ ریلنگ کے موضوع پر بحث مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر راجیو دھون نے مسجد پر ملنے والے نشانات پر بحث کی جن سے مسجد کی پہچان واضح ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی تعمیر بابر نے 1528 میں کرائی تھی جس کے دو اہم نشانات ہیں ایک مسجد کا ممبر اور دوسرا مسجد کا صدر دروازہ، نیز تیسری نشانی یہ ہے کہ مسجد کے اندر کلمہ لکھا ہوا ہے، ڈاکٹر راجیو دھون نے آج عدالت میں بابری مسجد کی سو سے زائد رنگین تصاویر پیش کیں اور متذکرہ نشانیوں کی نشاندہی کرائی۔ ڈاکٹر راجیو دھو ن نے عدالت میں سیاحوں مونٹے گمری مارٹین، ایڈورڈ تھرونٹن، پی کارنیجی، ڈبلیو سی بینٹ، اے ایف ملیٹ کی رپورٹ بھی پیش کی جس میں بابری مسجد کے در و دیوار نیز مسجد کے فیچرز ہونے کا ذکر کیا ہے، اسی طرح فیض آباد گزیٹیر آف ڈسٹرکٹ گزیٹیر آف یونائٹیڈ پرووینس آف آگرہ اینڈ اودھ بائی ایچ آر نیول ، فیض آباد گزیٹیر 1928 بائی نیول، اتر پردیش ڈسٹرکٹ گزیٹیرز 1960 بائی ایشیاء بسنتی جوشی، شارق آرکی یٹیچکر آف جونپور1889 بائی اے فرہر، بابر نامہ بائی اے ایس بیوریج 1921، اگریفیا انڈیکا عربک اینڈفارسی 1964 اور 1965، مغل کالین بھارت ۔ بابر مترجم سید اطہر عباس رضوی 1960 اور 2010، بک بابر ڈاکٹر رادھے شیام 1978، دو مونو مینٹل انٹی کیویٹیز اند انسکرپشنس بائی اے فرہر 1891، بابر نامہ مترجم یوگ جیت نولپوری 1974، ایودھیا کا اتہاس بائی اودھ واسی لالہ سیتارام 1932، بک ایودھیا بائی ہنس باکر کی رپورٹوں میں بھی مسجد کی در و دیوار پر مسجدکے نشانات ہونے کا

ذکر ہے۔

 ڈاکٹر راجیو دھون نے بینچ کو بتایا کہ متذکرہ دستاویزات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسجد کی تعمیر 395 ہجری میں ہوئی تھی اور مسجد کی تعمیر مندر مہند م کرکے نہیں بلکہ شریعت کے مطابق ہوئی تھی۔ ڈاکٹرر اجیو دھو ن نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے مسلم فریق کی متذکرہ دلیلوں کو بغیر کسی معقول وجہ بتائے مسترد کردیا تھا چنانچہ الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سرزد ہوئی غلطی کو عدالت کو درست کرنا چاہئے کیونکہ جسٹس اگروال نے اپنے فیصلہ میں لکھا تھا کہ 1807 تک ایسا کوئی بھی ہندو دستیاب نہیں تھا جو عربی اور فارسی پڑھ سکتا تھا جو یہ بتاسکے کہ مسجد کی تعمیر بابر نے ہی کی تھی۔ بحث کے اخیرمیں ڈاکٹر راجیو دھون نے گذشتہ دنوں جسٹس بوبڑے کی جانب سے پوچھے گئے سوال جس میں انہوں نے پوچھا تھا کہ کیا کسی دوسری مسجد پر سنسکرت زبان میں کچھ لکھا ہوا ہے کا جواب دیتے ہوئے عدالت کو بتایاکہ قطب مینار میں واقع مسجد قوت السلام مسجد پر لکھا ہے کہ مسجد کی تعمیر شری وشو کرما کی رحمتوں کی بدولت مکمل ہوئی اسی طرح اٹالہ مسجد جونپور اور لال دروازہ مسجد جونپور میں بھی سنسکرت میں لکھا ہوا ہے ۔ آج ڈاکٹر راجیو دھون کی بحث صبح کے سیشن میں ہی ہوئی ، لنچ کے بعد چیف جسٹس کی اچانک طبیعت بگڑنے کی وجہ سے عدالتی کارروائی انجام نہیں دی جاسکی ۔ آج ڈاکٹر راجیو دھون کی بحث نا مکمل رہی جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی کل تک کے لیئے ملتوی کیئے جانے کا حکم دیا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *