ممبئی: مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے میں آج بھگوا ملزمین اور ان کی مبینہ پست پناہی کرنے والی قومی تفتیشی ایجنسی NIA کو اس وقت ہزیمت اٹھانی پڑی جب ان کی جانب سے جاری مقدمہ کی سماعت بند کمرے میں یعنی کے In Camera کیئے جانے والی عرضداشت کو بم دھماکہ متاثرین کی شدید مخالفت کے بعد مسترد کردیا۔
قومی تفتیشی ایجنسی نے گذشتہ ماہ مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے کی جاری سماعت اچانک بند کمرے میں کیئے جانے کی عرضداشت خصوصی این آئی اے عدالت میں داخل کی تھی جس کی مخالفت میں سب سے پہلے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے توسط سے بم دھماکہ متاثرین نے خصوصی عدالت میں عرضداشت داخل کی۔ بم دھماکہ متاثرین کے بعد صحافیوں کی تنظیم نے بھی عدالت سے رجو ع کیا تھا۔
آج صبح گیارہ بجے خصوصی این آئی اے عدالت کے جج ونوڈ پڈالکر نے زبانی فیصلہ پڑھتے ہوئے عدالت میں موجود وکلاء، ملزمین اور صحافیوں کو بتایا کہ این آئی اے کی جانب سے داخل کردہ عرض داشت میں کوئی قانونی پہلو نہیں ہے بلکہ انہوں نے درخواست ایسے ہی داخل کردیا اور عدالت کو مطمین نہیں کیاکہ کیوں اس معاملے کی سماعت بند کمرے میں کی جائے۔
جج ونود پڈالکر نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ این آئی اے نے گواہوں کے تحفظ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے عدالت کی کارروائی بند کمرے میں کیئے جانے کی گذارش کی تھی حالانکہ اس معاملے میں ابتک 127 گواہ گواہی دے چکے ہیں اور ان میں سے ابتک کسی نے بھی عدالت میں شکایت نہیں کی ہے۔
انہوں نے اپنے فیصلہ میں مزیدکہا کہ بم دھماکہ متاثرین کے وکیل بی اے دیسائی کیجانب سے کی جانے والی بحث جس کے مطابق عدالت کو خود یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا بند کمرے میں سماعت کی جانی چاہئے یا کھلی عدالت میں اور اس معاملے میں عدالت کو لگتا ہے کہ اس معاملے کی سماعت کھلی عدالت میں ہونا چاہئے کیونکہ یہ ایک حساس معاملہ اور متاثرین کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی اس پر نظر ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ کھلی عدالت سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد بڑھے گا نیز تما م ملزمین ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں لہذا اب وہ ان کی ذمہ داری ہیکہ وہ اپنی حفاظت خود کریں نیز گواہوں کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت پر ہے۔عدالت نے 116 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ صادر کیا ہے۔
خصوصی جج نے این آئی اے کے وکیل اویناس رسال سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ ان کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت میں انہیں ایسا کچھ نظر نہیں آیاہیکہ عدالت اس معاملے کی بقیہ سماعت بند کمرے میں کرے کیونکہ انہوں نے عدالت کے سامنے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا البتہ جن گواہوں کے تحفظ کی بات کی جارہی ہے عدالت ان کے تحفظ کے لیئے حسب ضرورت اقدام کرے گی۔
آج کے عدالتی فیصلہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی این آئی اے عدالت کے فیصلہ سے ملک کے عوام کا عدلیہ پر اعتماد مضبوط ہوگا نیز بم دھماکہ متاثرین کی امید بڑھی ہے کہ انہیں انصاف حاصل ہوگا۔
گلزار اعظمی نے این آئی اے کی عرضداشت اور اس کی حمایت کرنے والی سادھوی پرگیاسنگھ ٹھاکر اور کرنل پروہت کی عرضداشت کی کامیاب مخالفت کرنے والے وکلاء سینئر ایڈوکیٹ بی اے دیسائی، شریف شیخ، انصار تنبولی، شاہد ندیم، ہیتالی سیٹھ اور دیگر کو مبارکبا د یتے ہوئے کہا کہ وکلاء کی کوششوں سے بھگوا ملزمین اور این آئی اے کے درمیان ہونے والی مبینہ سازش کو ناکام بنادیا گیا۔
انہو ں نے کہاکہ اس معاملے میں صحافیوں کی تنظیم بھی قابل مبارکباد ہے جس نے بروقت بم دھماکہ متاثرین کی حمایت اور انہیں عدالت کی رپورٹننگ سے دور رکھنے وال این آئی ا ے کی عرضداشت کی مخالفت کی اور ایڈوکیٹ رضوان مرچنٹ کے ذریعہ عدالت میں مدلل دلائل پیش کیئے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ این آئی اے نے مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے کی جاری سماعت بند کمرے میں کیے جانے کی عرضداشت داخل کی تھی اور اپنی عرضداشت میں یہ دعوی کیا تھا کہ گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کے مقصد سے عرضداشت داخل کی جارہی ہے لیکن آج خصوصی جج نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ انہیں ایسا کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ لگتا ہو کہ واقعی گواہوں کو تحفظ کی ضرورت ہے اس کے برعکس این آئی اے ایکٹ اور یو اے پی اے ایکٹ میں گواہوں کے تحفظ کو لیکر عدالت کو خصوصی اختیارات دیئے گئے ہیں لہذا وہ آج اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے عدالت کی کارروائی حسب سابق کیئے جانے کے احکامات جاری کرتے ہیں۔
انہوں نے این آئی اے کو حکم دیا کہ جمعرات کے دن سے عدالت میں گواہی کے لئے گواہوں کو پیش کیا جائے۔

Leave a Reply