سری نگر: جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی نے مرکزی حکومت سے جموں و کشمیر میں بھاری تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی اور خطے میں فوج کی قربانیوں کا سہرا اپنے سر لیتے ہوئے اسے ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا جارہا ہے۔
BJP uses the Jawan card & hijacks their sacrifices to get votes. But truth is that if Kashmiris are treated as cannon fodder, troops have become pawns to contain unrest in the valley. The ruling party doesn’t care about jawans or Kashmiris. Sole concern is winning elections
— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) October 10, 2019
محبوبہ مفتی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ جموں و کشمیر میں بلاک ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات بالکل قریب ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر جموں و کشمیر میں سب کچھ معمول کے مطابق ہے تو 9 لاکھ فوجی یہاں کیا کررہے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ‘فوج کا بنیادی مقصد سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔ فوج کو اختلافات مٹانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ بی جے پی ‘جوان کارڈ’ کھیلتے ہوئے ان کی قربانیوں کو ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کررہی ہے’۔
Reports say detainees released today were forced to sign bonds.Under what law is their release conditional as their detention was illegal itself? Many including Ms Mufti have categorically refused to sign these bonds. The govt with its rudderless approach is tying itself in knots
— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) October 10, 2019
انہوں نے کہا کہ ‘یہ حقیقت ہے کہ کشمیریوں کو توپ کے چارے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے اور فوج وادی میں بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال کی جارہی ہے۔ حکومت کو فوج یا کشمیری باشندوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ حکومت کی تمام تر توجہ انتخابات جیتنا ہے’۔
جموں و کشمیر میں بلاک ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات 24 اکتوبر کو صبح 9 بجے تا 1 بجے تک منعقد ہوں گے اور ووٹوں کی گنتی اسی دن دوپہر 3 بجے سے کی جائے گی۔
واضح رہے کہ وادی میں یہ پہلے انتخابات ہیں جو دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد منعقد ہورہے ہیں۔

Leave a Reply